حج دو ہزار چھبیس پالیسی قربانی کا حکم

    hajj 2026 policy qurbani ka hukum

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 64
    حوالہ: 1189

    سوال

    حج 2026 کی گورنمنٹ پالیسی کے مطابق حاجی کی قربانی گورنمنٹ پیکج میں شامل ہے اور یہ کوئی اختیاری شمولیت نہیں بلکہ اجباری ہے کیونکہ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی کو پرائیویٹ قربانی کی اجازت نہیں ہے، دریافت طلب امر یہ کہ جبکہ یہ قربانی اجباری ہے اور اس کی رقم بھی کاٹ لی گئی ہے تو ایسی صورت میں گورنمنٹ کی طرف سے کی جانے والی قربانی پر اکتفا کرنا اور گورنمنٹ نمائندے کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے حلق کروانا اور احرام کی پابندیوں سے باہر آنا جائز ہوگا یا نہیں؟

    سائل: محمد بلال شیخ :حیدرآباد سندھ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حج قران یا حج تمتع کرنے والے افراد کے ذمہ شکرانے کے طور پر حج کی قربانی واجب ہے، جسکے لئے دو امور لازم ہیں:

    1: جانور میں وہ تمام شرائط پائی جائیں جوعام قربانی کےجانور کے لئے لازم ہیں یعنی بکرے یا بکری کی کم از کم عمر ایک سال ہو ، گائےوغیرہ کی از کم دوسال، جبکہ اونٹ کی کم از کم پانچ سال۔نیز یہ جانور عیب سے پاک ہوں۔

    2: قربانی کے بعد حلق کا ہونا اور یہ ترتیب واجب ہے ۔یعنی حاجی کی جانب سے پہلے قربانی کی جائے، بعد ازاں وہ حلق کروائے۔

    لہذا اگر کورنمنٹ کی جانب کی جانی والی قربانی میں یقینی طور پر ان دونوں امور کا لحاظ رکھا جائے تو بلاشبہ اس قربانی پر اکتفا کرنا ، گورنمنٹ نمائندے کی خبر پر اعتماد کرنا جائز ہوگا جسکے بعد حاجی کے لئے احرام کی پابندیوں سے باہر آنا جائز ہے۔

    لیکن اگر معلوم نہ ہو سکے جیسا کہ عرف ہے کہ وہاں لاٹ کے لاٹ خریدے جاتے ہیں جس میں قربانی کی شرائط کی رعایت مشکل ہوتی ہے۔یونہی گورنمنٹ والےقربانی اور حلق میں ترتیب کے واجب ہونے کا لحاظ نہیں رکھتے، چنانچہ وہ لاکھوں انسانوں کو حلق کروا کر احرام کھولنے کا ایک ہی وقت دے دیتے ہیں، جب کہ ایک وقت میں اتنی بڑی تعداد میں قربانی، قریبًا ناممکن ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ترتیب کا لحاظ ہی نہیں رکھتے ہیں،لہذا اگر جانور مذکورہ شرائط کا حامل نہ ہو تو حاجی کی قربانی ادا نہ ہوگی یونہی اگر حاجی قربانی سے قبل حلق کراوا دے تو اس صورت میں ترکِ واجب کے سبب اس پر دم لازم ہو گا۔

    لیکن اس صورت میں ہزاروں لاکھوں افراد کو ایک حکومتی انتظامی فیصلے کی وجہ سے دم کا مکلف کرنا پڑے گا جو کہ خود ایک کارِ مشقت ہے، پھر جب اتنے لوگ دم دیں گے تو اس صورت میں وہی علت و وجہ یہاں بھی موجود ہوگی کہ دم بھی حکومتی انتظامات کے تحت '' نسک پورٹل '' پر موجود '' اضاحی پروجیکٹ'' پر ہی ممکن ہے اور یہاں وہیں خرابی لازم آسکتی ہے جس کی وجہ سے دم کا لزوم کیا گیا ہے۔

    لہذا جب ہم کتب فقہ میں غور و خوض کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں بعض واجباتِ حج ایسے ہیں جن کو کسی عذر کی بناء پر ترک کردینے سے دم لازم نہیں ہوتا،جیساکہ اگرکوئی شخص نہایت ضعیف یا بیمار ہو یا عورت بھیڑ کی وجہ سے واجب وقوفِ مزدلفہ ترک کردے اورصبح صادق سے قبل ہی مزدلفہ سے منیٰ چلی جائے، تو ایسے لوگوں پر وقوفِ مزدلفہ چھوڑدینے سے کوئی دم وغیرہ لازم نہ ہوگا۔

    البحر الرائق میں ہے: وقدمنا أنه واجب، وصرح في الهداية بسقوطه للعذر بأن يكون به ضعف أو علة أو كانت امرأة تخاف الزحام لا شيء عليه۔ترجمہ: اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ (وقوفِ مزدلفہ) واجب ہے، اور ہدایہ میں عذر کی وجہ سے اس کے ساقط ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ بایں طور کہ اگر کسی کو کمزوری یا بیماری ہو، یا وہ ایسی عورت ہو جسے ہجوم کا ڈر ہو، تو (اس کے ترک کرنے پر) اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، جلد 2 ص 368)

