مقتدی درود شریف پڑھ رہا ہو اور امام سلام پھیر دے تو کیا حکم؟

    Muqtadi Durood Shareef Parh Raha Ho Aur Imam Salam Pir De To Kya Kare

    تاریخ: 20 اپریل، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 1190

    سوال

    ایک مقتدی امام کے ساتھ نماز کی پہلی رکعت میں شامل ہوا اور آخر تک شامل رہا لیکن وہ آخری قعدے میں درود شریف پڑھ رہا تھا کہ امام صاحب نے تشہد ،درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیا جبکہ اس مقتدی نے امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی بجائے اپنا درود شریف اور دعا پڑھ کر امام کے کچھ دیر بعد سلام پھیرا تو پوچھنا یہ تھا کہ مذکورہ صورت میں مقتدی کی نماز ہوگئی یا واجب الاعادہ ہوگی ؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مقتدی تشہد مکمل کر لے اور امام سلام پھیر دے، تو مقتدی کو بھی فوراً سلام پھیر دینا چاہیے، خواہ درود و دعا بالکل نہ پڑھی ہو یا ادھوری ہو۔ چونکہ امام کی اتباع واجب ولازم ہے اور درود و دعا سنت ہیں، اس لیے کسی واجب یا فرض کی رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں امام کے ساتھ ہی نماز ختم کرنا ضروری ہے۔صورت مستفسرہ میں نماز ہوگئی لیکن مقتدی کا عمل درست نہیں ۔