سوال
بٹ اور اوجھڑی کھانا کیسا ہے؟ آیا یہ حلال ہیں یا حرام؟ حکم شرع بیان فرمادیں۔
سائل: عبد اللہ ،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بَٹ کھانا جائز ہے۔کیونکہاوجھڑی اور بٹ کے درمیان ایک چکنی جھلی ہوتی ہے جسکے سبب نجاست بٹ کے اندر سرایت نہیں کرتی لہذا حلال جانوروں کی بَٹ کھانا جائز ہے۔
چنانچہ کتاب مصدقات تاج الشریعہ میں حضرت علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ کا بٹ کی حلّت پر فتوی جس پرحضورتاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختررضاخان علیہ الرحمۃ کی بھی تصدیق ہے، ان الفاظ کے ساتھ موجودہے:’’بٹ کھانابلاکسی ادنی کراہت کے جائزہے ،بٹ اگرچہ معدے کے اوپرکاگوشت ہے مگراس میں اورنجاست میں ایک موٹی جھلی ،جسکوہمارے یہاں کی زبان میں جھروتا کہتے ہیں ،حائل ہوتی ہے ،یہ جھلی اتنی موٹی ہوتی ہے کہ اس کی چھنی بنتی ہے،اس لیے بٹ معدے کے حکم میں نہیں ،اس لیے کہ کراہت کی علت نجاست کے ساتھ اتصال ہے اوروہ بٹ میں مرتفع ہے ‘‘۔ (مصدقات تاج الشریعہ،ص39،بریلی شریف)
البتہ اوجھڑی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے،اکثر علماء کرام کے نزدیک اوجھڑی مکروہ تحریمی ہے حرام کے مثل ہے،کیونکہ اوجھڑی مثانے کی مثل ہے کہ مثانے میں پیشاب جمع ہوتا ہے اور اوجھڑی میں گوبر جمع ہوتا ہے۔مثانے کو حدیث پاک میں مکروہ فرمایا گیا جس سے فقہائے کرام نے مکروہ تحریمی مراد لیا، اسی طرح اوجھڑی کا بھی یہی حکم ہو گا اور اسی پر فتوی ہے اور عمل اکثر ہی پر کیا جاتا ہے نہ کہ بعض پر۔
الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن کی تحقیق یہی ہے اور یہی معتمد و معتبر ہے ۔بڑے بڑے علماء و مفتیان کرام کا یہی موقف ہے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے فتاوی میں 10 دس اشیاء کی کراہت ِتحریمی بدلائل ثابت فرمائی ہے،جس میں اوجھڑی بھی شامل ہے۔آپ علیہ الرحمہ نے اوجھڑی کو مثانے پر قیاس فرمایا کہ یہ گوبر کا مستقر ہے ۔نیز طبیعت بھی اسے پسند نہیں کرتی بلکہ گھن کھاتی ہےاورحکمِ قرآنی کے مطابق نبی کریم ﷺ لوگوں پر خبائث حرام فرماتے ہیں۔خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے سلیم الطبع لوگ گھن کریں۔لہذا مثانہ اور اوجھڑی میں مشترک علّت پائی جانے کے سبب دونوں کا حکم مکروہ تحریمی ہوگا۔
اعلی حضرت رحمہ اللہ کے فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث میں سات چیزوں کی ممانعت وارد ہے۔(2-1)زنانہ و مردانہ عضو تناسل،(3)خصیہ یعنی کپورے،(4) غدود(گردن پر ، حَلْق میں اور بعض جگہ چربی وغیرہ میں چھوٹی بڑی کہیں سُرخ اور کہیں مَٹیالے رنگ کی گول گول گانٹھیں ہوتی ہیں ان کو عَرَبی میں غُدَّہ اور اُردو میں غُدُود کہتے ہیں )،(5) مثانہ ،(6)پِتہ اور (7)خون۔پھر علامہ قاضی بدیع خوارزمی صاحب،علامہ شمس الدین محمد قہستانی،علامہ محمد سیدی احمد مصری وغیرہم علماء نےمزید پانچ اشیاء کا اضافہ بھی فرمایا۔ (1) نخاع الصلب یعنی حرام مغز (2) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (3) جگر کا خون (4) طحال یعنی تلی کا خون (5) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے رستا ہے۔معلوم ہوا کہ کر اہت اِنہیں (حدیث مبارکہ سے ماخوذ)سات میں منحصر نہیں ہیں بلکہ علت کراہت کے پائے جانے کے بعد دوسری چیز میں بھی مکروہ ہوں گی اور ظاہر ہے علت کر اہت ان میں خبیث(جس سے گِھن اور نفرت کی جائے) ہونا ہے۔ لہذا جو چیز بھی (مثلاً اوجھڑی وغیرہ) ان سات کی طرح گندی گھناؤنی ہوں گی مکروہ تحریمی قرار پائیں گی۔
دلائل و جزئیات:
فقیہ ملّت مفتی جلال الدین احمد الامجدی فرماتے ہیں:’’اوجھڑی اور آنتین کھانا درست نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ. ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خبائث یعنی گندی چیزیں حرام فرمائیں گے(الاعراف:157) ۔اور خبائث سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے سلیم الطبع لوگ گھن کریں اور انھیں گندی جانیں۔ امام اعظم سیدنا ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:"اما الدم فحرام بالنص واكره الباقية مما لانها مما تنتخبثها الانفس قال تعالى: وَیُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ".اس سے معلوم ہوا کہ حیوان ماکول اللحم کے بدن میں جو چیزیں مکروہ ہیں ان کا مدار خبث پر ہے اور حدیث میں مثانہ کی کراہت منصوص ہے اور بیشک اوجھڑی اور آنتیں مثانہ سے خباثت میں زیادہ نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں۔مثانہ اگر معدن بول ہے تو آنتیں اور اجھڑی مخزن فرث ہیں۔لہذا دلالۃ النص سمجھا جائے یا اجرائے علت منصوصہ بہرحال اوجھڑی اور آنتیں کھانا حلال نہیں‘‘۔