سوال
ایک شخص نے جنازہ گاہ کی پارکنگ کے لئے جگہ وقف کی، اب اس جگہ کسی ایک کونے میں واقف کی اجازت سے مقدس اوراق کے لئے جگہ مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ مفتی صاحب ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:محمدابراہیم:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وقف کرتے وقت اگر واقف نے تبدیلی کی شرط نہیں لگائی ،اور وقف کردیا توتمامیتِ وقف کے بعد اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کرنا شرعاًجائز نہیں ہے۔لازم ہے کہ وقف کو اسی حالت پر باقی رکھا جائے ۔عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)
یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
فتاوٰی رضویہ میں سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں: شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایک دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔سراج وہاج وفتاوٰی عالمگیری وغیرہما میں ہے: لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف۔ترجمہ:وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں، لہذا مکان کو باغ، سرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گامگر اس وقت یہ تبدیلی ناجائز نہ ہوگی جب واقف نے خود متولی کو اختیار دیا ہو کہ مصلحت کےلئے جو تبدیلی بہتر سمجھیں کرلیں۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الوقف، جلد 16 ص54، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:24ربیع الثانی 1442 ھ/10 دسمبر 2020 ء