شوال کے مہینے میں عمرہ کرنے سے حج لازم ہونے کا حکم
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 219
    حوالہ: 55

    سوال

    کیا شوال کے مہینے میں عمرہ کرنے سے حج لازم ہوجاتا ہے ؟ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی نے شوال میں عمرہ کیا تو اس پر لازم ہے کہ اس سال کا حج کرے اسکی کیا حقیقت ہے شرعی رہنمائی فرمائیں۔ سائل: امین : کراچی ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ کے حکم کی درج ذیل صورتیں ہیں :

    1: اگر کوئی شخص زندگی میں ایک بار اپنا فرض حج اداکرچکا ہو تو ایسے شخص پر مطلقاً حج فرض نہ ہوگا اگر چہ وہ زمانہءِ حج اور اشہر حج (شوال ذوالعقدہ اور ذوالحج)میں حرم شریف میں موجود ہو ، کیونکہ حج زندگی میں فقط ایک بار ہی فرض ہے ۔ جسکی ادائیگی کے بعد بندہ اس فرض سے بری ہوجاتا ہے۔

    2: زندگی میں پہلے کبھی حج نہیں کیا اور اشہرِ حج (شوال، ذوالقعدہ،ذوالحجہ) میں مکہ شریف میں عمرہ کیا تو ایسے شخص پر دو شرائط کے ساتھ اسی سال حج فرض ہوجائے گا۔ 1: استطاعت ہو ، یعنی اس کے پاس اتنا مال ہو کہ جو اسکے پورے سفرِ حج اور اس دوران اسکے اہل و عیال اور جن کا نفقہ اس پرلازم ہے ان تمام کے نان و نفقہ کو کفایت کرجائے۔ 2:گورنمنٹ کی جانب سے حجکے ایام تک قیام کرنے کی اجازت ہو۔ویزہ یا کسی طرح کی کوئی اور رکاوٹ نہ ہو ۔ جب یہ دو شرائط پائی جائیں گی تو اس شخص پر اسی سال حج کرنا لازم ہوگا۔

    3: اگر استطاعت نہ ہو یعنی اسکے پاس اتنا مال نہ ہو کہ جو اسکے پورے سفرِ حج اور اسکے اہل و عیال کے نان و نفقہ کو کفایت کرجائےتو اصلاً حج فرض نہ ہوگا اگرچہ شوال کے مہینے میں عمرہ کیا ہو۔

    4: استطاعت تو ہے مگر گو رنمنٹ کی جانب سے حج کے ایام تک قیام کرنے کی اجازت نہ ہو جیساکہ فی زمانہ عرف ہے کہ حکومتِ سعودیہ عمرہ کا ویزہ الگ اور حج کا ویزہ الگ دیتی ہے کسی بھی شخص کو عمرہ کے ویزہ پر حج کی اجازت نہیں ہوتی تو ایسی صورت میں اس شخص پر استطاعت ہونے کی وجہ سے حج تو فرض ہوجائے گا مگر گورنمنٹ کی جانب سے اجازت نہ ہونے کے سبب اس سال حج نہ کرے بلکہ اس سال وطن واپس آجائے اورآئندہ سال حج کی ادائیگی کرے ۔ نیز بغیر حج کئے واپس آنے کی وجہ سے گنہگار بھی نہیں ہوگا۔

    ہر صورت کے حکم کی تفصیل و جزئیات:

    1: حج زندگی میں فقط ایک بار ہی فرض ہے ۔ جسکی ادائیگی کے بعد بندہ اس فرض سے بری ہوجاتا ہے۔

    حاشيۃ الطحطاوی على مراقي الفلاح میں ہے:فرض مرة على الفور في الأصح۔ ترجمہ: اصح قول کے مطابق حج ایک بار علی الفور فرض ہے۔( حاشيۃ الطحطاوي على مراقي الفلاح ، ج 1 ص 727)

    2: قدرت و استطاعت کے حوالے سے فتاویٰ ہندیہ میں ہے: ومنہا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ وہو ماسوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ وأثاث بیتہ قدرما یبلغہ إلی مکۃ ذاہباً وجائیاً وراکباً لاما شیاً وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ ومرمۃ مسکنہ إلی وقت انصرافہ کذا فی محیط السرخسی ویعتبر فی نفقتہ ونفقۃ عیالہ الوسط من غیر تبذیر وتقتیر کذا فی التبیین والعیال من تلزمہ نفقتہ کذا فی البحر الرائق۔ترجمہ:اور ان شرائط میں ہے سامانِ سفر اور سواری پر قدرت ہے۔ سامانِ سفر اور سواری کی تفسیر یہ ہے کہ اسکے پاس اسکی حاجتِ اصلیہ (گھر ، کپڑے، گھر کے خام، اور گھر کا استعمالی سامان)سے زائد اتنا مال ہو کہ وہ مکہ تک سواری پر آنے جانے کو کفایت کرجائے، اور یہ مال واجب الاداء قرض کے علاوہ ہو نیز اسکے واپس لوٹنے تک اپنے اہل و عیال کا خرچہ اور گھر کی مرمت کا خرچہ بھی شامل ہے محیط سرخسی میں یوں ہی ہے اور اسکے نفقے میں اسکی عیال کا درمیانی خرچہ مراد ہے جو تبذیر (فضول خرچ) اور تقتیر(کنجوسی) کے بغیر ہوتبیین میں یونہی ہے اور عیال وہ ہیں جن کا خرچہ اس پر لازم ہے بحر رائق میں یونہی ہے۔ (فتاویٰ ہندیہ ج1 ص217)

