کسی اور کے زیر پرورش بیٹے کا اپنے حقیقی والد سے حصہ میراث
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1016

    سوال

    ہمارے والد کاانتقال ہوگیا ہے، انکا ایک مکان ہے۔ ہم چار بھائی تھے جس میں سے ایک بھائی کا انتقال والد سے پہلے ہوگیا تھا ۔ چار بھائیوں میں سے ایک بھائی کو والد صاحب کے پھوپھا نے گود لے لیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بھائی کا والد کی جائیداد سے حصہ ہوگا یا نہیں ؟نیز یہ کہ جس بھائی کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوا، اسکی اولاد کا اس وراثت سے حصہ ہوگا یا نہیں؟

    سائل: یوسف :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیااور انکے علاوہ دیگر کوئی وارث نہیں تو حکم شرع یہ ہے کہ جس بھائی کو والد کے پھوپھا کے گود لیا اس کا بھی حقیقی والد کی وراثت سے اسی طرح حصہ ہوگا جس طرح دیگر بھائیوں کا ، کیونکہ وراثت کے استحقاق کا سبب ابنیت (بیٹا ہونا)ہے اور بیٹے ہونے میں سب بھائی مشترک ہیں، اگر چہ ان میں سے کوئی ایک والدِ کی زیرِ پرورش نہ رہاہو کہ غیر کی پرورش میں ہونا اسے بیٹے ہونے سے خارج نہ کردے گا۔

    البتہ جس بھائی کا انتقال والد کے انتقال سے قبل ہوا ، اسکی اولاد خواہ بیوی اس مکانِ موروثی سے حصہ نہ پائیں گے۔ کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔

    وراثت کےسبب سے متعلق المبسوط للسرخسی میں ہے:الْأَسْبَابُ الَّتِي بِهَا يُتَوَارَثُ ثَلَاثَةٌ الرَّحِمُ وَالنِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ۔ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،وغیرہ )2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض جلد 29 ص 138،الشاملہ)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَيُسْتَحَقُّ الْإِرْثُ بثلاثۃ بِرَحِمٍ وَنِكَاحٍ وَوَلَاءٍ۔ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت کا مستحق ہوتا ہے تین ہیں ۔:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،وغیرہ )2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الفرائض جلد 6ص 757،الشاملہ)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوک ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ: یوصیکم اﷲ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض ، جلد 26 ص 349)

    مورث سے پہلے انتقال کرجانے والوں کے حکم سے متعلق الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لیکن اگر دیگر ورثاء چاہیں تو اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کو وراثت میں سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ ان کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ، ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 صفر المظفر 1443 ھ/28 ستمبر2021 ء