    ہدایہ کی عبارت یہ ہے: وإنما عرفنا الوجوب بقوله عليه الصلاة والسلام " من وقف معنا هذا الموقف وقد كان أفاض قبل ذلك من عرفات فقد تم حجه " علق به تمام الحج وهذا يصلح أمارة للوجوب غير أنه إذا تركه بعذر بأن يكون به ضعف أو علة أو كانت امرأة تخاف الزحام لا شيء عليه لما روينا۔ ترجمہ: اور ہم نے اس (وقوفِ مزدلفہ) کا واجب ہونا نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے پہچانا ہے کہ جس نے ہمارے ساتھ اس مقام (مزدلفہ) میں قیام کیا اور وہ اس سے پہلے عرفات سے ہو کر آیا ہو، تو یقیناً اس کا حج مکمل ہو گیا۔ آپ ﷺ نے حج کی تکمیل کو اس (قیام) کے ساتھ جوڑ دیا ہے، اور یہ بات اس کے واجب ہونے کی علامت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔البتہ، اگر کسی نے اسے کسی عذر کی وجہ سے چھوڑ دیامثلاً اسے کمزوری یا بیماری ہو، یا وہ ایسی عورت ہو جسے ہجوم کا ڈر ہو تو اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا،اس دلیل کی بناء پر جسے ہم روایت کرچکے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، جلد 1 ص 144)

    بلکہ اگر عذر کے سبب کوئی حاجی کسی واجب کو ترک کردے تو اس صورت میں اس پر کچھ دم لازم نہیں ،چناچہ بحر ہی میں آگے ہے:وسيأتي في الجنايات أن هذا لا يخص هذا الواجب بل كل واجب إذا تركه للعذر لا شيء عليه۔ترجمہ: اور جنایات میں یہ بات عنقریب آئے گی کہ یہ (رعایت) صرف اسی واجب کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر وہ واجب جسے کسی عذر کی بنا پر چھوڑ دیا جائے، تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا۔(ایضاً البحر ۔ )

    علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وكذا كل واجب إذا تركه بعذر لا شيء عليه كما في البحر۔ ترجمہ:یونہی ہر واجب جسے کسی عذر کی بنا پر چھوڑ دیا جائے، تو اس پر کچھ لازم نہیں آتا ، جیساکہ بحر میں ہے۔(ردالمحتار مع الدر،جلد2 ص 512)

    سو جب یہ معلوم ہوگیا کہ عذر کے سبب واجب ساقط ہونے سے حاجی پر کچھ لازم نہیں تو صورتِ مانحن فیہ میں جب حکومت کی جانب سے قانونی طور پر پرائیویٹ قربانی پر پابندی لگا دی جائے اور حاجی کے پاس اپنی مرضی سے ذبح کرنے یا ذبح کی جگہ پر موجود رہنے کا کوئی راستہ نہ بچےتو اس صورت میں حاجی گو رنمنٹ کی طرف سے کی جانے والی قربانی پر اکتفا کرتے ہوئے گورنمنٹ نمائندے کی خبر پر اعتماد کرکے حلق کروالے ، پھر اس صورت میں اگر ترتیب قائم نہ بھی رہے تو حرج نہیں کہ جب حکومت نے قانونی طور پر حاجی سے اختیار چھین کر اسے ایک اجباری نظام کا پابند کر دیا ہے تو اب حاجی اپنی مرضی سے ذبح کے وقت کا تعین نہیں کر سکتا۔ ایسی صورت میں "ترتیب" کی رعایت کرنے کے سلسلے میں حاجی معذور ہے لہذا اسی عذر کا اعتبار کرتے ہوئے اس پر دم کا حکم نہیں کیا جائے گا۔

    مزید برآں، فقہی طور پر "حرج" کو دفع کرنا مقاصدِ شریعت میں سے ہے، اگر لاکھوں حجاج کو انفرادی قربانی پر مجبور کیا جائے یا سرکاری تاخیر کی وجہ سے انہیں احرام میں مقید رکھا جائے تو یہ "حرجِ عظیم" ہوگا جس سے بچنا واجب ہے۔ کہ شریعت نے حرج کو دفع کیا ہے ۔اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اور اس نے تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ ( الحج: 78)

    رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:الْحَرَجَ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ،ترجمہ: نص قرآن کی وجہ سے حرج کو دور کیا گیا ہے۔( رد المحتار علی الدرالمختار، باب التیمم جلد 1 ص234)

    پھر فقہ کا قاعدہ ہے:أَنَّ الْأَمْرَ إذَا ضَاقَ اتَّسِعَ۔ ترجمہ: جب کسی معاملے میں تنگی پیدا ہوجائے تو اس میں وسعت کر دی جاتی ہے۔( الاشباہ والنظائز لابن نجیم ص 72)

