مسئلہ وراثت مناسخہ تین بطن

    masla warasat munasakha teen batn

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1214

    سوال

    ہمارے والد(علی رضا) کا آج سے 20 سال قبل انتقال ہوا اور مکان ان کے نام ہے ، انکے انتقال کے وقت انکی زوجہ(نصیبہ) چار بیٹے (عارف، قاسم، آصف اور ناظم)اور ایک بیٹی(روشن آراء) حیات تھے اسکے بعد چھوٹے بھائی (ناظم ) کا انتقال ہوا۔ اسکے ورثاء میں ایک بیوی(گڑیا) والدہ( نصیبہ) ایک بیٹا(یاسر) اور ایک بیٹی(مہک)ہے پھر ہماری والدہ( نصیبہ) کا انتقال ہوا۔ انکے ورثاء میں تین بیٹے (عارف، قاسم، آصف)اور ایک بیٹی(روشن آراء) موجود ہیں ۔ مکان کی تقسیم کیسے ہوگی،کل قیمت 66 لاکھ ہے۔ ہر ایک کا کیا حصہ ہوگا۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:آصف: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)

    وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينهترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)

    وراثت کی تفصیل اور تقسیم :

    جائیداد میں جو مکان ہے،اسکی موجودہ ویلیو نکلوائی جائے پھر دیکھا جائے کہ ان پر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائےگا، قرضہ جات ادا کرنے کے بعددیکھا جائے گا کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو باقی ماندہ کے ایک تہائی مال سے وصیت پوری کی جائے گی اسکے بعد جو کچھ بچے،وہ ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کےکل 18144حصے کئے جائیں گے جس میں سے عارف،قاسم،آصف میں سے ہر ایک کو الگ الگ 4344 حصے ،روشن آراء کو 2172حصے،گڑیا کو 441 حصے،یاسر کو 1666حصے جبکہ مہک کو833 حصے ملیں گے۔رقم کی صورت میں عارف،آصف اور قاسم میں سے ہر ایک کو الگ الگ 1580130 روپے ملیں گے۔روشن آراء 790068 روپے ملیں گے۔گڑیا کو 160413روپے ملیں گے۔یاسر کو 606007 روپے ملیں گے جبکہ مہک کو303003 روپے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالٰی:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:03 صفر المظفر 1442 ھ/21 دسمبر 2020 ء