( فتاویٰ فیض الرسول،کتاب الذبح،2/379-380،اکبر بک سیلرز لاہور)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں:’’سات چیزیں تو حدیثوں میں شمار کی گئیں: (1) مرارہ یعنی پتہ (2) مثانہ یعنی پھکنا (3) حیاء یعنی فرج (4) ذکر (5) انثیین (6) غدہ (7) دم یعنی خون مسفوح۔یہ تو سات بہت کتب مذہب، متون وشروح وفتاوٰی میں مصرح اور علامہ قاضی بدیع خوارزمی صاحب غنیہ الفقہاء وعلامہ شمس الدین محمد قہستانی شارح نقایہ وعلامہ محمد سیدی احمد مصری محشی درمختار وغیرہم علماء نے دو چیزیں اور زیادہ فرمائیں (8) نخاع الصلب یعنی حرام مغز اس کی کراہت نصاب الاحتساب میں بھی ہے (9)گردن کے دو پٹھے جو شانوں تک ممتد ہوتے ہیں، اور فاضلین اخیرین وغیرہما نے تین اور بڑھائیں (10) خون جگر (11) خون طحال (12) خون گوشت یعنی دم مسفوح نکل جانے کے بعد جو خون گوشت میں رہ جاتاہے۔
اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی اوج التحقیق علماء کی ان زیادت سے ظاہر ہوگیا کہ سات میں حصر مقصود نہ تھا۔ بلکہ صرف باتباع نظم حدیث ونص امام ان پر اقتصار واقع ہوا، اور خود ان علمائے زائدین نے بھی قصد استیعاب نہ فرمایا، یہ امر انھیں عبارات مذکورہ سے ظاہر ، اور اس پر دوسری دلیل واضح یہ کہ جگر وطحال وگوشت کے خون گنے اور (13) خون قلب چھوڑ گئے حالانکہ وہ قطعا ان کے مثل ہے۔ یہاں تک کہ عتابیہ وخزانۃ وقنیہ وغیرہامیں اس کی نجاست پر جزم کیا، اور اسی طرح امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں فرمایا، اگرچہ روضہ ناطفی ومراقی الفلاح ودرمختار وردالمحتار وغٖیرہا اسفار میں طہارت کو مختار رکھا، اور ظاہر ہے کہ نجاست مثبت حرمت ہے اور طہارت مفید حلت نہیں۔نیز عدم حصر پر ایک اور دلیل قاطع یہ ہے کہ عامہ کتب میں دم مسفوح، اور ان کتابوں میں دم لحم وکبد وطحال کو شمار کیا، تو اس سے واضح کہ کلام اعضاء سے اخلاط تک متجاوز ہوا، اور بیشک اخلاط سے (14) مرہ بھی ہے یعنی وہ زرد پانی کہ پِتّہ میں ہوتا ہے جسے صفرا کہتے ہیں، اور ہمارے علماء کتاب الطہارۃ میں تصریح فرماتے ہیں کہ اس کا حکم مثل پیشاب کے ہے، بلکہ بعض نے تو مثل خون کے ٹھہرایا۔بہر حال کھانا اس کا بیشک ناجائز ہے کما ھو المذہب فی البول باوجود اس کے یہاں شمار میں نہ آیا۔ (15)یونہی اخلاط سے بلغم ہے کہ جب براہ بینی مند فع ہو، جیسے بھیڑ وغیرہ میں مشاہد ہے۔ اسے عربی میں مخاط اور فارسی میں آب بیتی کہتے ہیں، اس کا کھانا بھی یقینا ناجائز، صرح بہ فی العقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ یہ بھی یہاں غیر معدود اور منجملہ دماء،(16) وہ خون بھی ہے جو رحم میں نطفہ سے بنتاہے منجمد ہوکر علقہ نام رکھا جاتاہے۔ وہ بھی قطعا حرام۔جس طرح کتب کثیرہ میں شاۃ (بکری) کی قید، کما مرعن تنویر الابصار ومغنی المستفتی ومثلہ فی غیرہما حالانکہ حکم صرف بکری سے خاص نہیں، یقینا سب جانوروں کا یہی حکم ہے۔تو جیسے لفظ شاۃ محض باتباع حدیث واقع ہوا، اور اس کا مفہوم مراد نہیں، یونہی لفظ سبع اور اہل علم پر مستتر نہیں کہ استدلال بالفحوٰی یا اجرائے علت منصوصہ خاصہ مجتہد نہیں، کما نص علیہ العلامۃ الطحطاوی تبعا لمن تقدمہ من الاعلام اور یہاں خود امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اشیاء ستہ کی علت کراہت پر نص فرمایا کہ خباثت ہے۔ اب فقیر متوکلا علی اللہ تعالٰی کوئی محل شک نہیں جانتا کہ (17)دُبر یعنی پاخانے کا مقام، (18)کرش یعنی اوجھڑی ،(19)امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں، بیشک دُبرفرج وذکر سے اور کرش وامعاء مثانہ سے اگر خباثت میں زائد نہیں تو کسی طرح کم بھی نہیں، فرج وذکر اگر گزر گاہ بول ومنی ہیں دُبرگزر گاہ سرگین ہے، مثانہ اگر معدن بول ہے شکنبہ و رُودَہ مخزن فرث ہے اب چاہے اسے دلالۃ النص سمجھئے خواہ اجرائے علت منصوصہ، الحمدللہ بعد اس کے فقیر نے ینابیع سے تصریح پائی، کہ امام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دبر کی کراہت پر تنصیص فرمائی۔ (20) وہ گوشت کا ٹکڑا جو رحم میں نطفہ سے بنتا ہے جسے مضغہ کہتے ہیں، اجرائے حیوان سے ہے۔ اور وہ بھی بلا شبہ حرام عام ازیں کہ مخلقہ ہویا غیر مخلقہ، یعنی ہنوز اس میں اعضاء کی کلیاں پھوٹی ہوں یا صرف لوتھڑا ہو، (21) ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک بچہ تام الخلقۃ بھی کہ من وجہ جز و حیوان ہے یتصل بالام ویتغذی بغذائہا ، ویتنفس بتنفسہا (ماں سے متصل ماں کی ماں کی غذا سے اور اس کی سانس سے سانس پاتاہے) حرام ہے خواہ اس کے پوست پر بال آئے ہوں یا نہیں، مگر جبکہ زندہ نکلے اور ذبح کرلیں، (22) یونہی نطفہ بھی حرام ہے خواہ نر کی منی مادہ کے رحم میں پائی جائے یا خود اسی جانور کی منی ہو۔
