سوال
میں حج پر جانا چاہتی ہوں، لیکن میرے بیٹے اپنی گھریلو زندگی میں مصروف ہوں ۔ میں اپنے بیٹوں کو مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ میرے ساتھ حج پر چلیں ، کیونکہ انکے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔ تو کیا میں بغیر محر م کے حج پر جاسکتی ہوں ؟کچھ کتب فقہ کے حوالے بھی دے دیں۔اللہ تعالٰی آپکو جزائے خیر عطا فرمائے گا۔ سائلہ:حلیمہ بائی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عورت اگر مکۃ المکرمہ سے سفر شرعی(92 کلو میٹر یا اس سے زائد) کی مسافت کےبقدر دور ہو تو اس پر حج فرض ہونے کے لئے محرم کا ہونا شرط ہے، لہذا اگر محرم نہ ہو یا محرم تو ہو لیکن ساتھ جانے پر راضی نہ ہو ،یوں ہی محرم ساتھ جانے پر راضی تو ہے مگر استطاعت نہیں رکھتااور نہ ہی عورت اسکا نفقہ و خرچہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتی ہےتو ان تمام صورتوں میں عورت پر حج فرض ہی نہیں ہوگا ۔کیونکہ عورت بغیر محرم سفر شرعی(92 کلو میٹر یعنی تین دن یا اس سے زائد کا سفر) نہیں کرسکتی ۔ احادیث مبارکہ میں اسکی ممانعت آئی ہے ۔
چناچہ صحیح مسلم میں ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہﷺنےفرمایا : کوئی عورت تین(دن رات)کاسفرنہ کرےمگراس طرح کہ اس کےساتھ محرم ہو۔(صحیح مسلم ، کتاب الحج ،باب بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر 413(1338))
ایک اور حدیث پاک میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ۔ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ جوعورت اللہ اوریو م آخرت پرایما ن رکھتی ہے اسکے لئےحلال نہیں کہ وہ تین رات کی مسافت طےکرےمگریہ کہ اس کےساتھ ایساآدمی ہوجواس کامحرم ہو ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الحج ،باب بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ،حدیث نمبر 419(1339))
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:ومنها المحرم للمرأة شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط ، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع۔ ترجمہ:اور حج کی شرائط میں سے عورت کے لئے محرم کا ہونا ہے خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، جب عورت اور مکہ کے درمیان تین دن کی مسافت ہو یہی محیط میں ہے، اور اگر تین دن کی مسافت سے کم ہو تو بغیر محرم حج کرے ، بدائع میں اسی طرح مذکور ہے۔(فتاوٰی عالمگیری ،کتاب الحج ،الباب الاول ففی تفسیر الحج ،جلد 01 ص 218)
بدائع میں ہے: سَوَاءٌ كَانَتْ الْمَرْأَةُ شَابَّةً أَوْ عَجُوزًا فَإِنَّهَا لَا تَخْرُجُ إلَّا بِزَوْجٍ أَوْ مَحْرَمٍ ۔ترجمہ:عورت بغیر محرم یا بغیر شوہر کے حج کو نہ نکلے خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی۔(بدائع الصنائع، کتاب الحج ،جلد 02 ص 124)
لیکن اگر کوئی عورت بغیر محرم کے حج کا سفر کرلیتی ہے تو اسکا حج ادا ہوجائے گا مگر گناہگار ہوگی۔چناچہ الجوہرۃ النیرہ میں ہے:فَإِنْ حَجَّتْ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ أَوْ زَوْجٍ جَازَ حَجُّهَا مَعَ الْكَرَاهَةِ۔ترجمہ:اگر عورت نے بغیر محرم یا بغیر شوہر کے حج ادا کیا تو اسکا حج ادا ہوجائے گا لیکن کراہت کے ساتھ ہوگا۔(الجوہرۃ النیرۃ علی مختصر القدوری،جلد 01 ص150)
اسی طرح صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:عورت بغیر محرم یا شو ہر کے حج کو گئی تو گنہگار ہوئی، مگر حج کرے گی تو حج ہو جائے گا یعنی فرض ادا ہوجائے گا۔(بہار شریعت، کتاب الحج حصہ ششم جلد اول ص 1045 مکتبۃ المدینہ )
خلاصہ یہ ہے کہ بغیر محرم حج پر جانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ جس طرح حج کرنا حکم الٰہی ہے اسی طرح عورت کو بغیر محرم کے تین دن کی مسافت پر نہ جانے کا حکم بھی حکم الٰہی ہے لہذا اس حکم کو پورا کرنے کے لئے دوسرے حکم کو چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 27 ربیع الاول 1441 ھ/25 نومبر2019ء