walidain aur behnon ki sharai islaah ka tareeqa
سوال
جب ہمارے گھر میں رشتہ دار آتے ہیں، جیسے ماموں، چچا اور ان کے اہل و عیال، تو بعض اوقات میرے گھر کا ماحول مجھے بہت تکلیف دیتا ہے۔ میری والدہ گھر میں عام طور پر دوپٹہ/چادر ہلکا سا رکھتی ہیں، اور جب مہمان آتے ہیں تو بعض اوقات ان کی حالت یا لباس مجھے مناسب نہیں لگتا۔ اس وجہ سے مجھے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح میرے امی کے چچا زاد اور وغیرہ کے ساتھ میری والدہ بہت زیادہ بے تکلفی اور ہنسی مذاق کرتی ہیں۔ اسی طرح میری بہنیں بھی اپنے جیجا جی اورخالہ زاد یا ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ بہت زیادہ ہنسی مذاق اور بے تکلفی سے پیش آتی ہیں۔ میں جب یہ سب کچھ دیکھتا ہوں تو میں برداشت نہیں کر پاتا، مجھے بہت غصہ آتا ہے اور میں بد اخلاقی کر بیٹھتا ہوں۔ بعض اوقات میں اپنے والدین اور بہنوں سے ناراض ہو جاتا ہوں اور گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر ہمارے جھگڑوں کی وجہ یہی باتیں ہوتی ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ ردّعمل (غصہ، ناراض ہونا، بد اخلاقی کرنا) والدین کی نافرمانی یا گناہ میں شمار ہوتا ہے؟ اور شریعت میں اس صورتحال میں میرے لیے صحیح رویہ کیا ہے؟ کیا مجھے خاموش رہنا چاہیے یا اعتراض کرنا جائز ہے؟
سائل: پوچھا گیا از محمد سلیم | تاریخ 12/6/2026
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کی دینی غیرت یقینا قابل تعریف ہے کہ آپ اپنے گھر میں شرعی احکام، حیا اور پردے کی پاسداری چاہتے ہیں، لیکن اس مقصد کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقہ کار شرعا جائز نہیں۔ والدین کے سامنے غصہ نکالنا، ان سے بد اخلاقی کرنا، اونچی آواز میں بات کرنا يا گھر میں لڑائی جھگڑا کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ اسے شریعت میں ’’عقوق الوالدین‘‘ (والدین کی نافرمانی و ایذا رسانی) کہا گیا ہے جس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ اگرچہ آپ کا مقصد نیک ہے، مگر کسی شرعی مقصد کے لیے حرام ذریعہ(یعنی والدین کی بے ادبی اور بد اخلاقی) اختیار کرنا ہرگز جائز نہیں۔ برائی سے روکنے (نہی عن المنکر) کے دوران اگر انسان حدود شرع سے تجاوز کر جائے تو وہ خود گناہگار ہو جاتا ہے۔
شرعی لحاظ سے گھر میں آنے والے چچازاد، ماموں زاد، خالہ زاد بھائی اور بہنوئی/جیجا وغیرہ تمام افراد غیر محرم ہیں۔ والدہ اور بہنوں کے لیے ان کے سامنے سر، بال، گلا اور بازو وغیرہ ڈھانپ کر پردہ کرنا واجب ہے، اور ان کے سامنے غیر مناسب یا باریک لباس پہننا حرام ہے۔ اسی طرح غیر ان (یعنی غیر محارم) کے ساتھ ہنسی مذاق اور بے تکلفی شرعا ممنوع ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ایسے غیر محرم سسرالی و خاندانی رشتہ داروں سے بے تکلفی کے بارے میں صراحۃ فرمایا گیا کہ "الحمو الموت" دیور تو موت کی طرح خطرناک ہے۔ (صحیح البخاری: 5232)
اس صورت حال میں بالکل خاموش رہنا اور اسے دل سے بھی برا نہ سمجھنا تو جائز نہیں، لیکن اصلاح کا طریقہ کار شریعت کے مقرر کردہ ضوابط اور رشتوں کے احترام کے مطابق ہونا چاہیے۔ والدین اور بہنوں کے معاملے میں شرعا بنیادی فرق موجود ہے۔ اگر والدین شریعت کے خلاف کام کریں تو اس معصیت میں ان کی اطاعت جائز نہیں، لیکن اس کے باوجود ان پر غصہ کرنے، ان پر سختی کرنے یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے کی مطلقا اجازت نہیں ہے۔ فقہاء نے صراحتا فرمایا کہ ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں تو ان سے نہایت نرمی اور ادب سے گزارش کی جائے؛ اگر وہ مان لیں تو بہتر، ورنہ ان پر سختی نہیں کی جا سکتی بلکہ ان کے لیے دعا کی جائے۔ اگر وہ آپ کی نرم بات نہ مانیں تو آپ اپنا فرض ادا کر چکے، اس کے بعد غصہ کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کریں اور تنہائی میں ان کی ہدایت کے لیے دعا کریں۔