    ملتقی الابحرمیں ہے: وقدرة زاد وراحلة ونفقة ذهابه وأيابه فضلت عن حوائجه الأصلية و نفقة عياله إلى حين عوده۔ ترجمہ: اور(حج کی شرائط میں سے ہے) سامان سفراورسواری اورآنے جانے کے نفقہ پرقدرت ہوناجوکہ اس کی حاجات اصلیہ سے زائدہواوراس کی واپسی تک اس کے عیال کے نفقہ پرقدرت ہونا۔(ملتقی الابحرمع مجمع الانھر،کتاب الحج،ج01،ص383،386،مطبوعہ کوئٹہ) مناسک ملاعلی میں ہے: ونصاب الوجوب ملک مال یبلغہ الٰی مکۃ ذاھبا و جائیا راکبا فی جمیع السفر لا ماشیا فاضلا عن مسکنہ وخادمہ و فرسہ و سلاحہ وثاثہ و نفقۃ من علیہ و کسوتہ وقضاء دیونہ اصدقۃ نسائہ الٰی حین عودہ متعلق بفاضلا ای من ابتداء سفرہ الی وقت رجوعہ۔ ترجمہ: وجوبِ حج کا نصاب اتنے مال کا مالک ہو نا جسکی مقدار یہ ہو کہ اس سے مکمل سفر مکہ تک سواری پر آنا جانا ممکن ہو نہ کہ پیدل اور یہ اسکے گھر ، خادم، گھوڑے، اسلحہ اور گھر کے سامان سے زائد ہو۔ نیز حج سے واپسی آنے تک جس کا خرچہ اور کپڑے اس پر لازم ہے اورقرض کی ادائیگی بیویوں کامہر (منھا کیا جا ئے گا)۔ (مناسک ملا علی القاری، ص ، 42،43)

    بدائع میں ہے: ومنھا ملک الزاد والراحلۃ فی حق النائی عن مکۃ… ولنا أن رسول اﷲ ﷺ فسر الاستطاعۃ بالزاد والراحلۃ جمیعا فلا تثبت الاستطاعۃ باحدھما۔ ترجمہ: اور ان شرائط میں سے مکہ سے دور رہنے والے کے لئے سامانِ سفر اور سواری کا مالک ہونا ہے،ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے استطاعت کی تفسیر زادِ راہ اور سواری دونوں سے کی ہے لہذا ان میں سے کسی ایک کے ذریعے استطاعت ثابت نہ ہوگی۔(بدائع الصنائع ، جلد 2 ص 122)

