maal warasat par qabza karne ka hukum
سوال
1: ہمارے نانا(مُہیم خان) کے والد کے دو بیٹے تھے ایک نانا اور انکے بھائی(شیر محمد)، والد کی وفات کے بعد نانا نے کھیتی کی زمینیں سنبھالی جبکہ نانا کے بھائی گورنمنٹ ٹیچر تھے ، گھر بھی والد کا تھا جس میں مشترکہ رہتے تھے گھر کا سارا خرچ راشن، کھانا وغیرہ مشترکہ تھا کیونکہ میرے نانا بھی کھیتی باڑی سے جو کماتے اپنے بھائی کو لاکر دیتے اور وہ سب خرچ چلاتے تھے کھیتی باڑی سے پیسے زیادہ ملتے تھے ، ان پیسوں میں سے ہی میرے نانا کے بھائی نے چپکے سے ایک پلاٹ لیا جو کہ 3000 فٹ تھا اورناناکو بتایا تک نہیں حتی کہ نانا کا انتقال ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ اس پلاٹ میں نانا کی اولاد کا حصہ ہوگا یانہیں؟نانا کی صرف پانچ بیٹیاں ہیں جو سب حیات ہیں ، جبکہ نانی کا نانا سے پہلے وصال ہوچکا۔
2: نانا کی وفات سے پہلے دونوں بھائیوں نے کھیتی کی زمین، گھر کی زمین اور جانوروں کی تقسیم کرلی تھی۔ اب جبکہ نانا کا وصال ہوچکا تو انکے بھائی دوبارہ یہ زمینیں واپس لینے آئے ہیں کہ اس میں بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں سارا میرا ہے ، اسی تناظر میں لڑائی جھگڑے کررہے ہیں ،شرعی اعتبار سے بتائیں کہ باپ کی وراثت میں بیٹیوں کا حصہ ہے یا نہیں؟
سائل: یاسر علی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: جس رقم سے پلاٹ خریدا اگر وہ مشترکہ تھی تو اس صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ یہ پلاٹ مکمل طور پر شیر محمد کا کہلائے گا، اور شیر محمد ، مُہیم خان کی اولاد کے لئے فقط بھائی یعنی شیر محمد کے حصے کا ضامن ہوگا۔ کیونکہ دونوں باہمی طور پر ایک دوسرے کے شریک تھے اور یہ شرکت، شرکت الملک کی قبیل سے ہے جسکا حکم یہ ہے کہ شرکت الملک میں اگر کوئی شریک خاص اپنے لئے کوئی چیز خریدے اور اسکی قیمت مالِ مشترک سے ادا کرے تو وہ چیز خاص اسی کی ہوگی البتہ چونکہ اس چیز کی قیمت جس مال سے ادا کی وہ مال شرکت کا تھا اس لئے دوسرے کے حصے کا ضامن ہوگا۔
شامی میں ہے:يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية۔ ترجمہ: اکثر کسانوں کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک مر جاتا ہے اور اس کے بچے اس کی جائیداد کے معاملات دیکھتے ہیں اور اس پر کام کرتے ہیں، جیسے ہل چلانا، کھیتی باڑی، خرید و فروخت، قرض لینا وغیرہ، اور بعض اوقات ان میں سے جو بڑا ہوتا ہے وہ ان کے کاموں کو انجام دیتا ہے اور باقی اسکے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہ سب اطلاق و تفویض کے طور پر ہوتا ہے ، لیکن لفظ مفاوضہ کی تصریح اور اس کے تمام تقاضوں کی وضاحت کے بغیر۔ حالانکہ کی اس میں سارا یا اکثر ترکہ عروض کی قبیل سے ہوتا ہے جس میں شرکت العقد درست نہیں ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرکت مفاوضہ نہیں ہے، برخلاف اس کے جو ہمارے زمانے میں ان لوگوں کی طرف فتوٰی جاری کیا گیا تھا جو اس بارے میں علم نہیں رکھتے تھے، بلکہ یہ شرکت الملک ہے، جیسا کہ میں نے اسکو تنقیح الفتاوٰی میں تحریر کیا ہے۔
