شوہر کی وراثت سے بیوی کو حق نہ دینے کا حکم

    shohar ki wirasat se biwi ko haq na dene ka hukum

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1187

    سوال

    نصر اللہ کا انتقال ہوا ۔ اسکے ورثاء میں والد ، ایک بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ اسکے ترکہ میں جو کہ اسکی ذاتی جائیداد تھی ایک 2 منزلہ مکان، اور جس کمپنی میں کام کرتا تھا اس سے ملنے والی رقم جو کہ 5 لاکھ روپے ہے۔نصر اللہ کے بھائیوں کا کہنا ہے ، بھائی کا سب کچھ ہمارا ہے مکان خالی کرو اور پیسے بھی ہمیں دو۔ شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے ارشاد فرمائیں۔

    سائل:فتح محمد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نصر اللہ کے بھائیوں کا دعوٰی محض غلط ، خلاف شرع، اور اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے ۔ شوہر کی وراثت سے بیوی اور اسکے بچے ضرور حصہ پائیں گے ۔ کوئی بھی شخص ان کے حق کو روک نہیں سکتا کہ جب خود اللہ تعالٰی نے انکا حق مقرر فرمایا تو زیدو عمر کون ہیں جو انکے حق کو روک کر اپنے لئے خود ساختہ حق ثابت کریں ۔ اللہ انہیں ہدایت عطافرمائے۔

    اگرشوہر کا انتقال ہوجائے تو بیویوں کا کتنا حصہ ہوگااس بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    اور بیٹے ،بیٹیوں کے حصہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    (النساء : آیت نمبر 10)

    وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے،ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،بالخصوص عورتوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شرع شریف کے نزدیک سخت گناہ اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ ( سورۃ الفجر آیت 17تا 25)

    شوہر بھائیوں نے اگر وراثت میں سے انکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ، اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ،بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    خلاصہ یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے نصر اللہ کی وراثت اسکے بیوی بچوں اور اسکے والد میں تقسیم ہوگی جسکی تفصیل یہ ہے کہ انکی کل وراثت (دومنزلہ مکان اور 5 لاکھ رقم) کو 120 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے 20 حصے والد کو، 15 حصے بیوی کو، 34،34 حصے ہر بیٹے کو الگ الگ اور 17 حصے بیٹی کو ملیں گے۔

    نوٹ : فائدہ : وراثت کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 120 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو محفوظ کرلیں پھر محفوظ عدد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 رجب المرجب 1441 ھ/10 مارچ 2020 ء