تاہم، چھوٹی بہنوں کے معاملے میں چونکہ ولی یا بڑے بھائی کو شرعا تربیت اور سرپرستی کی ذمہ داری حاصل ہے، اس لیے وہاں شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے حکمت، دباؤ اور مناسب سختی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ شریعت مطہرہ میں اپنے زیر سرپرستی افراد اور گھر والوں کو گناہ سے بچانا اور دین پر چلانا بنیادی فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: " یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا" اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ(التحریم: 6)۔ جس طرح حدیث پاک کی روشنی میں بچوں کو دس سال کی عمر پر نماز کا پابند بنانے کے لیے تادیب کی اجازت ہے، اسی طرح دس سال یا بلوغت کے بعد جب بہنوں پر غير محرموں سے پردہ واجب ہو جائے اور وہ بے پردگی یا بے تکلفی کریں، تو ان پر بقدر مناسب تنبیہ، تاکید اور شرعی تادیب (مناسب سختی) کرنا جائز اور درست ہے۔
لیکن اس سختی کی بھی شرعی حدود مقرر ہیں؛ سختی اتنی ہی ہونی چاہیے جس سے اصلاح مقصود ہو۔ ایسی شدید سختی، گالی گلوچ، بے جا تشدد یا ایذا رسانی جس سے گھر میں خانہ جنگی اور اصلاح کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہو جائے، شرعا ممنوع ہے۔ کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بھی ایک حد مقرر ہے، جس سے تجاوز آدمی کو خود ترک معروف و ارتکاب منکر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ نیز، اگر آپ کو معلوم ہو کہ موقع پر اعتراض کرنے سے شدید فتنہ یا خانہ جنگی ہوگی، تو وہاں حکمت عملی اور خاموشی اختیار کرنا افضل ہے، اور آپ خود ایسی مخلوط و بے تکلف محفلوں میں بیٹھنے سے گریز کریں۔ آپ کو چاہیے کہ ماضی میں والدین کے ساتھ کی گئی بد اخلاقی اور غصے پر سچے دل سے توبہ کریں، ان سے عاجزی کے ساتھ معافی مانگیں، اور آئندہ گھر کی اصلاح کا کام غصے اور لڑائی کے بجائے شرعی حدود، حکمت اور حسن اخلاق کے ساتھ انجام دیں۔
دلائل و جزئیات:
نیکی کا حکم دینے اور بُرائی سے روکنے کے فریضے سے متعلق قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالی ہے: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ.ترجمہ: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے ۔ (آل عمران: 104)
اہل و عیال کی اصلاح و تربیت میں سورۃ تحریم میں ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا . ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔ (التحریم: 6)
دعوت الی اللہ کے طریقے پر سورۃ نحل میں ارشاد ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ. ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ (النحل: 125)
نرم گفتگو اور حکمتِ دعوت پر سورہ طہ میں ارشاد ہوا: اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى-فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى: ترجمہ: دونوں فرعون کے پاس جاؤ بےشک اس نے سر اٹھایا۔ تو اُس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے ۔ (طہ: 43-44)
شرعی حدود سے تجاوز کی تنبیہ میں سورۃ طلاق میں ارشاد ہوا: وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ. ترجمہ: اور جو اللہ کی حدیں سے آ گے بڑھا بےشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ (الطلاق: 1)
گناہوں بھرے ماحول سے علیحدگی کے بیان میں سورۃ انعام میں ارشاد ہوا: وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ". ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (الانعام: 68)
والدین سے حسنِ سلوک اور تعظیم میں ارشاد ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ. ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے۔ (الاسراء: 23-24)
اس کے تحت صد رالافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی (المتوفی: 1370ھ) فرماتے ہیں: ’’اور حسنِ ادب کے ساتھ ان سے خِطاب کرنا ۔ مسئلہ : ماں باپ کو ان کا نام لے کر نہ پکارے یہ خلافِ ادب ہے اور اس میں ان کی دل آزاری ہے لیکن وہ سامنے نہ ہوں تو ان کا ذکر نام لے کر کرنا جائز ہے ۔مسئلہ : ماں باپ سے اس طرح کلام کرے جیسے غلام و خادم آقا سے کرتا ہے‘‘ ۔ (تفسیر خزائن العرفان، تحت سورۃ الاسرا: 23)
مشرک والدین کے ساتھ بھی بھلائی سے زندگی بسر کرنے پر ارشاد ہے: وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا. ترجمہ: اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔ (لقمان: 15)