    ان جزئیات میں استطاعت کے تحت زادِ سفر اورسواری دونوں داخل ہیں تاہم یہاں مکی اور آفاقی کا فرق ضرور ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق ایسے مکی شخص کے لئے سواری شرط نہیں جو پیدل ہی حج کے تمام مراحل طے کرسکے یونہی جو اشہرِ حج میں حرم میں موجود ہے وہ بھی اس مکی کے حکم میں ہے اور اسکے حق میں بھی سواری شرط قرار نہیں دی جائے گی۔ لہذا مکی مذکور اور جو مکی مذکور کے حکم میں ہے اسکے لئے اپنی سواری شرط نہیں، البتہ زادِ راہ اور نفقہ عیال ضرور شرط ہے ۔ ہاں اگر یہ مکی یا جواس مکی کے حکم میں ہے اگر پیدل حج نہ کرسکتے ہوں تو ضرور ان کے لئے سواری شرط ہوگی جیساکہ آفاقی کے لئے ہے۔ جیساکہ مناسک میں ملا علی قاری رقمطراز ہیں: ومن كان داخل المواقيت فهو كالمكي في عدم اشتراط الراحلة) أي إذا قدروا على المشي، وقيل الراحلة شرط مطلقا ؛ لأن بين مكة وعرفة أربع فراسخ وكل أحد لا يقدر على مشي أربع فراسخ راجلا ای ماشیا کذا فی المحیط وھو الظاہر المتبادر من اطلاق تفسیرہ صلی اللہ علیہ وسلم الاستطاعۃ بالزاد والراحلة من غير تفرقة بين الأفراد الأفاقية والمكية، قال المصنف في الکبیر فلایجب علیھم الحج ما لم يقدروا عليها، والأول أصح، انتهى . وفیہ نظر ظاہر اذ الحکم السابق مفید بمن قدر وھو القلیل النادر والأكثر الأغلب أن كل احد لا یقدر علي المشی ومبنی الأحكام الفقهية على الأمور الغالبية، فلذا أطلق صاحب لمحیط وأما الزاد فلابد منه في أيام اشتغالهم بنسك الحج، كما صرح به غير واحد، ففي الينابيع - لابد لهم من الزاد قدر ما يكفيهم وعيالهم بالمعروف، وزاد في السراج الوهاج إلى عودهم ۔ ترجمہ: اور جو شخص میقات کے اندر ہو وہ سواری کی شرط نہ ہونے میں مکی کی طرح ہے ،یعنی جب وہ پیدل چلنے پر قادر ہوں اور کہا گیا کہ سواری مطلق شرط ہے۔ کیونکہ مکہ اور عرفات کے درمیان چار فرسخ ہیں اور ہر شخص چار فرسخ پیدل چلنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور آپ ﷺ کی استطاعت کی تفسیر زاد و سواری کے ساتھ کے اطلاق سے یہی ظاہر و متبادر ہےآفاقی اور مکی افراد میں فرق کیے بغیر۔ مصنف نے الکبیر میں کہا ہے کہ ان پر حج واجب نہیں ہے جب تک وہ سواری پر قادر نہ ہوں۔ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ کلام ختم ہوا۔اور اس میں نظر ظاہر ہے، چونکہ سابقہ حکم استطاعت رکھنے والوں کے لیے فائدہ مند ہے، اور یہ قلیل اور نادر ہےحالانکہ غالب امکان یہ ہے کہ ہر کوئی پیدل چلنے پھرنے پر قادر نہیں ہوتا اور فقہی احکام کی بنیاد غالب امور پر ہے،اسی لئے صاحب محیط نے اسے مطلق رکھا بہر حال زادِ سفر تو افعال حج میں مشغول ہونے کے درمیان ضروری ہے جیساکہ کئی حضرات نے تصریح فرمائی ہے چناچہ ینابع میں ہے ان کے لئے اتنا زاد ضروری ہے جو اسکو اور اسکی عیال کو دستور کے مطابق کفایت کرجائے سراج الوھاج میں واپس لوٹنے تک کی شرط کا اضافہ ہے۔(مناسک ملا علی القاری، ص ، 47،48)

    3: اگر کوئی شخص رمضان میں عمرے پر گیا اور وہیں شوال کا مہینہ شروع ہوگیا یا عمرے پر ہی شوال کے مہینے میں گیا اور اس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ جو اسکے پورے سفرِ حج اور اسکے اہل و عیال کے نان و نفقہ کو کفایت کرجائےتو اصلاً حج فرض نہ ہوگا اگرچہ شوال کے مہینے میں عمرہ کیا ہو۔ کیونکہ یہاں حج کی شرطِ وجوب یعنی استطاعت ہی مفقود ہے لہذااس پر حج فرض ہی نہ ہوگا تو ادائیگی بھی لازم نہ ہوگی۔ والتفصیل مامر آنفاً 4: استطاعت ہو لیکن گو رنمنٹ کی جانب سے حجکے ایام تک قیام کرنے کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس شخص پر استطاعت ہونے کی وجہ سے حج تو فرض ہوجائے گا کہ یہاں حج کا نفسِ وجوب متحقق ہے البتہ گورنمنٹ کی جانب سے اجازت نہ ہونے کے سبب اس سال حج نہ کرے کہ حج کا ویزہ نہ ملنے کے سبب وجوبِ اداء متوجہ نہ ہوا لہذا یہ شخص اس سال وطن واپس آجائے اورآئندہ سال حج کی ادائیگی کرے ۔ بغیر حج کئے واپس آنے کی وجہ سے گنہگار بھی نہیں ہوگا۔

    شامی میں ہے: هذا من شروط الأداء كما مر والظاهر أنه لو كان حبسه لمنعه حقا قادرا على أدائه لا يسقط عنه وجوب الأداء۔ ترجمہ:یہ وجوب اداء کی شرط ہے جیساکہ گزرا اور ظاہر یہ ہے کہ اگر حبس اسکو کسی ایسا حق روکنے کے سبب ہو جسکی ادائیگی پر قادر ہو تو اس سے وجوبِ ادا ساقط نہ ہوگا ۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، ج 2 ص 459)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 شعبان المعظم 1445ھ/ 23 فروری 2024 ء