ماں شریک بہن کی وراثت سے سگے بہن بھائیوں کا حصہ

    maan shareek behan ki warasat se sagay behan bhaiyon ka hissa

    تاریخ: 24 اپریل، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1211

    سوال

    میرا نام محمد شکیل ہے ، میری والدہ خدیجہ جنہوں نے مجھے پالا ہے یعنی میں انکالے پالک بیٹا ہوں۔انکا انتقال ہوگیا ہے ۔ زندگی میں انکا ایک مکان تھا ، جو ہم نے 11 لاکھ میں سیل کیا ۔ اور دوسرا گھر لیا دوسرے گھر کی قیمت 19 لاکھ تھی میری بیوی(روبینہ) نے اپنا زیور بیچ کر رقم پوری کی ، اسکے بعد مکان پر کچھ اخراجات کئے اور اسکی اونرشپ لینے کے لئے رقم لگائی۔ جس کے بعد وہ مکان ہمیں کل ملا کر 25 لاکھ کا پڑا۔جس میں 11 لاکھ والدہ کے مکان کے تھے اور باقی سب میری بیوی کے ۔اور یہ مکان والدہ اور میری زوجہ کے نام پر ہی ہے ۔ اسکے علاوہ انکا 3 تولہ سونا تھا جو انہوں نے زندگی میں ہی میری بیوی کو دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میری پوتیوں(یعنی میری بیٹیوں )کا ہے۔ اسی طرح ایک الماری انکی ملک میں تھی جو ابھی بھی موجود ہے۔ زندگی میں کئی بار مجھ سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد سب کچھ تیرا اور تیرے بچوں کا ہے۔ تم لوگ ہی رکھنا اسے۔اب اس صورت حال میں جائیداد کی تقسیم کیسے ہوگی ۔ شرعی اعتبار سے ہر ایک کو کیا ملے گا۔مکان،زیور اور الماری ہر ایک کا حکم بتادیں۔ انکی ورثاء میں شوہر(قاسم) 4 ماں شریک بھائی(ابراہیم، عبدالستار، سلیمان، قاسم ) اور چار ماں شریک بہنیں( فاطمہ،سلمیٰ، یاسمین،زاہدہ)اورچھ چچا زاد بھائی(عبدالغفار،انور،نورمحمد، سرور،ارشد،عمران) ہیں۔

    میری والدہ کے سگے والد ین کا انتقال ہوچکا ہے۔ والدہ کےسگے والد کے انتقال کے بعد انکی ماں نے اپنے دیور سے شادی کرلی جس سے 4 لڑکے اور 4 لڑکیاں پیدا ہوئیں۔اس طرح یہ 8 بہن بھائی میری والدہ کے ماں شریک بہن بھائی بھی ہوئے اور چچا زاد بہن بھائی بھی ہوئے۔اورمیری ماں کے سگے والد، ماں شریک والد اور چچا تینوں کا انتقال ہوچکا ہے۔ سگے والد سے وہ اکیلی بیٹی ہیں، ماں شریک سے ان کے 4 بہن اور 4 بھائی ہیں ، جبکہ چچا سے بھی 6 بیٹے ہیں ۔ اور انکی سگی اولاد نہیں تھی ۔ اور میں لے پالک ہوں یہ مسئلہ حل فرمادیں تاکہ کسی کی شرعی اعتبار سے حق تلفی نہ ہو۔ جزاک اللہ خیرا

    سائل:محمد شکیل:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نوٹ: اس سے قبل جو فتوٰی دارالافتاء سیلانی سے لیا گیا اس فتوٰی میں محض ورثاء کی تعداد بتاکر جائیدادکی شرعی تقسیم کا سوال کیا گیا تھا۔ ہم نے اس فتوٰی کا جواب اسی بنیاد پر شرعی اصولوں کے مطابق دے دیا جو کہ بالکل صحیح و درست تھا۔ بعد ازاں جائیداد کی مکمل تفصیل کے بعد جواب پہلے جواب سے مختلف ہے۔ کیونکہ سوال کے تبدیل ہوجانے سے جواب تبدیل ہوجاتا ہے۔ وللہ العلم کلہ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحومہ کے ترکہ سے انکے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے پھر اسکے بعد دیکھا جائے گا کہ ان پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