اب سات کے سہ گونہ سے بھی عددبڑھ گیا اور ہنوز اور زیادات ممکن وہ سات اشیاء حدیث میں آئیں، اور پانچ چیزیں کہ علماء نے بڑھائیں، اور دس فقیر نے زیادہ کیں، ان بائیس مسائل اور باقی فروع وتفاریع سب کی تفصیل تام وتحقیق تمام فقیر کے رسالہ المنح الملیحۃ فیما نہی من اجزاء الذبیحۃ میں دیکھی جائے، الحمد ﷲ ما الہم، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم‘‘۔(فتاویٰ رضویہ،20 / 240-234،رضا فاؤنڈیشن لاہور-ملتقطاً)
آپ علیہ الرحمہ ان (22)بائیس مسائل کو مختصرا یوں بیان فرماتے ہیں:’’حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں (۱) رگوں کا خون (۲) پتا (۳) پُھکنا (۴) (۵) علامات مادہ ونر (۶) بیضے (۷) غدود (۸) حرام مغز (۹) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (۱۰) جگر کا خون (۱۱) تلی کا خون (۱۲) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے لکھتا ہے (۱۳) دل کا خون (۱۴) پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے (۱۵) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (۱۶) پاخانہ کا مقام (۱۷) اوجھڑی (۱۸) آنتیں (۱۹) نطفہ (۲۰) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (۲۱) وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (۲۲) وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ،20 / 241-240،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ثابت ہوا کہ اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی کا گناہ حرام کے مثل ہے چنانچہ الدر المختار میں ہے: "(كُلُّ مَكْرُوهٍ) أَيْ كَرَاهَةَ تَحْرِيمٍ (حَرَامٌ) أَيْ كَالْحَرَامِ فِي الْعُقُوبَةِ بِالنَّارِ".ترجمہ: ہر مکروہ تحریمی استحقاق جہنم کا سبب ہونے میں حرام کے مثل ہے۔ (الدرالمختار،کتاب الحظر والباحۃ،6-336-337،دار الفکر)
اور مکروہ کے حوالے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی لکھتے ہیں: علماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالٰی۔(فتاوی رضویہ،جلد:23،ص:501،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عقود الدریۃ میں ہے : " اَلْعَمَلُ بِمَا عَلَیْهِ الاَکْثَرْ". ترجمہ : اس پر عمل کرنا جس پر اکثر ہیں۔(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ،مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ،2/324،دار المعرفۃ)
اشکالات مع الجوابات:
(اشکال1): گردہ نہ صرف دم مسفوح کی گزرگاہ ہے بلکہ بول کو تقطیر کر کے مثانہ میں پہنچانے والا گردہ ہی ہے، جب گردہ حلال ہے تو اوجھڑی بھی حلال ہونی چاہئے۔
(جواب1): سائنسی تحقیق سےثابت ہے کہ صحت مند گردے ہر منٹ میں تین امور سر انجام دیتے ہیں:
(1) خون کو فلٹر کرنا۔ (2) فضلہ (اضافی) پانی کو نکالنا۔جسکی آگی پیشاب اور غیر پیشاب یعنی اضافی پانی میں تقسیم ہوتی ہے۔
پیشاب اور اضافی پانی مثانے کی دو پتلی ٹیوبوں (یعنی حالبین) کے ذریعے گردے سے مثانے کی طرف جاتے ہیں۔
گردہ تقریباً دس لاکھ فلٹرنگ یونٹس پر مشتمل ہوتا ہے جسے ’’نیفرون ‘‘کہتے ہیں۔ ہر نیفرون میں ایک فلٹر ہوتا ہے، جسے ’’گلومیرولس‘‘کہتے ہیں ، اور ایک ’’ٹیوبول نالی‘‘ ہوتی ہے ۔ نیفرون دو قدمی عمل کے ذریعے کام کرتے ہیں:
(1)گلوومیرولس خون کو فلٹر کرتا ہےاور وہ یوں کہ جیسے ہی خون ہر نیفرون میں بہتا ہے، یہ خون کی چھوٹی نالیوں کے ایک جھرمٹ میں داخل ہوتا ہے(یعنی گلومیرولس)۔ گلوومیرولس کی پتلی دیواریں چھوٹے مالیکیولز،فضلہ(زائد)، اور سیال پانی کو ’’ٹیوبول ‘‘میں جانے دیتی ہیں۔ بڑے مالیکیول، جیسے پروٹین اور خون کے خلیات، خون کی نالی میں رہتے ہیں۔
(2) ٹیوبول نالی خون میں ضروری مادوں کو واپس کرتی ہے اور فضلہ (زائد)کو ہٹاتی ہے۔اس طرح کہ ایک خون کی نالی ٹیوبول نالی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔جیسے ہی فلٹر شدہ سیال ٹیوبول نالی کے ساتھ حرکت کرتا ہے، خون کی نالی تقریباً تمام پانی کو دوبارہ جذب کرتی ہے، معدنیات اور غذائی اجزاء کے ساتھ جو کہ جسم کو درکار ہیں۔ ٹیوبول نالی خون سے اضافی تیزاب کو دور کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ٹیوبول نالی میں باقی رطوبت اور فضلہ پیشاب بن جاتا ہے۔
National Institute of Diabetes and Digestive and Kidney Diseases:
(U.S. Department of Health and Human Services)
‘’Healthy kidneys filter about a half cup of blood every minute, removing wastes and extra water to make urine. The urine flows from the kidneys to the bladder through two thin tubes of muscle called ureters, one on each side of your bladder.’’
