سی سی ٹی وی کیمرہ کا شرعی حکم
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 166

    سوال

    ہمارے ہاں آج کل وقف اداروں،مساجد ،دوکانوں اور گھروں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جاتے ہیں حالانکہ قرآن مجید میں تجسس کرنے کی ممانعت بیان ہوئی اور حدیث مبارکہ میں بروز قیامت جاسوسوں کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالنے کی وعید بھی واردہوئی ہے۔لہذا اس مسئلے میں شریعت کا حکم واضح فرمادیں۔

    سائل: عبد اللہ ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بلا ضرورتِ شرعی عام حالات میں لوگوں کے احوال کی ٹوہ میں لگنا ممنوع ہے لیکن وقف اداروں،مساجد وغیرہ کے معاملات کی حفاظت کے لیے جب ضرورتِ شرعی کا تحقق ہو تو سی سی ٹی وی کیمرے لگانا جائز ہے۔

    اجمال کی تفصیل :

    دنیا کی بقا کے لیے جن چیزوں کا تحفظ ضروری ہے ان میں سے پانچ امور کوبنیادی حیثیت حاصل ہے:

    (1) دین (2) جان (3) عقل (4) نسب (5) مال۔

    باقی چیزیں انھیں پانچوں امور کے ساتھ کسی نہ کسی حیثیت سے جڑی ہوئی ہیں اس لیے ان امور کو ’’کلیاتِ خمسہ‘‘ کہا جاتا ہے کہ ان کی حیثیت گویا گلی کی ہے اور باقی امور انھیں کے جزئیات و فروع ہیں۔

    لہذااگر فعل (یعنی کچھ کرنے) یا ترکِ فعل(یعنی کچھ نہ کرنے)پر دین وعقل ونسب وجان ومال میں سے کسی کا تحفظ موقوف ہو اور اسکے بغیر مذکورہ مقاصد میں سے کوئی ایک یا سب فوت ہوجائیں تو یہ ضرورت شرعی ہے ۔

    پھر ضرورت کی بناء پر محظورِ شرعی (یعنی ممنوع شرعی) یا تو مباح ہوجائے گی۔جیسے:خمر،خنزیر ،میتہ وغیرہ۔

    یا مباح تو نہیں ہوگی مگر ان کے ارتکاب کی رخصت ملے گی۔جیسے:کلمہ کفر کا تلفظ۔

    یا کسی بھی حال میں مباح نہیں ہوگی۔جیسے:قتل ناحق ، زنا ،قطع عضو۔

    ضرورت اس تیسری قسم میں اثر انداز نہیں ہوتی ، بقیہ دو میں اپنی اثر انگیزی کی وجہ سے اباحت یا رخصت کا سبب بنتی ہے۔

    ایسا ہی علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) نے اپنی کتاب ’’بدائع الصنائع‘‘ میں فرمایا ۔(بدائع الصنائع،7/176-177،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    فقہ اسلامی کا قاعدہ ہے:"الضرورات تبيح المحظورات". ترجمہ:ضروریات شرعیہ ممنوعات شرعیہ کو مباح کردیتی ہے۔(الأشباہ والنظائر،1/73،دار الکتب العلمیۃ)

    مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامت شرائع الٰہیہ ہے دین وعقل ونسب ونفس ومال عبث محض کے سوا تمام افعال انھیں میں دورہ کرتے ہیں اب اگر فعل (کہ ترک بمعنی کف کو کہ وہی مقدور وزیر تکلیف ہے نہ کہ بمعنی عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل ) اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبہ ضرورت ہے جیسے دین کے لئے تعلم ایمانیات و فرائض عین، عقل ونسب کے لئے ترک خمروزنا، نفس کے لئے اکل وشرب بقدر قیام بنیہ، مال کے لئے کسب ودفع غصب امثال ذٰلک، اور اگر توقف نہیں مگر ترک میں لحوق مشقت وضرر وحرج ہے تو حاجت جیسے معیشت کے لئے چراغ کہ موقوف علیہ نہیں ابتدائے زمانہ رسالت علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ (صاحب رسالت پر عمدہ درود اور ثناء ہو) میں ان مبارک مقدس کاشانو ں میں چراغ نہ ہوتا۔مگر عامہ کے لئے گھر میں بالکل روشنی نہ ہونا ضرورباعث مشقت وحرج ہے، اوراگر یہ بھی نہ ہو مگر حصول مفید ہے نفس فائدہ مقصودہ اس سے حاصل ہوتا ہے، تو منفعت جیسے مکان کے ہر دالان میں ایک چراغ، اوراگر فائدہ مقصودہ کی تحصیل اس پر نہیں بلکہ ایک امرزائد زیب وزیبائش بقدر اعتدال کے لئے ہے تو زینت جیسے چراغ کی جگہ فانوس، اوراگر اس سے اتنافائدہ بھی نہیں یا اس میں افراط اور خروج عن الحد ہے فضول جیسے بے کسی نیت محمودہ کے گھر میں چراغاں۔

