سوالیہ جملے سے نکاح کا حکم
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 167

    سوال

    مجلس نکاح اور دوگواہوں کی موجودگی میں قاضی نے ہندہ سے کہا کہ ”زید بن فلاں سے اتنے حق مہر کے عوض تمہیں نکاح قبول ہے“ تو ہندہ نے کہا قبول ہے ۔اسی طرح زید سے کہا تو اس نے بھی کہا کہ قبول ہے۔ سوال یہ کہ کیا مذکورہ الفاظ میں نکاح ہوا یانہیں؟

    سائل: عبد اللہ راولپنڈی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ الفاظ سے نکاح منعقد ہوگیا۔

    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نکاح منعقد ہونے کیلئے ایجاب و قبول لازم ہے۔یہاں ایجاب جملہ استفہامیہ سے ہوا اور استفہام کے مفید للایجاب کیلئے ضروری ہے کہ وہاں مجازی معنی یعنی تحقیق مراد ہو نہ کہ اصلی معنی استفسار،جبکہ مجازی معنی یہاں مفقود ہے کہ مقصود ہندہ سے اجازت طلب کرنا تھی۔البتہ چونکہ ہندہ اور زید کی مجلس ایک تھی اور گواہان بھی موجود تھے لہذا ہندہ اور زید کا کلام ہی ایجاب و قبول شمار ہوگا اورقاضی کا ایجاب لغو ہوا۔یہاں عورت کا پردے میں ہونا مجلس نہیں بدلے گا۔

    اسی قسم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:’’یہ سب تفصیل کہ مذکور ہوئی اس صورت میں ہے کہ مخطوبہ جلسہ خاطب سے اتنی دور بیٹھی ہو کہ اس کا کلام یہاں والے نہ سنیں یا وہ قبول کیا کہہ کر اٹھ جائے اس کے بعد خاطب سے گفتگو آئے یاجب مخطوبہ نے قبول کیا کہہ لیا اس کے بعد خاطب اٹھ کھڑا ہو پھر اس سے کہا گیا کہ ان صورتوں میں مجلس متبدل ہوگی یا شہود ان دونوں کا کلا م معاً نہ سنیں گے اور اگر وہ اس قدر بیٹھی ہے کہ اہل جلسہ خاطب نے اس کا قبول کیا، کہنا سنا اور ابھی خاطب ومخطوبہ ویسے ہی بیٹھے ہیں کہ خاطب سے آکر بیان کیا گیا اورا س نے قبول کیا کہا کہ مجلس واحد میں دونوں کا کہنا حاضرین میں کم ازکم دو مردوں یا ایک مرد دوعورتوں نے معاًسنا اور سمجھا تو نکاح کی صحت وتمامی میں اصلاً کلام نہیں، اب یہ بیچ کا شخص محض لغو وفضولی ہوگا اور خاطب ومخطوبہ ہی کاکلام ایجاب وقبول ہوگا... اور عورت کا پردے میں ہونا تغایر مجلس کا مقتضی نہیں، نہ صحت نکاح میں مخل ہوسکے جبکہ مخطوبہ دو شاہدوں کو عیناً یا تسمیۃً معلوم ہو ‘‘۔ (فتاوی رضویہ،11/169،رضا فاؤنڈیشن لاہور)


    عورت کا پردہ میں ہونا صحت نکاح میں مخل نہیں چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَفِي فَتَاوَى أَبِي اللَّيْثِ رَجُلٌ قَالَ لِقَوْمٍ: اشْهَدُوا أَنِّي تَزَوَّجْتُ هَذِهِ الْمَرْأَةَ الَّتِي فِي هَذَا الْبَيْتِ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ: قَبِلْتُ فَسَمِعَ الشُّهُودُ مَقَالَتَهَا وَلَمْ يَرَوْا شَخْصَهَا فَإِنْ كَانَتْ فِي الْبَيْتِ وَحْدَهَا جَازَ النِّكَاحُ".ترجمہ:فتاوٰی ابی اللیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے لوگوں کو کہاکہ گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اس کمرہ میں موجود عورت سے نکاح کیا اور عورت نے اندر سے جواب دیا کہ ’’میں نے قبول کیا‘‘ گواہوں نے عورت کی یہ بات سن لی اورعورت کو دیکھا نہیں، اگر عورت اس کمرہ میں اکیلی تھی تو نکاح ہوجائے گا ۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب النکاح الباب الاول،1/268،دار الفکر)

    اس کے تحت امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"قلت فافا دان الحجاب لایغیر المجلس وانما اشترط کونھا وحدھالانہ لم یسمھا وتعریف الغائب عند الاحتمال انما یکون بالتسمیۃ وفی الھندیۃ ایضاً عن محیط السرخسی ان کانت حاضرۃ متنقبۃ ولایعرفھا الشہود جاز النکاح وھو الصحیح".ترجمہ: (میں کہتا ہوں) حجاب مجلس کو تبدیل نہیں کرتا، صرف شرط یہ ہے کہ وہاں عورت اکیلی ہو کیونکہ مرد نے اس کا نام ذکر نہیں کیا جبکہ شبہ کی صورت میں عورت غائبانہ کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے اورہندیہ میں محیط سرخسی سے بھی منقول ہے کہ اگر وہ نقاب اوڑھے مجلس میں حاضر ہو اور گواہ نام نہ جانتے ہوں تو بھی نکاح جائز ہوگا، یہی صحیح ہے۔

    اسی طرح قبول خاطب میں اتنا وقفہ کہ شخص مذکور وہاں سے اُٹھ کر یہاں آیا اور قاضی سے وہ گفتگو ہوئی، گواہیاں لی گئیں، اس کے بعد خاطب سے کہا گیا تو اس نے قبول کیا کچھ مضر نہیں جبکہ مجلس متبدل نہ ہو کہ قبول فوراً ہوناضرور نہیں "فی ردالمحتار عن البحر اما الفور فلیس من شرطہ ".ترجمہ:ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے لیکن فوراً ہونا ضروری شرط نہیں۔(فتاوی رضویہ،11/170-171،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:3 محرم الحرام1445 ھ/22جولائی 2023ء