How do kidneys work?
‘’Each of your kidneys is made up of about a million filtering units called nephrons. Each nephron includes a filter, called the glomerulus, and a tubule. The nephrons work through a two-step process: the glomerulus filters your blood, and the tubule returns needed substances to your blood and removes wastes.’’
The glomerulus filters your blood:
‘’As blood flows into each nephron, it enters a cluster of tiny blood vessels—the glomerulus. The thin walls of the glomerulus allow smaller molecules, wastes, and fluid—mostly water—to pass into the tubule. Larger molecules, such as proteins and blood cells, stay in the blood vessel. ‘’
The tubule returns needed substances to your blood and removes wastes:
‘’A blood vessel runs alongside the tubule. As the filtered fluid moves along the tubule, the blood vessel reabsorbs almost all of the water, along with minerals and nutrients your body needs. The tubule helps remove excess acid from the blood. The remaining fluid and wastes in the tubule become urine. ‘’https://www.niddk.nih.gov/health-information/kidney-disease/kidneys-how-they-work
اب آئیں اشکال کی طرف کہ گردہ پیشاب کو قطرہ قطرہ کر کے مثانہ میں پہنچانے والا ہےاسکے باوجود گردہ حلال ہے تو اوجھڑی کیوں نہیں؟
جواب یہ ہے کہ سابقہ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اعضاء سے خون اور پانی مکس ہو کر گردہ کی طرف آتے ہیں،قدرت الہی سے وہاں چھانہ موجود ہوتا ہے جو خون اور اضافی پانی کو الگ کرتا ہے، خون گردہ کی غذا ہے، گردہ صرف اور صرف اپنے اندر خون جذب کرتا ہے، اور زائد پانی کا قطرہ قطرہ ’’یوریٹر ز نالیوں ‘‘میں گرتا ہوا ابتدائی بیچ دار نالی میں گرتا ہے، اور وہاں سے گزرتا ہوا بعید بیچ دارنالی سے گذرتا ہوا پیشاب جمع کرنے والی نالی میں جمع ہو جاتا ہے تو پیشاب نہ گردہ میں ہوتا ہے اور نہ گردہ میں بنتا ہے ،لہذا جب تک خون اور پانی جمع رہتے ہیں ان پر پیشاب کا اطلاق نہیں ہو سکتا جب چھانے کے ذریعے زائد پانی پیشاب کی نالی میں گرتا ہے تو اس پر پیشاب کا اطلاق ہوتا ہے۔
اور اگر مان بھی لیا جائے تب بھی اس زائد پانی پر پیشاب کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اس خون سے جدا نہیں ہو سکتا جس کے ساتھ مکس ہو کر اعضاء سے واپسی گردہ کی طرف منتقل ہو کر خون گردہ میں جذب نہ ہو جائےاور زائد پانی یوریٹر ز نالیوں میں نہ گرے ۔
اور الزامی جواب یہ ہے کہ گردہ فلٹریشن کے بعد جسم کی ہر ہر جز میں بصورت خون ،معدنیات اور دیگر غذائی اجزاءپہنچاتا ہے جس سے جسمانی اعضاء کو تقویت ملتی ہے اگر پیشاب گردہ میں جمع ہوتا ہے اور بنتا ہے تو مذکورہ تحقیق سے لازم آئے گا جسم کی ہر ہر جز و نجس ہو جائے اور حلال جانوروں کا کھا نامطلقا کھاناحرام ہو جائے گا ۔
اسی طرح گردہ سے حاصل شدہ غذا جو منتقل ہو کر گوشت میں جاتی ہے اور گوشت سے پسینہ،لعاب،خون پیدا ہوتا ہے جس سے ہڈیوں،دل ودماغ کو تقویت ملتی ہے۔اگر یہ پیشاب حالبین (یعنی گردے کی دو نالیوں)کے ذریعے مثانہ میں پہنچ کر مثانہ کو حرام کر سکتا ہے تو باقی اجزاء میں مل کر اگر اس کی رطوبت گوشت میں پہنچے تو گوشت اور گوشت کی وجہ سے لعاب ،پسینہ اور ہڈیاں نجس کیوں نہیں ہو سکتی ؟
یہ تھی سائنسی تحقیق اور فقہی اعتبار سے دیکھا جائے تو جب قربت کے طور پانی استعمال کیا جائے تو پانی مستعمل ہوجاتا ہے۔اب پانی کی جنس ایک ہے، اگر یہ پانی صرف اعضاء پر لگے تو پاک ہے اور اعضاء پر لگنے سے قبل پاک ہے اور یہی پانی اعضاء سے لگ گر اعضاء سے جدا ہوتے ہی مائے مستعمل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شہید کا خون اگر اس کے جسم پر ہوتو پاک ہے اور وہی خون کسی دوسرے کے جسم پر لگ جائے تو حرام ہو جاتا ہے ، لہذا جب خون اور پانی دونوں جمع ہو کر گردہ تک پہنچتے ہیں تو ان کو ہم پیشاب کا نام نہیں دے سکتے ،خون کو خون اور پانی کو زائد پانی کا نام دیا جائے گااور جیسے کوئی پانی کا قطرہ حالبین (گردوں کی نالیوں)میں گرتا ہے تو اس زائد پانی کو پیشاب کا نام دیا جاتا ہے ۔
ثابت ہوا کہ اوجھڑی کو گردہ پر قیاس کرکے اسے حلال کرنا صراحتا باطل ہے۔