    اب مواضع ضرورت کا استثناء تو بدیہی جس کے لئے اصل دوم کافی اور اس کی فروع معروف ومشہور اور استفسار سے بعید و مہجور، مثلا کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھے ورنہ لیٹ کر ورنہ اشارہ سے الی غیر ذٰلک مما لایخفی (ان کے علاوہ باقی صورتیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں) ا س کے لئے تمام ممنوعات کہ کسی حال میں قابل اباحت یا متحمل رخصت ہوں یا مرخص ہوجاتے ہیں نہ مثل زنا وقتل ناحق مسلم کہ کسی شدید سے شدید ضرورت کے لئے بھی مرخص نہیں ہوسکتے، یہاں تک کہ اگر صحیح خوف قتل کے سبب بھی ان پر اقدام کرے گا مجرم ہوگا، حکم ہے کہ بازر ہے اگر چہ قتل ہوجائے، اگر مارا گیا اجر پائے گا کما نصوا علیہ اصولا و فروعا (جیسا کہ اصول وفروع کے لحاظ سے ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی)۔

    پھر اپنی ضرورت تو ضرورت ہے ہی دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی لحاظ فرمایا گیا۔ مثلا: (1) دریا کے کنارے نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص ڈوبنے لگااور یہ بچا سکتا ہے لازم ہے کہ نیت توڑ ے اور اسے بچائے، حالانکہ ابطال ِعمل حرام تھا۔ (2) نماز کا وقت تنگ ہے ڈوبتے کو بچانے میں نکل جائے گا، بچائے، اور نماز قضاء پڑھے اگر چہ قصدًا قضا کرنا حرام تھا۔ (3) نماز کا وقت جاتاہے اور قابلہ اگر نماز میں مشغول ہو بچے پر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نماز کی تاخیر کرے۔ (4) نماز پڑھتاہے اور اندھا کنویں کے قریب پہنچا، اگر یہ نہ بتائے وہ کنویں میں گرجائے نیت تو ڑکر بتانا واجب ہے۔ اشباہ میں ہے : تخفیفات الشرع انواع الخامس تخفیف تاخیر کتاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا فی حق مشتغل بانقاذ غریق و نحوہ.یعنی شریعت کی سہولتوں کی کئی قسمیں ہیں، پانچویں قسم یہ ہے کہ تاخیر کی سہولت ہے۔ جیسے دو شخص جو کسی ڈوبتے ہوئے کو بچائے تو اس کا اپنی نماز میں تاخیر کرنا۔ اقول: (اعلی حضرت فرماتے ہیں میں کہتاہوں) یہ بھی حقیقۃ اپنے نفس کی طرف راجع کہ یہ شرعا ان کے بچانے پر مامور ہے ‘‘۔(فتاوی رضویہ،21/205-207،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    لہذا وقف اداروں،مساجد وغیرہ کے معاملات کی حفاظت کے لیے جب ضرورتِ شرعی کا تحقق ہو تو سی سی ٹی وی کیمرے لگانا جائز ہے۔

    اشکال کا جواب:

    قر آن مجید اور احادیث مبارکہ میں جس تجسس سے منع کیا گیا یا وعید وارد ہوئی اس سے مراد کسی شخص کے نجی اور شخصی معاملات کی ٹوہ میں لگنا ہے۔لہذا جہاں کسی شخص پر شبہ ہو کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے جان و مال کا خطرہ ہے تو وہاں حفاظتی اقدامات اٹھانا ممنوع نہیں۔

    کون سا تجسس ممنوع ہے؟

    شیخ الحدیث علامہ غلام رسول سعیدی (المتوفی:1437ھ) فرماتے ہیں:’’اس مقام پر یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ قر آن مجید میں جو تجسس سے منع کیا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کے نجی اور شخصی معاملات کی ٹوہ میں نہیں رہنا چاہیے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق یہ شبہ ہو کہ اس کی در پردہ سرگرمیاں دوسرے بے گناہ افراد کے جان و مال اور عزت و آبرو کے لیے خطرہ ہیں یا اس کی کاروائیاں ملک کی سلامتی اور امن عامہ کے منافی ہوں ،تب بھی اس کو پرایا معاملہ سمجھ کر اس سے غیر متعلق رہا جائے بلکہ اس صورت حال کی پوری قوت سے اصلاح کرنی چاہیے کیونکہ اب یہ ایک فرد کا معاملہ نہیں پوری قوم کا معاملہ ہے، اس قسم کی صورت حال کی اصلاح انسان خود انفرادی طور پر نہیں کر سکتا اس لیے اس کو حکومت کے علم میں لانا ضروری ہے اور اس سے صرف نظر کرنا نہ صرف یہ کہ ملک وملت کا نقصان ہے بلکہ شرعاً بھی ناجائز اور گناہ ہے‘‘۔(شرح صحیح مسلم،6/117،فرید بک اسٹال لاہور)

