غنی ماں کے نابالغ بچوں کو زکوۃ دینے کا حکم
    تاریخ: 19 نومبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 170

    سوال

    ماں غنی ہے جب کہ باپ فقیر تو کیا غنی ماں کے بچوں کو زکوۃ دے سکتے ہیں ؟جواب ارشاد فرمائیں!

    سائل :محمد اکرام

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نابالغ اولاد اپنے باپ کے تابع ہوتی ہے ،ماں کے نہیں یعنی ماں کا غنی یا فقیر ہونا بچوں کے غنی و فقیر ہونے پر اثر انداز نہیں ہو گا ۔باپ غنی ہو تو نابالغ اولاد کو غنی،باپ فقیر ہو توانہیں فقیر شمار کیا جائے گا ۔سو اگرباپ شرعی فقیر ہو تو اس کی نابالغ محتاج اولاد کو زکوۃ دے سکتے ہیں ۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ باپ فقیر ہو تو بچوں کا بھی فقیر ہونا ضروری ہے لہذانابالغ اولاد اگر غنی ہو تو اس صورت میں بچوں کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہو گا ۔

    البحر الرائق میںہے:وَإِنَّمَا مُنِعَ مِنْ الدَّفْعِ لِطِفْلِ الْغَنِيِّ؛ لِأَنَّهُ يُعَدُّ غَنِيًّا بِغِنَاءِ أَبِيهِ كَذَا قَالُوا، وَهُوَ يُفِيدُ أَنَّ الدَّفْعَ لِوَلَدِ الْغَنِيَّةِ جَائِزٌ؛ إذْ لَا يُعَدُّ غَنِيًّا بِغِنَاءِ أُمِّهِ وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَب۔ترجمہ:غنی کے(نابالغ)بچے کو زکوۃ دینا منع ہے اس لیےکہ اس کےغنی والد کی وجہ سے اس کو غنی شمار کیا جائے گا ایسے ہی فقہاء سے منقول ہے۔اس سے یہ فائدہ نکلتا ہے کہ غنیہ کی اولاد کو زکوۃ دینا جائز ہے کیوں کہ نابالغ بچے کی ماں کے غنی ہونے کی وجہ سے بچے کوغنی شمار نہیں کیا جاتااگرچہ اس کا باپ نہ ہو (یعنی فوت ہو چکا ہو)۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ، جلد2 صفحہ 265، دار الكتاب الإسلامي)

    رد المحتار میں ہے: أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه۔ترجمہ: بچےکو اس کے باپ کے غنی ہونے کی وجہ سے غنی شمار کیا جائے گا ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14رمضان المبارک 1444 ھ/05اپریل 2023 ء