(اشکال2):حدیث مبارکہ میں ہے: "عَنِ ابْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَمْعَانَ، عَنْ نَسِيكَةَ أُمِّ عَمْرِو بْنِ جُلَاسٍ، قَالَتْ: إِنِّي لَعِنْدَ عَائِشَةَ " وَقَدْ ذَبَحَتْ شَاةً لَهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدَهِ عُصَيَّةٌ، فَأَلْقَاهَا ثُمَّ هَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ هَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، فَانْبَطَحَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ؟ فَأَتَيْنَاهُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا خُبْزُ شَعِيرٍ، وَفِيهَا كِسْرَةٌ وَقَطْعِهٌ مِنَ الْكَرِشِ، وَفِيهَا الذِّرَاعُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ قِطْعَةً مِنَ الْكَرِشِ، وَإِنَّهَا لَتَنْهَشُهَا إِذْ قَالَتْ: ذَبَحْنَا شَاةً الْيَوْمَ فَمَا أَمْسَكْنَا غَيْرَ هَذَا، قَالَتْ: يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَلْ كُلُّهَا أُمْسِكَتْ إِلَّا هَذَا»".ترجمہ: حضرت نسیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی تو ایک بکری کو ذبح کیا گیا تو اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے آپ نے اپنا عصا مبارک رکھا اور دورکعات نماز ادا کی ، اور اس کے بعد فرمایا کیا کوئی کھانے کے لیے چیز ہے؟ تو آپ کے سامنے ایک پیالہ رکھا گیا جس میں جو کی روٹی اور اوجھڑی کا ایک کا ٹکڑا اور ران تھی۔حضرت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اوجھڑی کا ٹکڑا اٹھا کر کھایا، اور عرض کرنے لگی ہم نے آج جو بکری ذبح کی ہے اس کے علاوہ گھر میں کچھ نہیں چھوڑا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں بلکہ اسکے علاوہ تمام کا تمام ہی تم نے روک لیا(یعنی صدقہ کرکے)۔ (معجم الکبیر للطبرانی، باب النون،25/44،رقم:88،مکتبۃ ابن تیمیۃ القاہرۃ)
(جواب2): مذکورہ حدیث مجمع الزوائد میں بھی موجود ہے، جس میں ’’ابرہیم بن اسماعیل بن مجمع‘‘ ضعیف راوی ہے جس کی وجہ سے علامہ ابو الحسن نورالدین علی بن ابوبکر الہیثمی (المتوفی:805ھ) رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔چنانچہ آپ نے مجمع الزوائد میں فرمایا:"وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَجْمَعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ". (مجمع الزوائد، باب ما جاء فی اللحم،رقم:7986،مکتبۃ القدسی القاہرۃ)
فقہاء اور محدثین رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ سند ًاضعیف حدیث کو مع الشرائط صرف فضائلِ اعمال اور مناقب میں بیان کر سکتے ہیں ، حلت اور حرمت کو ثابت کرنے کے لیےہرگز ضعیف حدیث کو حجت کے طور پر پیش نہیں کرسکتے۔
تیسیر مصطلح الحدیث میں ہے:"اختلف العلماء في العمل بالحديث الضعيف، الذي عليه جمهور العلماء أنه يستحب العمل به في فضائل الأعمال، لكن بشروط ثلاثة".ترجمہ: حدیث ضعیف پر عمل کرنے میں علماء کا اختلاف ہے اور جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل تین شرطوں کے ساتھ صرف فضائل اعمال میں ہوسکتا ہے۔(تیسیر مصطلح الحدیث،الباب الاول،المبحث الثانی،المطلب الثانی،1/81،مکتبۃ المعارف)
(اشکال3):روایت ہے: "رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ فِي أَيَّامِ خِلَافَتِهِ دَخَلَ السُّوقَ فَاشْتَرَى كَرِشًا وَحَمَلَهُ بِنَفْسِهِ فَرَآهُ عَلِيٌّ مِنْ بَعِيدٍ فَتَنَكَّبَ عَلِيٌّ عَنِ الطَّرِيقِ فَاسْتَقْبَلَهُ عُمَرُ وَقَالَ لَهُ: لِمَ تَنَكَّبْتَ عَنِ الطَّرِيقِ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: حتى لا تستحي، فقال: وكيف أستحي مِنْ حَمْلِ مَا هُوَ غِذَائِي!". ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں اپنے لئے بازار سے اوجھڑی خرید کرلا رہے تھے کہ دورسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نظرپڑگئی وہ راستےسے ہٹ گئے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے علی تم کیوں دور ہٹ گئے؟حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :تاکہ آپ شرمندہ نہ ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس چیز کو اٹھانے سے کیوں شرماؤں جو میری غذا ہے۔(التفسیر الکبیرللرازی،تفسیر سورۃ الکافرون،32/328،دار احیاء التراث العربی)
(جواب3): اوجھڑی کی حلّت کے باب میں مذکورہ حدیث منقطع السندہے اور اس سے استدلال باطل ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اس کو بغیر سند کے بیان کیا ہے، اور امام رازی رحمہ اللہ کا وصال 606ھ میں ہوا حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک محرم الحرام میں 24 ھ میں ہوا تو ان دونوں کے درمیان تقریب پانچ سو سال کا فاصلہ ہے،لہذا یہ معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کس راوی نے روایت کیا، اس وجہ سے یہ حدیث منقطع السند ہے یعنی بغیر سند کے ہے، کوئی منقطع حدیث محدثین کے نزدیک قابل حجت نہیں ہوتی، اور یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ بغیر سند کے حدیث مردود ہوا کرتی ہے اور شدت ضعف کی وجہ سے حجت کے طور پر ان جیسی حدیثوں کو پیش نہیں کیا جاسکتا۔