علامہ شامی اسکے بعد لکھتے ہیں: ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا كما أفتى به في الخيرية، وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك۔ ترجمہ: پھر میں نے بعینہ اس مسئلہ کی تصریح فتاوٰی حانقتی میں دیکھی کہ اگر ان کی کوششیں یکساں ہوں اور ان میں سے ہر ایک نے جو کچھ حاصل کیا وہ اس کے کام سے ممتاز نہ ہو، تو جو کچھ انہوں نے جمع کیا وہ ان کے درمیان یکساں طور پر مشترک ہو گا، خواہ ان کے کام میں، رائے میں، اور اصابت رائے میں اختلاف ہو ، جیسا کہ اس کے بارے میں فتاوٰی خیریہ میں فتویٰ دیا ہے، اور جو ان میں سے کسی ایک نے خاص اپنے لیے خریدا وہ صرف اسی کا ہے اوروہ اس کی قیمت سے شراکت داروں کے حصہ کا ضامن ہوگا، جبکہ اس نے قیمت مالِ مشترک سے ادا کی ہو۔(ردالمحتار علی درالمختار، کتاب الشرکہ، جلد 04، صفحہ 307، مطبوعہ بیروت)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترک سے دیا گیا تو باقی ورثہ (یعنی شرکاء)کا اسقدر روپیہ بقدر اپنےاپنےحصص کےبکرپرقرض رہےگاجسکےمطالبہ کےوہ مستحق ہیں نہ کہ جائیداد کا کوئی پارہ ان کی ملک ٹھہرے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 19،صفحہ 196، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظی رقمطرا ہیں: گر ان شرکا میں سے بعض نے کوئی چیز خاص اپنے لیے خریدی اور اُس کی قیمت مال مشترک سے اداکی تو یہ چیز اُسی کی ہوگی مگر چونکہ قیمت مال ِمشترک سے دی ہے، لہٰذا بقیہ شرکا کے حصہ کا تاوان دینا ہوگا۔(بہارِ شریعت ، حصہ دہم، جلد 2 ص 493)
2: ضرور بیٹیوں کو والد کی وراثت سے ملے گا، کہ یہ حصہ خود اللہ تعالٰی نے مقرر فرمایا ، روئے زمین پر کوئی شخص خواہ باپ کا بھائی اس حصہ کو ساقط کرنے کا حق نہیں رکھتا، لہذا نانا کے بھائی کا قول کہ'' بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں ''غلط و باطل اور شریعت پر بہتان ہے۔ ہاں انصاف یہ ہے کہ اگر بھائی کی کوئی مذکر اولاد نہیں تو ضرور اس بھائی کا بھی حصہ بنے گا مگر اتنا کہ جتنا شریعت نے مقرر کیا نہ کل کا کل۔ اور وہ حصہ محض ایک ثلث ہے کہ مُہیم خان کے کل مال کو تین حصص میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو ثلث اسکی بیٹیوں کا ہوگا اور ایک ثلث اس بھائی کا۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ مُہیم خان کے کل مالِ وراثت کو 15 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے شیر محمد کو 5 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 2 حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصص کے اعتبار سے ہے: لڑکیوں کے بارے میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ کنز الایمان : پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
چونکہ مہیم خان کا کوئی بیٹا نہیں اس لئے شیر محمد اسکا عصبہ ہونے کی حیثیت سے جو باقی بچے گا وہ لے گا کہ عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میتکے ما بقی تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔السراجی فی المیراث میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
نوٹ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مُہیم خان کی جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 15 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو محفوظ کرلیں اسکے بعد اس محفوظ عدد کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 جمادی الثانی 1445ھ/ 04 جنوری 2024 ء