والدہ چھ بھائی پانچ بہنیں

    walida chh bhai paanch behnen

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 1310

    سوال

    محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!

    گزارش یہ ہے کہ ہم R-643/1 شریف آباد کے رہائشی ہیں،اور اپنا گھر فروخت کرنا چاہتے ہیں والد کا 2004ء میں انتقال ہوگيا ہے والدحیات ہیں ،گھر کی قیمت 1کروڑ 50لاکھ ہے گھر والدہ کے نام ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کا حصہ شرعی طور پر والدہ، بہن،بھائیوں کو ملے لہذا اس مسئلے میں آپکی رہنمائی کی ضرورت ہے، جسکی تفصیل یہ ہے کہ ہماری فیملی میں والدہ(سعیدہ بیگم)، 6بھائی (اشفاق احمد،حسیب احمد،اسماعیل احمد،وسیم احمد،ندیم احمد اور سلیم احمد)اور 5بہنیں (شہانہ،شبانہ، ریحانہ، مہوش،بینش) ہیں، بھائیوں میں سے سلیم احمد کا 2017ء میں انتقال ہوگےا ،اس وقت ان کی بیوی(عائشہ)موجود تھیں ،جن کی اب دوسری جگہ شادی ہورہی ہے۔ برائے کرم ہمیں بتائیں کہ ہمارا بھائیوں ،بہنوں اور والدہ کا مکان میں کتنا کتنا حصہ ملے گا اور جس بھائی کا انتقال ہوا اسکی بیوہ کا حصہ ہوگا ےا نہیں؟ اگر ہوگا تو کتنا ؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

    سائل : وسیم احمد ہاشمی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سوال میں مذکور صورت حال اگر حقیقت پر مبنی ہے اور ورثاء یہی ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تو مرحوم کے ترکے کے کل 12240حصے جائیں گے جس میں سے سعیدہ بیگم کو 1740حصے ، ہر بیٹے کو 1358حصے ،ہر بیٹی کو 679حصے جبکہ عائشہ (زوجہ سلیم احمد) کو 315حصے ملیں گے۔ اور میت کا ترکہ ایک کرور پچاس لاکھ روپے (1,50,00000) اس طرح تقسیم ہونگے کہ سعیدہ(زوجہ میت) کو 2132352، عائشہ کو 386029،ہربیٹے کو1664215،اور ہر بیٹی کو 832107ملیں گے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 6جمادی الثانی1439ھ 23فروری2018