تیسیر مصطلح الحدیث میں ہے:"المنقطع ضعيف بإجماع العلماء لفقده شرطا من شروط القبول، وهو اتصال السند، وللجهل بحال الراوي المحذوف. ترجمہ: منقطع السند حدیث علماء عظام کے اجماع کی وجہ سے ضعیف ہے اور یہ ضُعف شرائط ِقبول میں شرط اتصالِ سند کے فقدان کی وجہ سے ہے اور محذوف راوی کی حالت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے۔(تیسیر مصطلح الحدیث،الباب الاول،المبحث الثانی،المطلب الثانی،1/95،مکتبۃ المعارف)
المختصر فی علم الاثر میں ہے: "والمنقطع لَا يحْتَج بِه".منقطع السند حدیث کو بطور استدلال پیش نہیں کیا جاسکتا۔(المختصر فی علم الاثر،1/173،مکتبۃ الرشد)
(اشکال4): اہل کوفہ (جو کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا آبائی شہر اور ہزاروں مجتہدین صحابہ و تابعین کا مسکن ہے) اوجھڑی وغیرہ کو بلانکیر گوشت کے ساتھ مکس کرکے فروخت کرتے تھے ،ان اشیاء کو گوشت کی طرح استعمال کرتے تھے اور ان کا شوربے والا سالن بھی بنا کر کھاتے تھے۔معلوم ہوا کہ اوجھڑی،تلی، کلیجی وغیرہ حلال ہیں اور صدیوں سے مسلمان ان اشیاء کو اپنے بازاروں میں فروخت کرتے رہے ہیں اگر اوجھڑی حرام ہوتی تو عمدہ اور حلال چیزوں کے ساتھ مکس کرکے فروخت نہ ہوتی۔
شمس الائمہ امام سرخسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ’’المبسوط‘‘ میں یمین کے ایک مسئلہ پر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا پھر وہ اوجھڑی یا جگر وغیرہ کھالے تو حانث ہوگا یا نہیں؟چنانچہ فرماتے ہیں: "وَكَذَلِكَ (يحنث) إنْ أَكَلَ شَيْئًا مِنْ الْبُطُونِ كَالْكِرَاشِ وَالْكَبِدِ وَالطِّحَالِ قِيلَ: هَذَا بِنَاءً عَلَى عَادَةِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَإِنَّهُمْ يَبِيعُونَ ذَلِكَ مَعَ اللَّحْمِ فَأَمَّا فِي الْبِلَادِ الَّتِي لَا يُبَاعُ مَعَ اللَّحْمِ عَادَةً، لَا يَحْنَثُ بِكُلِّ حَالٍ، وَقِيلَ: بَلْ يَحْنَثُ بِكُلِّ حَالٍ؛ لِأَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ اسْتِعْمَالَ اللَّحْمِ لِاِتِّخَاذِ الْمَرَقَةِ".ترجمہ: اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ گوشت نہیں کھائے گا پھروہ شخص حلال جانور کے پیٹ کی کوئی چیز کھالے تو حانث ہوگا مثلا اوجھڑی،جگر،اور تلی۔بعض نے کہا یہ(حانث ہونا) اہل کوفہ کی عادت کے مطابق ہے کیونکہ اہل کوفہ اوجھڑی،وغیرہ کو گوشت کے ساتھ اکٹھے ملا کر اپنے بازاروں میں فروخت کرتے ہیں،البتہ وہ شہر جہاں اوجھڑی وغیرہ کو گوشت سے علیحدہ فروخت کرتے ہیں(جیساکہ فی زمانہ ہمارے شہروں میں رواج ہے) تو وہاں ہرحال میں حانث نہیں ہوگا۔ بعض نے کہا: چاہے اوجھڑی گوشت کے ساتھ ملاکر فروخت کریں یا علیحدہ فروخت کریں ہرحال میں حانث ہوگا کیونکہ اوجھڑی وغیرہ فروخت جس طرح بھی ہوں لیکن ان کا استعمال تو گوشت ہی کی طرح ہے یعنی ان کو پکا کر شوربا بنایاجاتاہے۔ (المبسوط،للسرخسی، باب الاکل،176/8،دار المعرفۃ)
علامہ سرخسی علیہ الرحمہ کی اس طویل عبارت میں قسم کھانے والا حانث ہوگا یانہیں؟ اس سے قطع نظر،طرزِ استدلال یہ ہے کہ اگر اوجھڑی حرام ہوتی تو عمدہ اور حلال چیزوں کے ساتھ مکس کرکے فروخت نہ ہوتی۔
اسی طرح علامہ زیلعی علیہ الرحمہ ’’تبیین الحقائق ‘‘ میں یمین کے اس مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں: "حَتَّى يَحْنَثَ بِأَكْلِهَا (أى الكرش والكبد ولحم الخنزير والآدمي) فِي يَمِينِهِ لَا يَأْكُلُ لَحْمًا إلَّا أَنَّ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَالْآدَمِيِّ حَرَامٌ".ترجمہ: اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ گوشت نہیں کھائے گا تو ایساشخص اگر انسان،خنزیر،جگر،اور اوجھڑی کا گوشت کھالےتو حانث ہوگا لیکن واضح رہے کہ ان میں سے صرف انسان اور خنزیر کاگوشت حرام ہے۔(تبیین الحقائق،باب الیمین فی الاکل والشرب،127/3،المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
اس عبارت سے استدلال واضح ہے علامہ زیلعی علیہ الرحمہ نے یمین کے اس مسئلہ میں چار چیزوں کا ذکر فرمایا اور ان کے متعلق قسم کا حکم بیان کرنے کے بعد خود ہی وضاحت فرمادی کہ انسان اور خنزیر کاگوشت حرام ہے جس سے صاف معلوم ہوا کہ جگر اور اوجھڑی حلال ہیں۔
(جواب4): المبسوط للسرخسی کے جزئیہ سے اوجھڑی کی حلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اوّلاً اہل کوفہ کا عمل حکم شرع پر حجت نہیں ثانیًاکسی شے پر گوشت کا اطلاق اسے حلال نہیں کرتا۔اسکی واضح مثال ذَکر و خصیتین ہیں جنکی حرمت احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