    اس تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں تین چیزیں ہیں ۔

    1:مکان جس میں 11 لاکھ مرحومہ کے تھے ،اور الماری۔

    2:زیورات جو لے پالک بیٹے کی بیٹیوں کے لئے لے پالک کی بیوی کو دیئے۔

    3: لے پالک کو کہنا '' میرے مرنے کے بعد سب کچھ تیرا اور تیرے بچوں کا ہے۔

    1: پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ مکان چونکہ مرحومہ اور روبینہ کے مابین مشترک تھا۔وہ مکان مرحومہ کے حصے کے مطابق وراثت میں تقسیم ہوگا۔ یعنی مکان کی موجودہ ویلیو لگواکر اس کا 44 فیصد وراثت میں تقسیم ہوگا اور 56 فیصد روبینہ کا ہوگا۔اور الماری بھی وراثت میں شامل ہوگی۔

    2:زیورات وراثت میں تقسیم نہیں ہونگے ، بلکہ وہ خاص شکیل کی بیٹیوں کی ملکیت ہونگے۔کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے ۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ، پھر اگر واہب (گفٹ کرنے والا ) نابالغ کو ھبہ کرے تو اس نابالغ کے ولی کا قبضہ بعینہ انکا قبضہ کہلائے گا ،اور یہاں بعینہ دوسری صورت موجود کہ یہاں شکیل کی زوجہ نے ان زیورات کو قبضہ میں لے لیا ۔ لہذا ھبہ تام و مکمل ہوگیا ۔ اب یہ زیورات خاص بچیوں کی ملک ہیں۔

    3:تیسری صورت وصیت کی صورت ہے۔ اور یہاں شکیل کے حق میں وصیت جائز ہے کیونکہ شکیل شرعا وارث نہیں ہے۔ لیکن یہ وصیت کل مال کے ایک تہائی میں نافذ ہوگی۔ اس سے زائد میں تمام ورثاء کی اجازت ضروری ہے ورنہ ایک ثلث سے زائد میں نافذ نہ ہوگی۔

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مرحومہ کےترکہ میں سے سب سے پہلے لے پالک کو کل مال کا ایک ثلث بطورِ وصیت ملے گا۔ اسکے بعد جو کچھ بچے اس تمام کو 480 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔جس میں سے شوہر کو240 حصے ملیں گے ہر ماں شریک بہن کو الگ الگ 20 حصے ، اور ہر ماں شریک بھائی کو الگ الگ 28 حصے اورچچا زاد بھائیوں میں سے ہر ایک کو الگ الگ 8 حصے ملیں گے۔جبکہ چچازاد بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

    مشترکہ اشیاء میں تقسیم ہر ایک کے حصوں کے تناسب سے ہوگی اس کے بارے میں مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکامالفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206مادہ نمبر 1073 )

    وصیت کے بارے میں بدائع الصنائع میں ہے:(وَمِنْهَا) أَنْ لَا يَكُونَ وَارِثُ الْمُوصِي وَقْتَ مَوْتِ الْمُوصِي، فَإِنْ كَانَ لَا تَصِحُّ الْوَصِيَّةُ لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ «إنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»ترجمہ:ور موصیٰ لہ ( جس کے لیے وصیت کی جارہی ہے ) کی شرط یہ بھی ہے کہ وہ موصی(وصیت کرنے والے) کی موت کے وقت اسکا وارث نہ ہو، اگر وارث ہوگا تو اسکے حق میں وصیت صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد رمایا کہ اللہ تعالی نے ہر وارث کو اس کا مکمل حق دے دیا ہے لہذا وارث کے حق میں وصیت نہیں ہے۔(بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل فی شرائط رکن الوصیۃ جلد 7 ص 337)

    عالمگیریمیں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)

    تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    تنویرالابصار میںہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 69)

    عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃالباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    ماں شریک بہن بھائیوں کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالٰی ہے: فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں۔

    (النساء : آیت نمبر 12)

    ماں شریک بہن بھائیوں کے بارے میں السراجی فی المیراث میں ہے:والثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم و اناثھم فی القسمۃ والاستحقاق سواء۔ ترجمہ:دو یا دو سے زائد ہوں تو انکے لئے ایک تہائی ہے۔ مردوں اور عورتوں کو برابر برابر ملے گا۔( السراجی فی المیراث ص 30)

    فائدہ :جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ مال وراثت بنتا ہے اس کو مبلغ یعنی480 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو محفوظ کرلیں ۔پھر محفوظ عدد کوہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 رجب المرجب1441 ھ/19 مارچ 2020 ء