    مزید فرماتے ہیں:’’اگر کسی شخص کا عیب صرف اس کی ذات تک محدود ہو تواس کی جستجو کر نا اوراس کی تحقیق کرنامنع ہے لیکن اگر کسی شخص کا عیب ملک اور قوم اور اجتماعی معاشرہ کے لیے مضر ہو، تو پھر اس کی تحقیق کر کے اس سے باز پرس کرنا اور اس کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔اس کی اصل حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی حدیث ہے۔مثلاً ایک شخص خفیہ طریقہ سے شراب یا ہیروئن پیتا ہے یا جوا کھیلتا ہے یا زنا کرتا ہے تو اس میں تجسس نہ کیا جائے لیکن اگر وہ شخص خفیہ طریقہ سے شراب یا جوئے کا اڈہ بنالیتا ہے یا قحبہ خانہ کھول لیتا ہے جس سے مسلمانوں کے معاشرہ میں بد چلنی اور بے راہ روی پھیل رہی ہو تو اس کے اڈے کا کھوج لگا کر اس کو ختم کرنا اور اس شخص کو قرار واقعی سزا دلوانا ضروری ہے‘‘۔(شرح صحیح مسلم،6/119،فرید بک اسٹال لاہور)

    فقہی تکییف:

    اس مسئلہ کی فقہی تکییف راویوں کا عیب بیان کرنا (کہ وہ غیبت میں داخل نہیں)، جاسوس ،حفاظتی کتے اور فاسق معلن کے بیانِ فسق سے کی جاسکتی ہے جس کا جواز عام کتب فقہیہ میں موجود ہے۔

    دشمن ملک کی طرف جاسوس روانہ کرنے کی اصل حدیث:

    صحیح البخاری کی روایت ہے: "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ»".ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس جاسوس روانہ کئے جن پر حضرت عاصم بن ثابت انصاری کو ان کا امیر بنایا۔(صحیح البخاری،کتاب المغازی،5/78،رقم:3989،دار طوق النجاۃ)


    فاسق کی غیبت حرام نہیں:

    شعب الایمان کی روایت ہے: "عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرْعَوْنَ عَنْ ذِكْرِ الْفَاجِرِ، اذْكُرُوهُ بِمَا فِيهِ كَيْ يَعْرِفَهُ النَّاسُ وَيَحْذَرَهُ النَّاسُ". ترجمہ: بہزبن حکیم اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم فاسق (کے فسق) کو بیان کرنے سے ڈرتے ہو؟ اس کے فسق کو بیان کرو تاکہ لوگ اس کو پہچان لیں۔(شعب الایمان ،12/163،رقم:9219،مکتبۃ الرشد)

    نیز اسی سند سے مروی ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"لَيْسَ لِلْفَاسِقِ غِيبَةٌ". ترجمہ: فاسق کے فسق کا ذکر کرنا غیبت نہیں ہے۔(شعب الایمان ،12/163،رقم:9218،مکتبۃ الرشد)

    ابو سعید امام حسن بن یسار البصری (المتوفی:110ھ) سے روایت ہے فرماتے ہیں:"ثَلَاثَةٌ لَيْسَتْ لَهُمْ حُرْمَةٌ فِي الْغِيبَةِ: فَاسِقٌ يُعْلِنُ الْفِسْقَ، وَالْأَمِيرُ الْجَائِرُ، وَصَاحِبُ الْبِدْعَةِ الْمُعْلِنُ الْبِدْعَةَ ".ترجمہ:تین آدمیوں کی غیبت حرام نہیں۔(۱) وہ فاسق جو اپنے فسق کا اظہار کرے،(۲) ظالم بادشاہ ،(۳)وہ بدعتی جو بدعت کا اعلان و اظہار کرے۔(شعب الایمان ،12/167،رقم:9221،مکتبۃ الرشد)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "فَتُبَاحُ غِيبَةُ مَجْهُولٍ وَمُتَظَاهِرٍ بِقَبِيحٍ وَلِمُصَاهَرَةٍ وَلِسُوءِ اعْتِقَادٍ تَحْذِيرًا مِنْهُ، وَلِشَكْوَى ظِلَامَتِهِ لِلْحَاكِمِ".ترجمہ: نا معلوم شخص، جو اعلانیہ قبیح افعال کرتا ہو،رشتہ مصاہرت کے لیے، برے اعتقاد کی وجہ سے تا کہ لوگوں کو اس سے بچایا جائے۔ اور حاکم کے سامنے اس کے ظلم کے شکوہ کے طور پر غیبت جائز ہے۔(الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/409،دار الفکر)

    علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"يُزَادُ عَلَى هَذِهِ الْخَمْسَةِ سِتَّةٌ أُخْرَى مَرَّ مِنْهَا فِي الْمَتْنِ ثِنْتَانِ، الْأُولَى: الِاسْتِعَانَةُ بِمَنْ لَهُ قُدْرَةٌ عَلَى زَجْرِهِ، الثَّانِيَةُ: ذِكْرُهُ عَلَى وَجْهِ الِاهْتِمَامِ، الثَّالِثَةُ: الِاسْتِفْتَاءُ... الرَّابِعَةُ: بَيَانُ الْعَيْبِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ عَبْدًا، وَهُوَ سَارِقٌ أَوْ زَانٍ فَيَذْكُرُهُ لِلْمُشْتَرِي، وَكَذَا لَوْ رَأَى الْمُشْتَرِي يُعْطِي الْبَائِعَ دَرَاهِمَ مَغْشُوشَةً فَيَقُولُ: احْتَرِزْ مِنْهُ بِكَذَا، الْخَامِسَةُ: قَصْدُ التَّعْرِيفِ كَأَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا بِلَقَبِهِ كَالْأَعْرَجِ وَالْأَعْمَشِ وَالْأَحْوَلِ، السَّادِسَةُ: جُرْحُ الْمَجْرُوحِينَ مِنْ الرُّوَاةِ وَالشُّهُودِ وَالْمُصَنِّفِينَ فَهُوَ جَائِزٌ بَلْ وَاجِبٌ صَوْنًا لِلشَّرِيعَةِ". ترجمہ: ان پانچ پر چھ اور کو زائد کیا گیا ہے جن میں سے متن میں دو گزر چکی ہیں۔ (1) اس سے مدد لینا جسے اس کو جھڑ کنے پر قدرت ہو (2) افسوس کے طور پر ذکر کرنا (3) فتویٰ طلب کرنے کے لیے۔ (4) چوتھی صورت یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے عیب کو بیان کرنا جو غلام خریدنا چاہتا ہو جب کہ غلام چور ہو یا زانی ہو۔ پس مالک مشتری کے لیے ان عیوب کو ذکر کرتا ہے اسی طرح اگر وہ مشتری کو دیکھتا ہے کہ وہ بائع کو کھوٹ والے در اہم دیتا ہے تو وہ کہتا ہے: اس سے اس وجہ سے احتیاط کر۔ (5) پانچویں صورت یہ ہے کہ اس نے پہچان کرانے کا قصد کیا اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اس لقب سے معروف ہو جیسےلنگڑا، چوندا (کمزور نگاہ)اور بھینگا ۔ (6) چھٹی صورت یہ ہےکہ راویوں ، گواہوں اور مصنفین جو مجروح ہوں کے بارے میں جرح تو یہ جائز ہے بلکہ واجب ہے یہ شریعت کی حفاظت کی خاطر ہے سب گیارہ ہیں جن کو میں نے اپنے اس قول میں جمع کر دیا ہے‘‘۔(رد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/409،دار الفکر)

    ابو الحسن امام مسلم بن الحجاج القشيری النيسابوری (المتوفى: 261ھ) رحمہ اللہ نےصحیح مسلم میں مستقل باب باندھا بنام"الكشف عن معايب رواة الحديث"( حدیث کے راویوں کا عیب بیان کرنا)جس کے تحت محدثین نے راویوں کے وہ عیوب بیان کئے جو روایت ِحدیث میں مانع ہوتے ہیں۔

    حفاظتی کتے کا حکم:

    مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ کتاپالناحرام ہے، جس گھرمیں کتاہو اس گھرمیں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا، روز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں... صرف دوقسم کے کتے اجازت میں رہے ایک شکاری جسے کھانے یادوا وغیرہ منافع صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہو، نہ شکار تفریح کہ وہ خود حرام ہے، دوسرا وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں، آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اﷲتعالٰی کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،24/657-658،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: ذوالحجہ 1444 ھ/23 جون2023ء