والدہ کی وراثت کا حکم

    walida ki warasat ka hukum

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1213

    سوال

    ہماری والدہ(خورشید بی بی) نے ایک پلاٹ خریدا تھا ، جس میں ہم دو بھائی(پرویز، مبین) والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے جبکہ بہن(مہ جبین) کی شادی ہوگئی ۔ جب انہوں نے بنانا شروع کیا تو اس وقت پیسے کم پڑگئے تو چھوٹے بھائی نے گراؤنڈ فلور بنانے کیلئے کچھ رقم دی،اور اس وقت کچھ نہیں کہا کہ یہ رقم قرض ہے یا شرکت ، بس جیسے بڑوں کو دی جاتی ہے ویسے دے دی۔ پھر ہم اس میں 3سال رہتے رہے بعد ازاں اسکے اوپر چھوٹے بھائی نے سب کی اجازت سے فرسٹ فلور بنوایا جہاں وہ اپنی فیملی سمیت رہنے لگا بعد ازاں سیکنڈ فلور میرے سسر نےسب کی اجازت سے بنوایا اور وہ وہاں رہنے لگے، یاد رہے ہم دونوں بھائیوں کی بیویاں سگی بہنیں ہیں ۔پھر سسر(محمد علی) کا انتقال ہوگیا انکا ایک بھائی(بشیر) اور دو بیٹیاں (عالیہ، عذرا) حیات ہیں۔ انکے انتقال کے بعد سیکنڈ فلور ہم نے کرائے پر دے دیا اور اسکا کرایہ باہمی طور پر برابر، برابر تقسیم کرلیتے ہیں ۔ والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے اب ہم اس گھر کو بیچ کر حصے کرنا چاہتے ہیں کتنے حصے ہونگے؟ نیز چھوٹے بھائی نے جو رقم لگائی اسکا کیا حکم ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: محمد پرویز خان: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں دوامور ہیں:

    1: چھوٹے بیٹے کے دیئے گئے پیسوں اوروالدہ کے مکان کی تقسیم :

    2: پلاٹ پر کی گئی تعمیرات کا حکم۔

    1: چھوٹے بیٹے کے دیئے گئے پیسوں اوروالدہ کے مکان کی تقسیم :

    گراؤنڈ فلور میں چھوٹے بیٹے کی دی گئی رقم از راہِ تبرع ہے یعنی وہ رقم انہیں واپس نہیں ملے گی بلکہ گراؤنڈ فلور مکمل ورثاء میں انکےشرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگا، جس میں کل 5 حصے ہونگے جس میں سے ہر بیٹے (پرویز، مبین)کودو دو حصے جبکہ بیٹی (مہ جبین ) کوایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    اگر کسی نے دوسرے کے ساتھ مال ملایا اور قرض یا شرکت کی صراحت نہیں کی تو یہ اسکی جانب سے تبرع ہوگا۔جیساکہ امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں:صَرف ِشادی کامطالبہ صرف دختر سےنہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سےٹھہرالیاہوکہ ہم یہ ساراصَرف تیرےحساب میں مجرالیں گے،وذٰلک لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلک وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختاروالعقود الدریۃ۔ترجمہ:یہ اسلئےہےکہ وہ اس میں مجبورنہیں تھےنہ اسکی یہ سبیل ہےلہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائےگاسوائےاس کےکہ اس نےرجوع کی شرط کی ہوجیساکہ کوئی اجنبی میت کوکفن پہنائےیاکسی کی اجازت کےبغیراس کاقرض اداکردے۔ یہ دونوں مسئلےدرمختاراورعقودالدریہ میں مذکورہیں۔(فتاوی رضویہ :ج26،ص 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ ترجمہ:کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)

    2: پلاٹپر کی گئی تعمیرات کا حکم۔

    فرسٹ فلور خالصتاً چھوٹے بیٹے کا ہوگا جبکہ سیکنڈ فلور خالصتاً سسر( محمد علی) کا ہوگا جوکہ اب انکے ورثاء ایک بھائی دو بیٹیوں میں تقسیم ہوگا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ سیکنڈفلور کے کل 3 حصے ہونگے جس میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔

    میت کا بھائی عصبہ ہے ، عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے ۔جیساکہ سراجی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ۔ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)

    یونہی قریبی عصبہ دیگردور والے عصبات کو محروم کردے گا لہذا ایک بھائی کی موجودگی میں دوسرے مرحوم بھائیوں کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔

    تعمیرات کے بارے میں سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے مکان بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

    الاشباہ مع حموی کے الفاظ یہ ہیں : كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَالْبِنَاءُ لِمَالِكِهَا۔ترجمہ:جس نے غیر کی زمین میں اسکی اجازت سے تعمیرات کی تو تعمیرات مالک ِ زمین کی ہوگی۔ (حاشیۃ الحموی علی الاشباہ ، ج 2 ص 100)

    نوٹ: گھر کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مکمل جگہ عمارت سمیت کی ویلیو نکلوالیں بعد ازاں گراؤنڈ فلور مع زمین کی الگ ویلیو نکلوائیں دونوں قیمتوں میں جو تفاوت آئےوہ عمارت کی رقم کہلائے گی مثلا کل جگہ مع عمارت 50 لاکھ کی ہے جبکہ گراؤنڈ فلور مع زمین 30 لاکھ ہے تو بقیہ دونوں فلور ز کی قمیت 10 ، 10 لاکھ قرار پائے گی۔یوں وراثت کی تقسیم محض 30 لاکھ میں ہوگی۔ اور فلور کی قیمت بنوانے والوں کی ہوگی اگر وہ بھی فوت ہوجائیں تو انکے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 محرم الحرام 1446ھ/ 27 جولائی 2024 ء