shohar aur biwi ke mushtarka maal ka hukum
سوال
میری بہن رشیدہ کا انتقال ہوگیا ہے ، اس سے دو سال پہلے انکے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ دونوں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔شوہر کےورثاء میں03 بھائی اور02 بہنیں اور ہیں ۔اور بیوی کے ورثاء میں بھی03 بھائی،02 بہنیں ہیں ۔ دونوں کے والدین نہیں ہیں۔شوہر کے ترکہ میں ایک مکان ہے جسکی قیمت ڈیڑھ کڑور ہے،اسکی تعمیرات میں 30 لاکھ روپے بیوی نے لگائے ۔ اور بیوی کے ترکہ میں 21 لاکھ روپے کیش اور سونا ہے اسکی شرعی تقسیم کیسے ہوگی۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل:حبیب :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو آپکی بہن اورانکے شوہر کا مال وراثت انکے اپنے اپنے ورثاءمیں تقسیم کیا جائے گا ۔ شوہر کے مال وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مکان متروکہ (یعنی جو مکان شوہر نے چھوڑا)کی قیمت لگوالیں اوربیوی نے جورقم تعمیرات میں لگائی ،اگر واپس لینے کی صراحت کی تھی ،تو اس قیمت میں سے سب سے پہلے اتنی رقم منہا کرلیں ،اسکے بعد جو رقم بچے اس رقم کو شوہر کے تمام ورثاء میں بشمول بیوی کے انکے شرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیا جائے گا ۔اور اگر بیوی نے واپس لینےکی صراحت نہیں کی تو وہ رقم انکی طرف سے تبرع ہوگی ،کل قیمت سے اس رقم کو منہا نہیں کیا جائے گا بلکہ کل قیمت ورثاء میں تقسیم ہوگی۔تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر کے مال وراثت یعنی مکان کی جو قیمت بنے اسکو 64 حصوں میں تقسیم کرلیں جس میں سے انکی بیوی کو 08 حصے ،شوہر کےہربھائی کو14 حصے اور ہر بہن کو 07 حصہ ملیں گے۔
یوں ہی آپکی بہن کا مال وراثت(21 لاکھ روپے کیش ،سونا،شوہر کی وراثت سے جو کچھ ملے اور تعمیرات کی رقم اگر بنتی ہے تو)سب مال انکےورثاءمیں تقسیم کیا جائے گا ، اس طرح کہ اس تما مال وراثت کو 08 حصوں میں تقسیم کیاجائے گا، جس میں سے ہربھائی کو 02 حصے اور ہر بہن کو 01 حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم کو مبلغ یعنی8 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ربیع الاول 1441 ھ/19 نومبر 2019ء