وراثت كے ايك مسئلے كا حكم
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1015

    سوال

    عبد الرحیم کا 2007ءمیں انتقال ہوا ، ان کے والدین ایک زوجہ،دادادادی اورنانی کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا ،انہوں نے اپنے ورثا ء میں01بیوہ (فہمیدہ)04بیٹے (محمد فرقان،محمد ریحان، محمد فہیم ،محمد ذیشان )اور06 بیٹیاں (حمیراناز،سمرین ناز، شرین ناز، نورین ناز، نایاب ناز،فرح ناز) چھوڑیں ۔

    پھر سمرین ناز کا انتقال ہوا ، انہوں نے اپنے ورثاء میں شوہر (ضیاءالدین )01بیٹا (عذیر )اور 01بیٹی (ارم )چھوڑی ۔

    پھر محمد فہیم کا انتقال ہوا ، انہوں نے اپنے ورثاء میں 01بیوہ (مدیحہ ناز)03بیٹے (محمد بلال، محمدحسین،محمد مصطفی ٰ ) اور 01 بیٹی (عروبہ )چھوڑی ۔

    پھر محمد ریحان کا انتقال ہوا ،انہوں نے اپنے ورثاء میں 01بیوہ (اسماء ناز )02بیٹیاں(غزل ، ام ہانی) 02بھائی اور 05بہنیں چھوڑیں ۔

    یہ فرمائیں کہ مرحوم عبدالرحیم کا ترکہ ان کے ورثاء کے مابین کس طرح تقسیم ہوگا اور کس کا کتناحصہ ہوگا۔

    سائل:محمد فرقان :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں مرحوم عبدالرحیم پر اگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کے1728 حصے کیے جائیں گے جن کی تقسیم درج ذیل ہے :

    مرحوم کی بیوہ (فہمیدہ )کو 216حصے ،02بیٹوں(محمد فرقان ،محمد ذیشان) کو الگ الگ226،226حصے 05بیٹوں (حمیراناز، شرین ناز، نورین ناز، نایاب ناز،فرح ناز)کو الگ الگ 113،113حصے مرحومہ سمرین ناز کے شوہر (ضیا ء الدین )کو 27حصے بیٹے (عذیر )کو 54حصے بیٹی ارم کو 27حصے مرحوم فہیم کی بیوہ (مدیحہ ناز )کو 27حصے 03بیٹوں (حمد بلال، محمدحسین،محمد مصطفی)کو الگ الگ 54،54حصے اور بیٹی (عروبہ )کو 27 حصے ، مرحوم ریحان کی بیوہ (اسما ء )کو27حصے 02بیٹیوں (غزل ، ام ہانی )کو الگ الگ 72،72حصے ملیں گے ۔

    یہ حصے قرآن کریم کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق بیان کیے گئے ہیں : بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)

    بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17 جمادی الثانی 1441 ھ/12 فروری 2020ء