ماں چھ بیٹیاں چار بیٹے پھر ایک بیٹی کا انتقال ہوا

    maan chay betiyan chaar betay phir aik beti ka intiqal hua

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1210

    سوال

    حاجی عبداللہ کا انتقال 1996-4-12 کو ہوا ۔ اس وقت انکے ورثاء میں بیوی رابعہ بائی ، چار بیٹے (محمد اقبال، عبدالعزیز، محمد حنیف، محمد یوسف)چھ بیٹیاں (فریدہ ،رضیہ، زیب النساء،کلثوم،روشن، سلمیٰ)تھیں ۔اسکے بعد سال 2007 میں ایک بیٹی فریدہ کا انتقال ہوگیا انکے ورثاء میں شوہر(صالح محمد)چار بیٹیاں (غزالہ،ثناء،سمرین،رفعت)اور ایک بیٹا محمد عرفان ہیں ۔ پھر سال 2015 میں انکی زوجہ رابعہ کا انتقال ہوگیا ،اب انکے ورثاء میں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔سوال یہ ہے کہ حاجی عبداللہ کی وراثت سے فریدہ کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟اور بقیہ ورثاء میں وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی۔

    سائل:عبدالعزیز: بہادر آباد کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ میں حکم شرع یہ ہے کہ حاجی عبداللہ کی وراثت کے کل 1156 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے انکی زوجہ رابعہ بائی کو 156 حصے ، ہر بیٹے کو 144 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 72 حصے دیئے جائیں گے پھر چونکہ فریدہ کا وصال ہوچکا ہے لہذا انکا حصہ انکے ورثاء میں یوں تقسیم ہوگا کہ انکے شوہر صالح محمد کو انکی وراثت سے 2 حصے بیٹے کو بھی 2 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا ۔

    نوٹ: اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے ۔