اہل و عیال اور متعلقین کی ذمہ داری کے بیان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "أن عبد الله بن عمر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته، الإمام راع ومسئول عن رعيته، والرجل راع في أهله وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية في بيت زوجها ومسئولة عن رعيتها، والخادم راع في مال سيده ومسئول عن رعيته»". ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی ماتحت رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی، حکمران نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور خادم اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ (صحيح البخاري، الرقم: 2409، دار طوق النجاۃ)
مومن کے اخلاق و زبانی تحفظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "ليس المؤمن بالطعّان، ولا اللّعّان، ولا الفاحش، ولا البذيء". ترجمہ: مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بے ہودہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذي، الرقم: 1977، مصطفى البابي)
برائی روکنے کے مراتب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، ومن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان". ترجمہ: جو تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس سے بھی طاقت نہ رکھے تو پھر دل سے برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ (صحيح مسلم، الرقم: 49، دار إحياء التراث العربي)
شیطانی حیلے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اصلاح کی شرعی حد میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ امر بالمعروف ونہی عن المنکر عمدہ تمغائے مسلمانی ہے۔ اس نیک کام میں بہت لوگ حدود خداوندی کا خیال نہیں رکھتے اور تشدد وتعصب کو یہاں تک نباہتے ہیں کہ ان کا گناہ ان جاہلوں کے گناہ سے بدر جہا زائد ہوجاتا ہے جن کے لیے یہ ناصح مشفق بنے تھے... غرض امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی بھی ایک حد مقرر ہے کہ اس سے تجاوز آدمی کو خود ترک معروف وارتکابِ منکر میں مبتلا کردیتا ہے۔ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اﷲِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 11/109-110، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
والدین کی اصلاح کے شرعی طریقہ کار پر امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں تو ان سے بہ نرمی و ادب گزارش کرے، اگر مان لیں بہتر، ورنہ سختی نہیں کر سکتا بلکہ غیبت میں ان کے لیے دعا کرے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 21/156، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بیوی کی مِلک پر سونے کا زیور ہو اور زکوۃ نہ دیتی ہو، اس پر سختی کی حد کے سوال میں امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس پر تفہیم و ہدایت اور بقدر مناسب تنبیہ و تاکید (جس کی حالت اختلاف حالات مرد و زن سے مختلف ہوتی ہے) لازم ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 10/132، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نیکی کا حک دینے نہ دینے میں امام اہلسنت رحمہ اللہ دیگر کتب کے حوالے سے فرماتے ہیں: ’’ فتاوٰی امام قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے: انما یجب الامر بالمعروف اذا علم انہم یستمعون. امربالمعروف اسی وقت واجب ہے جب یہ جانے کہ وہ کان لگا کر سنیں گے۔ نصاب الاحتساب میں ہے: المقصودمنہ الائتمار فاذا فات ذٰلک لایجب. امر بالمعروف سے مقصود تو یہ ہے کہ لوگ مانیں جب اس کی امید نہ ہو تو وہ واجب نہیں۔ بستان امام فقیہ ابواللیث ومحیط وہندیہ وغیرہما میں ہے: ان کان یعلم باکبررأیہ انہ لو امر بالمعروف یقبلون ذٰلک منہ و یمتنعون عن المنکر فالامرواجب لایسعہ ترکہ ولوعلم باکبررأیہ انہ لو امرھم بذٰلک قذفوہ وشتموہ فترکہ افضل ولوعلم انہم لایقبلون منہ ولایخاف منہ ضربا ولاشتمافھو بالخیار والامر افضل۔ (ملخصا) . اگر اپنے غالب گمان سے جانتا ہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ مان لیں گے اور بُری بات سے باز آئیں گے تو امر بالمعروف واجب ہے اسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں اور اگر اپنے غالب گمان سے جانتاہو کہ امر بالمعروف کرے گا تو یہ لوگ پتھر پھینکیں گے گالی دیں گے تو اس وقت امربالمعروف نہ کرنا ہی افضل ہے اور اگر جانیں مانیں گے تو نہیں مگر ان سے گالی کابھی اندیشہ نہیں تواختیار ہے چاہے امر بالمعروف کرے یا نہ کرے اور کرنا بہترہے ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 14/537) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:4 ربیع الثانی 1448ھ/17 ستمبر 2026ء