masla warasat munasakha do batn
سوال
ہمارے والد صاحب کا مکان تھا ، انکا انتقال ہوگیا ۔ اس وقت والدہ، 6 بیٹیاں(شکیلہ،عقیلہ،فہمیدہ،فریدہ، شمع،شگفتہ) اور دو بیٹے (شکیل،عمران)حیات تھے۔بعد ازاں ایک بیٹے شکیل کا انتقال ہوا، انکی اولاد نہ تھی جبکہ بیوی کو طلاق دے چکے تھے۔ پھر ایک بیٹی شکیلہ کا انتقال ہوااسکے ورثاء میں 4 بیٹیاں (شائستہ، شازیہ،نازیہ، ثناء ) اور 2 بیٹے (عرفان، فیضان) ہیں۔جبکہ شوہر کا پہلے انتقال ہوگیا۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد مکان کے کاغذات میں تین لوگوں کا نام ہے والدہ، بہن اور بھائی کا۔ مکان کی قیمت 1 کروڑ 40 لاکھ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ مکان صرف ان لوگوں کا ہے یا سب کا؟ اگر ہم سب بہنیں ان تین لوگوں کے حق میں دستبردار ہوجائیں تو کیا شرعی حکم ہے۔ نیز تقسیم میں ہر ایک کے حصہ میں کتنی رقم آئے گی۔
سائلہ:فریدہ احمد : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت یعنی مکان کو 3072حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،ہر ایک وارث کے حصہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
کل حصے: 3072
ہر وارث کا حصہ:
فاطمہ عقیلہ، فہمیدہ، فریدہ، شمع، شگفتہ عمران شائستہ، شازیہ، نازیہ، ثناء عرفان فیضان
440 336 336 336 336 336 672 35 35 35 35 70 70
ہر وارث کارقم کی صورت میں حصہ:
فاطمہ: 2005208 عقیلہ: /=1531250 فہمیدہ: /=1531250 فریدہ: /=1531250
شمع: /=1531250 شگفتہ: /=1531250 عمران: /=3062500 شائستہ: 159505
شازیہ: 159505 نازیہ: 159505 ثناء: 159505/= عرفان: 319010
فیضان: 319010
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ۔ ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 10، 11)
اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب