سوال
میرا ایک غیر شادی شدہ بھائی اقبال ہمارے ساتھ رہتا تھا ۔ ان کا انتقال تقریبا ایک ماہ قبل ہوا ہے انکی وراثت میں دو بلڈنگ ہیں ایک میں چار فلیٹ اور دوسری میں تین فلیٹ ہیں ۔ انہوں نے گواہان کی موجودگی میں زبانی وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد ایک بلڈنگ میری بہن شہناز کوثر کو دے دینا۔اور دوسری بلڈنگ فروخت کرکے مسجد بنوادینا۔اسکے علاوہ ایک گاڑی تھی جو انہوں نے زندگی میں ہی میرے بیٹے (اپنے بھانجے ) کے نام کردی تھی اور اسے دے دی تھی ۔ اور انکی بائک ابھی موجود ہے ۔ اب انکے ورثاء میں ایک بھائی اور مجھ سمیت دو بہنیں موجود ہیں ان سب چیزوں کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی ؟ کیا حکم ہے؟
سائلہ:شہناز کوثر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
سوال میں مذکور صورت حال اگر واقعی ہے تو حکم شرع یہ ہے کہ
1: کل مال وراثت(جائیداداور بائک یا اسکے علاوہ جو کچھ انکی ملکیت میں تھا)کا ایک تہائی حصہ اہل سنت کی کسی مسجد میں دیا جائے گا اسکے بعد جو کچھ بچے اسکو 4 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو حصے بھائی کو اور ایک ایک حصہ بہنوں کو ملے گا ۔
2:مرحوم نے اپنی بہن کے حق میں جو وصیت کی وہ وصیت انکے حق میں نافذ نہ ہوگی ۔ الایہ کہ دیگر ورثاء اس وصیت کو جائز کر دیں تو یہ وصیت مرحوم کی بہن کے حق میں نافذ ہوجائے گی۔
3: بھانجے کو زندگی میں جو گاڑی دی وہ وراثت میں شامل نہیں ہے وہ خاص اس بھانجے کی ہے جسکو دی۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
وصیت کے بارے میں عالمگیری میں ہے :وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ عِنْدَنَا إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ۔ترجمہ:اور ہمارے نزدیک وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس وصیت کو دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب وارث کے لیے بھی وصیت جائز ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری کتاب الوصایا باب فی بیان تفسیرہ جلد 6ص90)
تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ: اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے۔ مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)
فائدہ :رقم کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت جائیداد اور دیگر سامان کی مارکیٹ ویلیو لگواکر رقم کو 4 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے وہ ایک بہن کا حصہ ہوگا اور اس سے دگنا بھائی کا حصہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25جمادی الثانی 1441 ھ/19جنوری 2019 ء