اسی طرح اوجھڑی کا بازار میں فروخت ہونا بھی مفید ِجواز نہیں کیونکہ بعض اشیاء ایسی ہیں کہ وہ پلید ہیں اور ان کا کھانا تو حرام یا مکروہ تحریمی ہے مگر ان اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے۔ہدایہ کتاب البیوع میں ہے: "ولو سُلِمَ فَيُحْرَمُ التَّناوُلُ دُون البيع".(الہدایۃ،کتاب البیوع،باب الاستحقاق،3/78،دار احیاء التراث العربی) یعنی کتے کا کھانا تو حرام ہے مگر خریدو فروخت جائز ہے کیو نکہ کتے سے شکار اور گھر کی حفاظت مقصود ہوتی ہے۔اس عبارت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ بعض اشیاء ایسی ہیں جو خود تو پلید ہیں اور ان کا کھانا حرام ہے مگر ان کی خرید و فروخت جائز ہے کیونکہ لوگ کھانے کے علاوہ ایسی چیزوں سے اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ جیسے گوبر ، مینگنی کی خرید و فروخت جائز ہے کیونکہ لوگ اس سے نفع اٹھا تے چلے آئے ہیں اور کسی زمانہ میں انکار نہیں ہوا مگر یہ چیزیں خود تو پلید ہیں۔(اوجھڑی اور کپوروں کا شرعی حکم،ص:24،سنی کتب خانہ لاہور)
نیز تبیین الحقائق میں علامہ زیلعی رحمہ اللہ کا انسان و خنزیر کے گوشت کو حرام کہنا اور جگر اور اوجھڑی کے گوشت کے حکم سے سقوط اختیار کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ چیزیں حلال ہیں۔
مزید یہ کہ اسی عبارت سے ملحق علامہ زیلعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وَالْيَمِينُ قَدْ تُعْقَدُ لِمَنْعِ النَّفْسِ عَنْ الْحَرَامِ كَمَا إذَا حَلَفَ لَا يَزْنِي أَوْ لَا يَكْذِبُ يَصِحُّ يَمِينُهُ".یعنی بعض اوقات خود کو حرام شے سے روکنے کیلئے قسم لازم کی جاتی ہے جیسا کہ کوئی قسم کھائے کہ زنا نہیں کرے گا یا جھوٹ نہیں بولے گا تو قسم منعقد ہوجائے گی۔
معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا پھر اس نے انسان یا خنزیر کا گوشت یا جگر یا اوجھڑی کھالی تو حانث (قسم توڑنے والا) ہوجائے گا کہ ان پر گوشت کا اطلاق ہوتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ حالف (قسم اٹھانے والا) ان چیزوں کو کھالے کیونکہ بعض قسمیں تو حرام اشیاء پر بھی کھائی جاتی ہیں۔اس عبارت سے اوجھڑی کی حلّت تو دور حرمت تک معلوم ہورہی ہے۔
(اشکال5): کتب فقہیہ میں مسئلہ مذکور ہے کہ گوبر یامینگنی میں جَو کے دانے گرجائیں تو ان دانوں کو دھو کر کھایا جاسکتا ہے ان میں کوئی کراہت نہیں۔چنانچہ علامہ زين الدين ابن نجيم المصری الحنفی لکھتے ہیں: "كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَفِي الظَّهِيرِيَّةِ وَالشَّعِيرُ الَّذِي يُوجَدُ فِي بَعْرِ الْإِبِلِ وَالشَّاةِ يُغْسَلُ وَيُؤْكَلُ".ترجمہ: فتح القدیراور ظہیریہ میں ہے:جَو کے وہ دانے جو اونٹ یا بکری کی مینگنی میں ہوں انہیں دھو کر کھالینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (البحر الرائق،باب الانجاس،1/243،دار الکتاب الاسلامی)
لہذا جب گوبراور مینگنی کے اندر رہنے والے دانے دھو کر کھائے جاسکتے تو اوجھڑی کیوں نہیں کھائی جاسکتی؟
(جواب5): اوجھڑی کے مسئلہ کو مینگنی میں پائے جانے والے دانے کہ نجس نہ ہونے پر قیاس کرنا باطل ہے کیونکہ اصول یہ ہے کہ مقیس علیہ اور مقیس میں علت مشترک ہونا ضروری ہے۔جبکہ یہاں مقیس (اوجھڑی)میں نجاست نرم اور قابل ِسرایت ہے اور مقیس علیہ میں نجاست (مینگنی ) سخت ہے لہذا جب علت مشترکہ نہ پائی گئی تو قیاس باطل ہوا۔
اس کی دلیل اسی مسئلہ میں موجود ہے چنانچہ علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لِأَنَّ الْبَعْرَ صَلْبٌ فَلَا تَتَدَاخَلُ النَّجَاسَةُ فِي أَجْزَاءِ الشَّعِيرِ وَالْحِنْطَةِ".ترجمہ:کیونکہ بکری اور اونٹ کی مینگنی سخت ہوتی ہے جسکی وجہ سےنجاست ان کے اجزاءمیں داخل نہیں ہوتی۔(البحر الرائق،کتاب الکراہیۃ،فصل فی الاکل والشرب،8/208،دار الکتاب الاسلامی)
(اشکال6):بعض علماء کرام کے نذدیک فی زمانہ اوجھڑی کا کھایاجانا بکثرت وقوع پذیر ہے لہذا عموم بلوی کے باعث اس میں زیادہ سے زیادہ کراہت تنزیہی کاحکم ہونا چاہئے۔
(جواب6): یہ قول درست نہیں۔مفتی محمد نظام الدین مصباحی دامت برکاتہم العالیہ نے عموم بلوی کی تعریف یہ بیان کی کہ:”وہ حالت و کیفیت جس کے باعث عوام و خواص سبھی محظور (ناجائز)شرعی میں مبتلا ہوں اور دین، جان ، عقل، نسب ، مال یا ان میں سے کسی ایک کے تحفظ کے لیے اس سےبچنا متعذر(دشوار)یا حرج و ضرر کا سبب ہو۔(فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول:163،والضحی پبلی کیشنر)
