سوال
زیدنے 20مرلے کا پلاٹ خریدا مدرسے کے لئے لوگوں کے تعاون سے یعنی صدقہ وخیرات وزکوۃوعشر وغیرہ اور رجسٹری بھی زیدکے نام پہ ہے تو کیا کوئی نجی ادارہ یا کوئی اوقاف کا ادارہ اس پلاٹ کا دعوی کرسکتا ہے ؟کہ یہ ہماری وراثت ہےاور کیا مدرسے یا مسجد کی جگہ جو وقف کر دی گئی ہو وہ بطور وراثت تقیسم ہو سکتی ہے؟یا زید اپنے کسی وارث کے نام کر سکتا ہے اور یہ نام کرنا کیا وراثت تقسیم کرنا نہیں ؟
سائل: محمد عبداللہ کامونکی پاکستان ۔
نوٹ:سائل سے لئے گئے بیان کے مطابق زکوۃ و عشر کا حیلہ شرعیہ کرلیا گیا تھا اور زید نے وقف کی نیت بھی کی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
موقوفہ شے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے،لہذا کسی ادارے یا اوقاف کا ملکیت کا دعوی کرنا باطل ہے۔
نیز وقف ہونے کے بعد اس میں تصرف کا اختیار اس شخص کو ہوتا ہے جسے واقف نے اس زمین کا متولی بنایا ہو(جیسا کہ یہاں زید کو بنایا گیا) اور تصرف کا اختیار اس تفصیل کے مطابق ہوتا ہے جو واقف نے متعین کی ہیں۔لہذا اگر واقف بھی کوئی مالکانہ تصرف کرتا ہے تو اس کا ایسا کرنا ناجائز و حرام ہے چہ جائے کہ غیر واقف (جیسا کہ سوال میں نجی ادارے، اوقاف اور زید)کا اسے اپنا ترکہ قرار دینا جو کہ صریح باطل ہے۔کیونکہ موقوفہ پلاٹ ملکیت سے نکل چکا ہے اس میں کسی قسم کا بھی مالکانہ تصرف کرنا جائز نہیں۔یہی حکم مسجد و مدرسے کی موقوفہ زمین کا ہے۔
وقف کی تعریف کرتے ہوئے علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"ان الوقف إزالة الملك إلى الله تعالى على وجه القربة".ترجمہ: وقف یہ ہے کہ اپنی ملکیت کو اللہ تعالی کے لیےعبادت کے طور پر زائل کرنا ۔(الہدایۃ،کتاب الوقف،شروط الوقف،3/19،دار احیاء التراث العربی)
علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه لأنه تجرد عن حق العباد وصار خالصا لله".ترجمہ:جس کسی نے اپنی زمین کو بطور وقف مسجد بنائی تو اب اسے رجوع کا اختیار نہیں نہ اسے بیچ سکتا ہے نہ اس پر وراثت جاری ہوگی کیونکہ اب یہ زمین حق العباد سے نکل کر خالصۃ اللہ کی ملک میں چلی گئی۔(الہدایۃ، کتاب الوقف،شروط الوقف،3/21 ،دار احیاء التراث العربی)
ایسا ہی المبسوط للسرخسی میں موجود ہے۔( المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف،12/34،دار المعرفۃ)
مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’مال وقف پر دعوٰی ملک تو کسی کو نہیں ہوسکتا، ہاں دعوٰی تصرف متولی کو ہے، اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے، اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،16/150،رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب