سیاہ خضاب لگانے کا حکم
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 168

    سوال

    نوجوان شخص کا سیاہ خضاب لگانا کیسا ہے؟ اور اگر رنگ ایسا ہو کہ دور سے سیاہ محسوس ہوتو ایسا خضاب لگانا کیسا؟ نیز عورت کا شوہر کی زینت کی خاطر سیاہ خضاب لگانا کیسا؟ بالوں کی سفیدی کو متغیر کرنے کا حکم حدیث میں وارد ہوا ہے تو کیا بوڑھے شخص کا ہر حال میں بالوں کو رنگنا لازم ہے ؟

    سائل:عبد اللہ،کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسؤولہ کے پانچ جزء ہیں:

    (1)نوجوان کا سیاہ خضاب لگانا کیسا؟

    (2)ایسا خضاب جو دور سے سیاہ محسوس ہو لگانا کیسا؟

    (3)عورت کا شوہر کیلئے زینت کے طور پر سیاہ خضاب لگانا کیسا؟

    (4) کیا بوڑھے شخص کا ہر حال میں بالوں کو رنگنا لازم ہے؟

    جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں:

    (1) سیاہ خضاب مطلقا ناجائز ہے۔اس میں جوان بوڑھے،مرد عورت کی قید نہیں۔

    سیاہ خضاب کا عدم جواز قرآن و تفسیر کی روشنی میں:

    اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّم. ترجمہ: اللہ کی ڈالی ہوئی بِنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا ،اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا ،یہی سیدھا دین ہے۔( الروم:30)

    اور حکایۃً شیطان کا قول بیان ہوا : وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِؕ .ترجمہ: اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے ۔( النساء:119)

    مذکورۃ بالا آیت مبارکہ کے تحت تفسیر سمعانی میں ہے : وَيحْتَمل أَن يكون المُرَاد بِهِ: الخضاب بِالسَّوَادِ، وَهُوَ مَنْهِيّ عَنهُ، وَإِنَّمَا الخضاب الْمُبَاح بالحمرة، والصفرة. ترجمہ : اور اس بات کا بھی احتما ل ہے کہ تغییر خلق اللہ سے مراد: سیاہ رنگ کا خضاب کرنا ہے جس سے منع فرمایا گیا، البتہ سرخ اور زَرد رنگ مباح خضاب ہے۔ (تفسير القرآن للمنصور بن محمدالمروزى السمعاني،سورۃ النساء:119، دار الکتب العلمیۃ)

    علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: وَكَمَا يُكْرَهُ نَتْفَهُ كَذَلِكَ يُكْرَهُ تَغْيِيرَهُ بِالسَّوَادِ، فَأَمَّا تَغْيِيرُهُ بِغَيْرِ السَّوَادِ فَجَائِزٌ. ترجمہ : سفید بالوں کو اکھاڑنا مکروہ ہے یونہی سفیدی کو سیاہی میں تبدیل کرنا مکروہ ہے. البتہ سیاہی کے علاوہ کسی اور رنگ میں تبدیل کرنا جائز ہے۔( تفسیر القرطبی،2/106،دارالکتب المصریہ القاہرہ)

    حضرت علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : ’’اور جو بوڑھے مرد بالوں کو سیاہ خضاب لگاتے ہیں، یہ سب اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو تبدیل کر رہے ہیں۔سفید بالوں کو عنابی،زَردیا مہندی کے رنگ سے رنگنا اس حکم میں داخل نہیں ہے، کیونکہ اس رنگ کا خضاب حدیث سے ثابت، مطلوب اور مستحب ہے‘‘۔(تفسیر تبیان القرآن ،ج2،سورۃ النساء:119، ،فرید بک اسٹال اردو بازار لاہور)

    سیاہ خضاب کا عدم جواز احادیث کی روشنی میں:

    بالوں کو سیاہ کلر لگانا مثلہ یعنی اللہ عزوجل کی تخلیق کو تبدیل کرنا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مَنْ مَثَّلَ بِالشَّعْرِ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَلَاقٌ.ترجمہ: جو بالوں کی ہیئات بگاڑے اللہ کے یہاں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں۔(المعجم الکبیر للطبرانی،11/41،رقم:10977، مکتبۃ الفصیلیۃ بیروت)

    علماء فرماتے ہیں ہیأت بگاڑنا کہ داڑھی مونڈے یا سیاہ خضاب کرے چنانچہ التیسیر شرح الجامع الصغیرمیں ہے : ای صیره مثلة بالضم بان نتفه او حلقه من الخدود اوغیره بالسواد. ترجمہ: یعنی بالوں کا مُثلہ کرے لفظ مثلہ حروف میم کے پیش کے ساتھ (مفہوم یہ ہے کہ بالوں کی شکل و رنگت کو بدل ڈالے) بالوں کی ہئیت بگاڑنا یہ ہے کہ سفید بال اکھاڑے جائیں یا انھیں رخساروں سے مونڈ دیا جائے یا انھیں سفید نہ رہنے دے اور سیاہ کرڈالے۔(التیسیر شرح الجامع الصغیر ،تحت حدیث من مثل بالشعر الخ ،2/444،مکتبۃ الامام الشافعی الریاض)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث خاص مسئلہ مثلہ مو میں ہے بالوں کا مثلہ یہی جو کلمات ائمہ سے مذکور ہوا کہ عورت سر کے بال یا مرد داڑھی یا مرد خواہ عورت بھنویں کما یفعلہ کفرۃ الھند فی الحداد (جیسے ہندوستان کے کفار لوگ سوگ مناتے ہوئے ایسا کرتے ہیں) یا سیاہ خضاب کرے کما فی المناوی والعزیزی والحفنی شروح الجامع الصغیر، یہ سب صورتیں مثلہ مومیں داخل ہیں اور سب حرام‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/664،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ خِضَابِ السَّوَادِ. ترجمہ : رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا۔(الطبقات الکبرٰی لابن سعد،ذکر ما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واصحابہ فی تغییر الشیب وکراھۃ الخضاب بالسواد،1/340،دار الکتب العلمیۃ)

    حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ». ترجمہ : فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ کو لایا گیا اور انکے سَر اور داڑھی کے بال ثغامہ (سفید پھولوں) کی طرح سفید تھے، حضور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سپیدی کو کسی چیز سے بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔(صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، باب فی صبغ الشعر وتغییر الشیب،3/1663،رقم:2102، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :«غَيِّرُوا الشَّيْبَ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ السَّوَادَ».ترجمہ : حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : پیری تبدیل کرو اور سیاہ رنگ کے پاس نہ جاؤ۔(مسند الإمام أحمد بن حنبل، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک،21/210،رقم:13588،مؤسسة الرسالة)

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الشَّيْبَةُ نُورٌ مَنْ خَلَعَ الشَّيْبَةَ فَقَدْ خَلَعَ نُورَ الْإِسْلَام. ترجمہ: سپیدی نور ہے جس نے اسے چھپایا اس نے اسلام کا نور زائل کیا۔( الضعفاء الکبیر للعقیلی،4/321،دارالکتب العلمیۃ)

    علامہ شیخ علی بن احمد العزیزی الشافعی (المتوفی:1070ھ) اس حدیث پر تفریع کرتے ہیں : فنَتْفُهُ مَکْروهٌ وَصَبْغُهُ بِالسَّوَادِ لِغَیْرِ الجِهَادِ حرامٌ. ترجمہ: یعنی پس سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب غیر جہاد میں حرام ۔(السراج المنیر شرح الجامع الصغیر ،تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ ،2/352،المطبعۃ الازہر یہ)

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ، قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ.ترجمہ: حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس ایک شخص گزرا جس نے مہندی سے بالوں کو رنگا ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ کتنا اچھا ہے ایک شخص مہندی اور کتم سے بالوں کو رنگے ہوئے گزرا آپ نے فرمایا یہ اس سے بھی اچھا ہے پھر ایک شخص زرد رنگ سے بالوں کو رنگے ہوئے گزرا آپ نے فرمایا یہ سب سے اچھا ہے۔( سنن ابی داؤد ، کتاب الترجل،باب ما جاء فی خضاب الصفرۃ، 4/86،رقم:4211، المكتبة العصرية بيروت)

    سیاہ خضاب کا عدم جواز فقہ حنفی کی روشنی میں:

    علامہ ابو العالی برہان الدین محمود بن احمد الحنفی رحمۃ الله علیہ (المتوفی 616 ھ) فرماتے ہیں :اتفق المشايخ أن الخضاب في حقّ الرِجالِ بالحمرة سنةٌ، وأنه من سِيَرِ المُسلمين وعلاماتهم، والأصل فيه قولُه عليه السلام: «غيّروا الشيب ولا تشبّهوا باليهود»... وأما الخضاب بالسواد: فمَن فَعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عَينِ العدوِّ فهو محمودٌ منه، اتفق عليه المشايخ، ومَن فَعل ذلك لِيَزينَ نفسَه للنِّساءِ، وليحببْ نفسَه إليهنّ فذلك مكروهٌ عليه عامّةُ المشايخ. وبنَحوِه وَرد الأثرُ عن عُمرَ رضي الله عنه. ترجمہ : مشائخ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مردوں کے لیے سرخ رنگ کا خضاب سنت ہے اور یہ مسلمانوں کے طرز عمل اور علامات میں سے ہے۔ اس کی دلیل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے کہ سفیدی کو بدلو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔سیاه خضاب اگر جہاد میں لگایا تاکہ دشمنوں پر رعب ہو تو یہ اچھا عمل ہے اس پر مشائخ کا اتفاق ہے اور اگر عورتوں کے لیے زینت کے طور پر لگایا تا کہ عورتیں اس کی طرف مائل ہوں تو یہ اکثر مشائخ کے نزدیک مکروہ ہے کہ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک اثر مروی ہے۔(المحيط البرھانی، کتاب الاستحسان والكراہیۃ الفصل الحادی والعشرون فی الرينۃ، واتحاد الخادم الخدمۃ،5/377،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    علامہ احمد بن محمد مکی رحمۃ الله عليہ (المتوفی 1098ھ) فرماتے ہیں : وَقَالَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ: الْخِضَابُ بِالسَّوَادِ مَكْرُوهٌ وَبَعْضُهُمْ جَوَّزَهُ وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَمَّا بِالْحُمْرَةِ فَهُوَ سُنَّة. ترجمہ : عامہ مشائخ نے فرمایا کہ سیاہ خضاب مکروہ ہے اور بعض نے جائز کہا اور وہ حضرت ابو یوسف سے مروی ہے۔ البتہ سرخ رنگ کا خضاب سنت ہے۔(غمز عيون البصائر فی شرح الأشباه واالنظائر، احكام الأنثی،3/388،دار الکتب العلمیة بیروت)

    علامہ محمد بن علی علاء الدين الحصکفی الحنفی رحمۃ الله عليہ (المتوفی 1088ھ) فرماتے ہیں: يُسْتَحَبُّ لِلرَّجُلِ خِضَابُ شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ وَلَوْ فِي غَيْرِ حَرْبٍ فِي الْأَصَحِّ، وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَفْعَلْهُ، وَيُكْرَهُ بِالسَّوَادِ، وَقِيلَ لَا. ترجمہ: مرد کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی داڑھی اور سر کے بالوں کو رنگے اگرچہ بغیر جہاد کے یہ عمل کرے زیادہ صحیح قول کے مطابق۔ اصح یہ ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے خضاب نہیں لگایا۔ سیاہ خضاب کا استعمال مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ مکروہ نہیں ہے۔( الدر المختار، باب الاستبراء وغيره، 6/422، دار الكتب العلمية بیروت)

    علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:(قَوْلُهُ جَازَ فِي الْأَصَحِّ) وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فَقَدْ قَالَ: يُعْجِبُنِي أَنْ تَتَزَيَّنَ لِي امْرَأَتِي كَمَا يُعْجِبُهَا أَنْ أَتَزَيَّنَ لَهَا وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ فِي الْحَرْبِ وَغَيْرِهِ وَاخْتَلَفَتْ الرِّوَايَةُ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ فِي عُمْرِهِ وَالْأَصَحُّ لَا. وَفَصَّلَ فِي الْمُحِيطِ بَيْنَ الْخِضَابِ بِالسَّوَادِ قَالَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ: إنَّهُ مَكْرُوهٌ وَبَعْضُهُمْ جَوَّزَهُ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ، أَمَّا بِالْحُمْرَةِ فَهُوَ سُنَّةُ الرِّجَالِ وَسِيَّمَا الْمُسْلِمِينَ اهـ مِنَحٌ مُلَخَّصًا وَفِي شَرْحِ الْمَشَارِقِ لِلْأَكْمَلِ وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَضَّبَ فِي وَقْتٍ، وَتَرَكَهُ فِي مُعْظَمِ الْأَوْقَاتِ، وَمَذْهَبُنَا أَنَّ الصَّبْغَ بِالْحِنَّاءِ وَالْوَسْمَةِ حَسَنٌ كَمَا فِي الْخَانِيَّةِ قَالَ النَّوَوِيُّ: وَمَذْهَبُنَا اسْتِحْبَابُ خِضَابِ الشَّيْبِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ بِصُفْرَةٍ أَوْ حُمْرَةٍ وَتَحْرِيمُ خِضَابِهِ بِالسَّوَادِ عَلَى الْأَصَحِّ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «غَيِّرُوا هَذَا الشَّيْبَ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ» اهـ ، قَالَ الْحَمَوِيُّ وَهَذَا فِي حَقِّ غَيْرِ الْغُزَاةِ وَلَا يَحْرُمُ فِي حَقِّهِمَا لِلْإِرْهَابِ وَلَعَلَّهُ مَحْمَلٌ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ الصَّحَابَة. ترجمہ : اصح قول کے مطابق جائز ہے(یعنی سیاہ خضاب لگانا) اور یہی حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے۔تحقیق آپ نے فرمایا مجھے یہ پسند ہے کہ میری بیوی میرے لیے بناؤ سنگار کرے جیسا کہ اسے یہ پسند ہے کہ میں اس کے لئے زیب و زینت کروں ۔ اوراصح یہ ہے کہ جنگ وغیرہ میں اس کا کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اس بارے میں روایت مختلف ہیں کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر مبارک میں ایسا کیا (یعنی خضاب کیا یا نہیں)۔ اوراصح یہ ہے کہ نہیں۔ اور ’’المحیط‘‘ میں سیاہ خضاب کے بارے میں تفصیل ہے۔ عام مشائخ نے فرمایا :بلاشبہ یہ مکروہ ہے۔ اور بعض نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے۔ رہا سرخ خضاب تو وہ مردوں کے لیے سنت ہے بالخصوص مسلمانوں کے لیے ’’منح‘‘، ملخصًا ۔ اور ’’الاکمل‘‘ کی ’’شرح المشارق‘‘ میں ہے : اورمختار یہ ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے کسی وقت خضاب کیا اور اکثر اوقات اسے چھوڑ دیا۔ اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ مہندی اور وسمہ کے ساتھ رنگنا اچھا ہے جیسا کہ ’’الخانیہ‘‘ میں ہے۔ امام نووؔی نے فرمایا : اور ہمارا مذہب یہ ہے کہ مرد اور عورت کے لیے اپنے بڑھاپے کوزرد یا سرخ رنگ کے ساتھ خضاب کرنا مستحب ہے ، اور اسے سیاہ رنگ کا خضاب لگانا اصح قول کے مطابق حرام ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غیّروا هذا الشیبَ واجْتَنِبوا السوادَ(تم اس بڑھاپے کو تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو)۔ حموؔی نے فرمایا : اور یہ حکم ان کے لیے ہے جو جنگ میں شریک ہونے والے نہ ہوں ۔ اور لشکریوں کے حق میں رعب اور خوف پیدا کرنے کے لیے حرام نہیں ہے۔ اور شاید یہی ان کا محمل ہے صحابہ کرام میں سے جنہوں نے یہ فعل کیا (یعنی جن صحابہ کرام نے سیاہ خضاب استعمال فرمایا وہ مجاہدین تھے)۔ ’’الطحطاوی‘‘۔(رد المحتار على الدر المختار،کتاب الخنثی،مسائل شتی، 6/756،دار الفکر بیروت)

    عقود الدریۃ میں ہے : " اَلْعَمَلُ بِمَا عَلَیْهِ الاَکْثَرْ". ترجمہ : اس پر عمل کرنا جس پر اکثر ہیں۔(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ،مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ،2/324،دار المعرفۃ)

    یعنی اکثر مشائخ کے سیاہ خضاب کے مکروہ تحریمی ہونے کے قول پر عمل کیا جائے گا کیونکہ عمل اس قول پر کیا جاتا ہے جس پر اکثر فقہاء کرام قائم ہوں۔

    (2) دور سے دیکھنے میں سیاہ لگے اور قریب سے دیکھنے پر دوسرا رنگ ظاہر ہو تو کوئی حرج نہیں ۔

    کیونکہ یہ سیاہ یا قریب بسیاہ نہیں بلکہ ایسا رنگ ہے جس میں سیاہی کی جھلک ہے اور ایسا رنگ بلا شبہ جائز ہےکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا خضاب حناء وکتم سے ملا ہوتاتھا ، وہ خضاب سیاہ رنگ نہ دیتا تھا بلکہ سرخی لاتا جس میں سیاہی کی جھلک ہوتی۔

    اعلی حضرت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:’’حدیث میں وارد کہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ حناوکتم سے خضاب فرماتے ہرگز مفید نہیں کہ بتصریح علماء ’’وہ خضاب سیاہ رنگ نہ دیتا تھا بلکہ سرخی لاتا جس میں سیاہی کی جھلک ہوتی‘‘، سرخ رنگ کا قاعدہ ہے جب نہایت قوت کو پہنچتا ہے ایک شان سیاہی کی دیتاہے ایسا خضاب بلاشبہ جائز بلکہ محمود جس کی تعریف صحیح حدیث میں خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول‘‘۔(فتاوی رضویہ،23/502،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    جواز کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بالوں کو سیاہ کرنے کی ممانعت سیاہ رنگ کے ساتھ خاص ہے۔لہذا اگر سیاہ رنگ کے علاوہ کسی رنگ سے بالوں میں سیاہی نظرآئے تو کوئی حرج نہیں۔چنانچہ علامہ علی بن سلطان قاری حنفی فرماتے ہیں: "فمعناه باللون الاسود".ترجمہ:حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ سیاہ رنگ لگا کر بالوں کو سیاہ کریں گے(اس لئے جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ پائیں گے)۔(مرقاۃ المفاتیح،باب الترجل،7/293،کوئٹہ)

    معلوم ہوا کہ بالوں کی سیاہی صرف سیاہ رنگ کے ساتھ خاص ہے،لہذا کسی نے براؤن رنگ کا خضاب لگایا اور دور سے دیکھنے میں سیاہی محسوس ہو تو حرج نہیں۔اور اگر مذکورہ صورتیں نہ ہوں تو ایسا خضاب ناجائز ہوگا۔

    (3)عورت کا بطور زینت سیاہ خضاب لگانا جائز نہیں۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: ’’شاہد عدل ہے کہ عورت اس کی زیادہ محتاج ہے کہ شوہر کی نگاہ میں آراستہ ہو جب اسے یہ امور تغیر خلق اللہ کے سبب حرام و موجب لعنت ہے، تو مرد پر بدرجۂ اولیٰ‘‘۔(فتاوی رضویہ،23/493،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ)رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’بعض لوگ مطلقا سیاہ خضاب جائز کہتے ہیں، بعض لوگ عورتوں کے لئے جائز کہتے ہیں، بعض مردوں کے سَر کے لیے جائز کہتے ہیں اور داڑھی کے لئے ممنوع مانتے ہیں، بعض لوگ اسے مکروہ تنزیہی کہتے ہیں یہ کل ضعیف ہے صحیح یہی ہے کہ سیاہ خضاب مطلقا مکروہ تحریمی ہے مرد، عورت، سَر، داڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں‘‘۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح،6/166،نعیمی کتب خانہ گجرات)

    (4) اوّلا سفید بالوں کو رنگنے کا حکم استحبابی ہے۔ثانیا رنگ کرنے کے مقابل جس کے بالوں کی سفیدی کی نظافت احسن ہو تو ایسے شخص کیلئے بالوں کونہ رنگنا اولیٰ ہے اور وہ شخص جسکی سفیدی میں نظافت نہ ہواور میلا پن ہو اسکے لئے بالوں کا رنگنا اولی ٰہے۔

    المنہاج شرح صحیح مسلم میں ہے: "قال القاضي وقال غيره هو على حالين فمن كان فى موضع عادة أهل الصبغ أو تركه فخروجه عن العادة شهرة ومكروه والثاني أنه يختلف باختلاف نظافة الشيب فمن كان شيبته تكون نقية أحسن منها مصبوغة فالترك أولى ومن كانت شيبته تستبشع فالصبغ أولى هذا مانقله القاضي والأصح الأوفق للسنة ما قدمناه عن مذهبنا".ترجمہ:امام قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ و دیگر فرماتے ہیں:یہ معاملہ دو حال پر مشتمل ہے،پہلا یہ کہ تو جو شخص کسی ایسے علاقہ میں ہو جہاں بال رنگے جاتے ہوں یا ایسے جگہ جہاں نہیں رنگے جاتے تو ان علاقوں کی عادت سے خروج شہرہ چاہنا ہے اور مکروہ ہے ۔دوسرا یہ کہ خضاب کا حکم بالوں کی نظافت کے اعتبار سے مختلف ہےلہذا جس کے بال رنگنے کےمقابل زیادہ صاف ستھرے ہوں تو اس کیلئے اپنے بالوں کو نہ رنگنا اولی ہےاور جس کے بالوں میں بدنمائی تو اس کیلئے رنگنا اولی ہے،یہ تقریر قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ کی ہےاور اصح اور اوفق سنتِ رسولﷺ کی پیروی جسے ہم نے اپنے مذہب میں بیان کردیا۔(المنہاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووی،کتاب اللباس والزینۃ،باب استحباب خضاب الشیب،14/80،دار احیاء التراث العربی بیروت)

    شبہات:

    (1) جوانی میں بال سفید ہونے کی صورت میں سیاہ خضاب کے حکم سے متعلق کوئی صریح عبارت نہیں ملتی، البتہ بڑھاپے میں سفید بالوں کے خضاب سے ممانعت کی دونوں علتیں یہاں مفقود ہیں:

    پہلی علت دھوکہ ہےاسی لئے بڑھاپے میں سفید بالوں کا سیاہ خضاب کرنا جائز نہیں ہے، لیکن چونکہ جوانی میں سیاہ خضاب لگانے میں کسی قسم دھوکہ نہیں، بلکہ ایک طرح سے اظہارِ حقیقت ہے، کیونکہ بالوں کا سیاہ ہونا جوانی کا طبعی تقاضا ہے۔

    اسی طرح دوسری علت یعنی مثلہ کرنا بھی نہیں۔ مثلہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی تخلیق کو تبدیل کیا جائےجبکہ نوجوان شخص سیاہ خضاب لگا کر اپنے بالوں کی تخلیق نہیں بدلتا بلکہ اپنے عیب کو زائل کر تا ہے کیونکہ جوانی میں بالوں کا سفید ہوجانا ایک قسم کی بیماری اور عیب ہےاور عیب کا ازالہ کرنا شرعا جائز ہے۔مثلاً کسی کی آنکھیں کمزور ہوں تو اس کا عینک استعمال کرنا یا سرمہ لگانا (جس سے آنکھوں کی کمزوری دور ہوتی ہو) یا کسی بھی طرح اس کمزوری کا علاج کروانا مثلہ کرنا نہیں بلکہ عیب کو عارضی یا مستقل زائل کرنا ہے،لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ اللہ عزوجل نے اِسے کمزور آنکھوں والا تخلیق کیا لہذا ایسے کا عینک استعمال کرنا یا اپنا علاج کروانا مثلہ کرنا ہے۔الغرض انسانی عیوب جن کے ساتھ انسان کی تخلیق کی گئی ،انہیں عارضی یا مستقل زائل کرنا علاج میں شمار ہوگا نہ کہ مثلہ میں۔لہذا نوجوان کےلیے سیاہ خضاب لگانے کی شرعی گنجائش موجود ہے۔

    ملفوظات شریف میں اعلی حضرت رحمہ اللہ سے ادویات وغیرہ کھا کر بال سیاہ کرنے کے متعلق سوال کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:اس میں کوئی حرج نہیں،دوا کھانے سے سپید (سفید) بال سیاہ نہ ہو جائیں گے،بلکہ قوت وہ پیدا ہوگی کہ آئندہ سیاہ نکلیں گے،تو کوئی دھوکہ نہ دیا گیا نہ خلق اللہ کی تبدیل کی گئی۔(ملفوظات اعلی حضرت،حصہ دوم،ص:311،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    مشکاۃ المصابیح کی روایت ہے: "عن ابن عباسرضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:«يكون قوم في آخر الزمان يخضبون بهذا السواد، كحواصل الحمام، لا يجدون رائحة الجنة»".ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں ایک قوم ہوگی جو اس سیاہی سے خضاب کیا کرے گی کبوتروں کے پوٹوں کی طرح وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،باب الترجل،7/2828،رقم:44452،دار الفکر بیروت)

    اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:’’اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ سیاہ خضاب حرام ہے، خواہ سر میں لگائے یا داڑھی میں ، مرد لگائے یا عورت، اس سے معذوری کی حالت مستثنیٰ ہے، علاج کے لیے، یا غزوہ کے لیے سیاہ خضاب جائز ہے، بعض لوگ مطلقاً سیاہ خضاب جائز کہتے ہیں، بعض لوگ عورتوں کے لیے جائز کہتے ہیں، بعض مردوں کے سر کے لیے جائز کہتے ہیں، داڑھی کے لیے ممنوع مانتے ہیں، بعض لوگ مکروہ تنزیہی کہتے ہیں، یہ کل ضعیف ہیں، صحیح وہ ہی ہے کہ سیاہ خضاب مطلقاً مکروہ تحریمی ہے ۔ مرد و عورت سر داڑھی سب اسی ممانعت میں داخل ہیں ‘‘۔(مرأۃالمناجیح،کنگھی کرنے کا بیان،6/140،رقم:4253،قادری پبلیشرز لاہور)

    (2)جب سیاہ خضاب منصوص علیہ مسائل میں ہے تو مجاہدین کیلئے سیاہ خضاب کا استثناء کس نص سے ثابت ہے؟

    ازالہ شبہات:

    (1)منصوص علیہ مسائل میں علتوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور سیاہ خضاب کے متعلق نصوص موجود ہیں جن میں جوان و بوڑھے کی قید کے بغیر مطلقا ممانعت وعیدات وارد ہوئی ہیں۔لہذا منصوص علیہ مسائل میں اگر علتیں نہ بھی پائی جائیں تب بھی حکم اپنی جگہ قائم رہتا ہے تبدیل نہیں ہوتا۔اسکی واضح مثال انگور کی شراب ہے کہ فقہاء کرام نے دیگر شرابوں پر حکم کو متعدی کرنے واسطے علّتِ سُکر مستنبط فرمائی، لیکن اس استنباط سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر کہیں انگور کی شراب میں علّتِ سُکر نہ پائی جائے تو حکم حرمت بھی نہیں پایا جائے گا بلکہ حکم قائم رہے گا۔ہاں غیر منصوص علیہ مسائل میں اگر علت نہ پائی جائے تو حکم متعدی نہیں ہوتا۔