    بالخصوص اس صورت میں کہ جب فقہِ حنفی میں ایک قول وجوب ترتیب کے برخلاف سنت ترتیب کا موجود ہے، چناچہ صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک قربانی اور حلق میں ترتیب واجب نہیں لہذا خلافِ ترتیب کی صورت میں دم لازم نہیں ہوگا،چناچہ مبسوطِ سرخسی میں ہے: وعلى هذا من قدم نسكا على نسك كأن حلق قبل الرمي أو نحر القارن قبل الرمي أو حلق قبل الذبح فعليه دم عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعندهما لا يلزمه الدم بالتقديم، والتأخير، وحجتهما في ذلك حديث ابن عباس - رضي الله عنه - «أن رجلا قال لرسول الله - صلى الله عليه وسلم - يوم النحر حلقت قبل أن أرمي فقال ارم ولا حرج، وقال آخر حلقت قبل أن أذبح فقال اذبح ولا حرج، وما سئل عن شيء يومئذ قدم أو أخر إلا قال افعل ولا حرج» فدل أن التقديم والتأخير لا يوجب شيئا۔ ترجمہ: اور اسی بنا پر جس نے ایک منسک کو دوسرے منسک پر مقدم کر دیا جیسے رمی سے پہلے سر منڈوا لیا یا قارن نے رمی سے پہلے قربانی کر لی یا ذبح سے پہلے سر منڈوا لیا تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک اس پر دم لازم ہے اور صاحبین کے نزدیک تقدیم و تاخیر سے دم لازم نہیں آتا اور اس بارے میں ان دونوں کی دلیل، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے یوم النحر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب رمی کر لو اور کوئی حرج نہیں اور دوسرے نے عرض کیا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں اور اس دن آپ سے جس چیز کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کر لو اور کوئی حرج نہیں پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تقدیم و تاخیر سے کچھ لازم نہیں آتا۔(مبسوطِ سرخسی، جلد 4 ص 41)

    یونہی بدائع میں ہے: وإن كان قارنا أو متمتعا يجب عليه أن يذبح ويحلق ويقدم الذبح على الحلق لقوله تعالى: {ويذكروا اسم الله في أيام معلومات على ما رزقهم من بهيمة الأنعام فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير} {ثم ليقضوا تفثهم}رتب قضاء التفث، وهو الحلق على الذبح. وروي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «أول نسكنا في يومنا هذا الرمي ثم الذبح ثم الحلق وروي عنه - صلى الله عليه وسلم - «أنه رمى ثم ذبح ثم دعا بالحلاق» ، فإن حلق قبل الذبح من غير إحصار فعليه لحلقه قبل الذبح دم في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف، ومحمد، وجماعة من أهل العلم: أنه لا شيء عليه، وأجمعوا على أن المحصر إذا حلق قبل الذبح أنه تجب عليه الفدية، احتج من خالفه بما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - «أنه سئل عن رجل حلق قبل أن يذبح فقال: اذبح، ولا حرج» ، ولو كان الترتيب واجبا لكان في تركه حرج۔ترجمہ: اور اگر وہ قارن یا متمتع ہو تو اس پر واجب ہے کہ ذبح کرے اور سر منڈوائے اور ذبح کو حلق پر مقدم کرے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ اور وہ اللہ کا نام یاد کریں معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر جو اس نے انہیں عطا فرمائے پس تم ان میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور یہاں میل کچیل دور کرنے یعنی حلق کو ذبح پر مرتب کیا گیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ہمارے آج کے دن کا پہلا منسک رمی ہے پھر ذبح پھر حلق اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے رمی کی پھر ذبح کیا پھر حجام کو بلوایا پس اگر کسی نے بغیر احصار کے ذبح سے پہلے سر منڈوا لیا تو امام ابو حنیفہ کے قول میں ذبح سے پہلے حلق کرنے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہے جبکہ امام ابو یوسف اور امام محمد اور اہل علم کی ایک جماعت نے کہا کہ اس پر کچھ لازم نہیں اور انکا استدلال اس حدیث سے ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ذبح سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب ذبح کر لو اور کوئی حرج نہیں اور اگر ترتیب واجب ہوتی تو اس کے چھوڑنے میں حرج ہوتا۔(بدائع الصنائع ، جلد 2 ص 158)

    لہذا جب خود مذہبِ حنفی کے جلیل القدر ائمہ، امام ابو یوسف اور امام محمد (صاحبین) رحمہما اللہ کا موقف اس کے برعکس ہے کہ یہ ترتیب سنت ہے اور اس کی تقدیم و تاخیر سے کوئی دم یا جرمانہ لازم نہیں آتا، تو جب حاجی ایک ایسے سرکاری نظام کا پابند ہو جہاں اسے ذبح کے صحیح وقت کا علم ہونا ناممکن ہو، تو ایسی شدید مجبوری اور عذر کی حالت میں صاحبین کے قول پر فتویٰ دیکراس شدید ضرورت اور حرج کے وقت صاحبین کے قول پر عمل کرنے کی اجازت دینی چاہئے،نتیجتاً حاجی پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا اور اس کا حج بلا کراہت مکمل تصور کیا جائے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 رمضان المبارک 1447ھ/ 05 مارچ 2026 ء