لے پالک کے حصہ کا شرعی حکم

    le palak ke hissay ka sharai hukum

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1208

    سوال

    میرا نام الوینہ ہے، میں اور میرا بھائی دوونوں لے پالک ہیں ، ہمارے والدین جنہوں نے ہمیں پالاوہ اب حیات نہیں ہیں۔اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ یہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں آپ دونوں کا آدھا آدھا ہے۔یہ گھر جس میں ہم رہتے ہیں یہ میری والدہ کے نام ہے جنہوں نے ہمیں پالا ہے۔ اور ہم اسکو اپنے نام کروانا چاہتے ہیں لیکن اس گھر کے کاغذات میرے ماموں کے نام پر ہیں وہ دینے کے لیے تیار نہیں برائے کرم اس کا جواب دیں کہ ہم وہ گھر اپنے نام کرواسکتے ہیں یا نہیں؟

    سائلہ:الوینہ :پشاور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپ کا سوال مبہم ہے ، سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ شریعت کے اعتبار سے لے پالک کا اسکی وراثت سےکوئی حصہ نہیں ہے جس نے انکو پالا ہے ، لیکن اگر پالنہار وصیت کرجائے تو وہ وصیت انکے حق میں درست ہے اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت پوری کی جائے گی ۔ لیکن اگر موصٰی بہ(جس چیز کی وصیت کی گئی ہے ) کل مال کے ایک ثلث سے زائد ہو تو اس وقت میت کے دیگر ورثاء (میت کی بہن ،بھائی ،اگر نسبی اولاد ہے تو وہ اولاد) کی رضامندی سے ایک ثلث سے زائد میں بھی وصیت نافذہوجائےگی۔لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ دونوں کو انکی وراثت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا البتہ انہوں نے جو وصیت کی تو وہ انکی وراثت کے ایک تہائی میں نافذ ہوگی ۔بخاری شریف میں ہے:عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، قَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: «فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ،:ترجمہ: سعدبن ابی وقاص نےبیان کیاکہ نبی کریمﷺمیری عیادت کو تشریف لائے میں اس وقت مکہ میں تھا۔ حضور اکرمﷺاس سر زمین پرموت کوپسندنہیں فرماتےتھےجہاں سےکوئی ہجرت کر چکاہو۔آنحضورﷺنےفرمایا:اللہ ابن عفراء( سعد بن خولہ رحمہ اللہ ) پررحم فرمائے۔ میں عرض کیایارسول اللہ ﷺمیں اپنےسارےمال ودولت کی وصیت کردوں۔ آپﷺنےفرمایا کہ نہیں میں نےپوچھا پھرآدھےکی کردوں؟آپﷺنےاس پربھی یہی فرمایا کہ نہیں، میں نے پوچھا پھرتہائی کی کردوں۔ آپ ﷺنےفرمایاتہائی کی کرسکتے ہواوریہ بھی بہت ہےاگرتم اپنےوارثوں کواپنے پیچھےمالدارچھوڑوتویہ اس سےبہترہےکہ انہیں محتاج چھوڑوکہ لوگوں کےسامنےہاتھ پھیلاتے پھریں۔(بخاری، باب ان یترک ورثتہ الاغنیاء حدیث نمبر 2742)

    تنویر الابصار میں ہے (وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ) ترجمہ: اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے۔ مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے ) کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 رجب المرجب 1440 ھ/16 مارچ 2019 ء