    لہذا خضاب کو دواکے مسئلے پر قیاس کرنا درست نہیں کہ خضاب منصوص علیہ ہے جبکہ دوا کامسئلہ غیر منصوص علیہ۔رہی مرآۃ المناجیح کی عبارت تو اس کا جواب یہ ہے کہ علاج کا استثنا ءمقید ہے کہ جب اسی میں علاج منحصر ہو اور شفا ء یقینی ہوجبکہ یہ بعید اور نادر ہے لہذا علاج کی صورت بھی منتفی ہوئی ۔ یہ براہ راست منع نہیں مگر بالواسطہ منع ہے۔

    (2)مجاہد کا استثناء ’’حاجتِ خاصہ‘‘کی وجہ سے ہے۔شریعت مطہرہ کے دلائل دو طرح کے ہیں ، مطلقہ،مقیدہ۔مطلقہ سے مراد کتاب اللہ، سنت رسول الله، اجماع امت ہیں جو ہر حال میں حجت رہتے ہیں اور مقیدہ اسباب سبعہ ہیں کہ یہ صرف مخصوص حالات میں حجت کا درجہ پاتے ہیں۔

    اسباب سبعہ یہ ہیں: (1)ضرورت۔(2)حاجت۔(3)عموم بلوی ۔(4) عرف۔(5) تعامل(6)مصلحت دینی۔(7) ازالہ فساد ۔

    مفتی محمد نظام الدین مصباحی دامت برکاتہم العالیہ حاجت کی فقہی تعریف بیان کرتے ہیں:’’حاجت مجبوری کی وہ حالت جس میں فعل یا ترک فعل پردین، جان،عقل، نسب، مال یا ان میں سے کسی کا تحفظ موقوف نہ ہو مگر اس کے بغیر مشقت وضرر کا سامنا کرنا پڑے‘‘۔(فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول:47،والضحی پبلی کیشنر)

    نیزحاجت ِخاصہ کے متعلق مفتی صاحب فرماتے ہیں:’’حاجت خاصہ وہ حاجت ہے جو کسی ایک فرد یا ایک نوع کے لوگوں کےساتھ خاص ہو۔جیسے نوع اعمی کے لیے جمعہ و جماعت سے چھوٹ، نوع مسافر کے لیے بھی جمعہ و جماعت سے چھوٹ‘‘۔(فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول:153،والضحی پبلی کیشنر)

    ابو عبد الله بدر الدين محمد بن عبد الله الزركشی(المتوفى:794ھ) فرماتے ہیں:"الْحَاجَةُ الْخَاصَّةُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَ... (وَمِنْهُ) : الْخِضَابُ بِالسَّوَادِ لِلْجِهَادِ لِمَا قَالَهُ الْمَاوَرْدِيُّ".ترجمہ:حاجتِ خاصہ ممنوع شرعی کو مباح کردیتی ہے اسی سے ہے جہاد کیلئے سیاہ خضاب استعمال کرنا جیسا کہ امام ماوردی نے فرمایا۔ (المنثور فی القوائد الفقہیہ،2/25-26، وزارة الأوقاف الكويتيۃ)

    حاجت واجب کے درجے میں ہوتی ہے،لہذا واجب کے ترک اور مکروہ تحریمی کے ارتکاب کیلئے حاجت کا تحقق ضروری ہے اور سیاہ خضاب مکروہ تحریمی ہے لہذا حاجت کی بناء پر مجاہد کیلئے سیاہ خضاب مباح ہے۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1444 ھ/18 مئی 2023ء