مزید آپ فرماتے ہیں:’’عموم بلوی کی تشریح یہ سامنے آئے گی کہ عام مشقت،مصیبت،تکلیف،سب کا مشقت میں پھنس جانا،حرام میں مبتلا ہونا،آزمائش سے دوچار ہونا، ہلاکت کے دہانے پر پہنچ جانا، عاجز آجانا... کتاب الطهارة کا ایک مسئلہ ہے کہ غیر ما کول اللحم پرندے کی بیٹ امام اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے کیوں کہ اس میں عموم بلوی پایا جاتا ہے۔ مگر صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہاں عموم بلوی متحقق نہیں،کیونکہ عموم کے لیے ’’کثرتِ ابتلاء ‘‘ چاہیے جو یہاں مفقود ہے۔چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے: "ووجه التغليظ انه لا تكثر اصابته". اس کے تحت حاشیہ امام شلبی میں ہے:" اي فلا يكون فيه بلوی ".مغلظہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر بیٹ لوگوں کے اوپر نہیں گرتی اس لیے اس عبارت کے مفہوم مخالف سے یہ معلوم ہوا کہ عموم بلوی کے لیے ضروری ہے کہ محظور (ناجائز)میں ابتلا کثرت سے ہونا چاہیے۔فتح القدیر میں ہے: "لأنها أى( البلوى) إنما تتحقق باغلبية عسر الا نفكاك".ترجمہ: عموم بلوی کا تحقق محض وہاں ہوتا ہے جہاں عام طور سے محظور سے بچنا دشوار ہو۔اس عبارت سے دو باتیں معلوم ہو ئیں۔ایک یہ کہ عموم بلوی صرف وہاں متحقق ہوتا ہے جہاں محظور شرعی سے بچنا دشوار ہو۔دوسرے یہ کہ یہ دشواری نادر نہ ہو، بلکہ اغلب ہو، یعنی زیادہ تر پائی جاتی ہو۔اور یہ حقیقت تو سب پر عیاں ہے کہ صرف عوام کالانعام کا ابتلا کوئی چیز نہیں، ورنہ عوام کا ابتلا بہت سے معاصی میں ہوتا ہے مگر وہ قطعی معتبر نہیں ۔مثلا: سجدے میں انگلیوں کا پیٹ نہ لگنا، غسل میں ناک کے نرم بانسے تک پانی نہ چڑھانا، داڑھی منڈانا،نماز نہ پڑھنا، غلط قرآت کرنا وغیرہ‘‘۔(فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول:161-163،والضحی پبلی کیشنر)
معلوم ہوا کہ عموم بلوی یہ ہے کہ عوام اور خواص(یعنی سلیم الطبع)کا ابتلاء پایا جائے جبکہ اوجھڑی کے مسئلہ میں خواص کا ابتلاء نہیں محض عوام کالانعام کا ابتلا ءہے وہ بھی چند لہذا ان کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ عوام کا ابتلا ءتو بہت سے معاصی میں ہوتا ہے مگر شرعاً وہ قطعی معتبر نہیں۔
خلاصہ کلام:
مذکورہ بالا تفصیلات کے تحت ثابت ہوا کہ اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی کا گناہ حرام کے مثل ہے۔درپیش مسئلہ میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن کی تحقیق دلائل سے ثابت ہے،اور اس مؤقف میں حتی المقدور تمام اشکالات کے جوابات پیچھے گزرے۔اگر مجوّزین کی روایات کو مان بھی لیا جائے تب بھی یہ بات لازم نہیں آتی کہ کرش سےمراد اوجھڑی ہی ہو، بلکہ اسے بَٹ پر محمول کیا جاسکتا ہے (جسکی ہیئت شروع میں بیان ہوئی کہ معدے کا اوپری گوشت جو بغیر جھلی کےہو) جو کہ حلال ہے،ہاں اگر مجوّزین صراحتاً اوجھڑی (یعنی جھلی سمیت معدے کا اوپری گوشت)کی حلّت پر روایت پیش کریں تو حجّت قائم ہو۔
نیز اس مسئلہ پر ہمارے بعض علماء کرام نے مکروہ تنزیہی کا بھی قول کیا ہے اور وہ یوں کہ احادیث مبارکہ میں اوجھڑی کی عدم ممانعت اس بات کی مقتضی ہے کہ یہ بلا کراہت حلال ہے لیکن قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے لہذا تعارض ادلہ کی وجہ سے اوجھڑی کھانے کو مکروہ تنزیہی ہی قرار دینا چاہئے۔بر سبیل تسلیم تقویٰ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی میں بھی شئ کو چھوڑ دینا افضل ہے اور اس پر ثواب ہے اور اسی میں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول اللہ ﷺکی رضاء اور خوشنودی ہے۔لہذا غیر منصوص علیہ 15پندرہ چیزوں (1)نخاع الصلب یعنی حرام مغز (2)گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں(3)جگر کا خون (4)طحال یعنی تلی کا خون (5)گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے رستا ہے (6)دل کا خون (7)پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے(8)ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے(9)پاخانہ کا مقام (10)اوجھڑی (11)آنتیں(12)نطفہ(13)وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (14)وہ خون کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (15)وہ خون کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا) میں مرجوح قول کے مطابق اگر مکروہ تنزیہی کو بھی مد نظر رکھا جائے تب بھی ان میں علّتِ خبث کے قوی احتمال کے پائے جانے کی وجہ سے اوجھڑی کھانے سے بچنا افضل ہے کہ اسی میں تقویٰ ،اسی میں نجات ، اسی میں ثواب اور اسی میں اللہ اور اس کے پیارے حبیب ﷺ کی رضاء اور خوشنودی ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 شوال المکرم1444 ھ/5 مئی2023