سوال
عرض یہ ہےکہ میرے بڑے بھائی خورشید علی خان شیروانی کا 04 اگست 2018 کو کراچی میں انتقال ہوا ، ان کی عمر تقریبا 75 سال تھی، غیر شادی شدہ تھے اور گلستان جوہر میں میرے ساتھ میرے گھر میں رہائش پذیر تھے انکے ورثاء کی تفصیل یہ ہے :
والد رشید علی خان ۔۔۔۔۔انکا انتقال 1969 میں ہوا
والدہ زوجہ رشید علی خان ۔۔۔۔ انکا انتقال 1981 میں ہوا
بڑی بہن شاہجہاں بیگم ۔۔۔۔انکا انتقال 2015 میں ہوا ۔(انکے شوہر کا انتقال بھی بہت پہلے ہوچکا ہے البتہ اولاد موجود ہے۔)
چھوٹی بہن رضیہ سلطانہ ۔۔۔۔انکا انتقال 2017 میں ہوا (انکے شوہر کا انتقال بھی مارچ 2018 میں ہوچکا ہے اورانکی کوئی اولاد نہیں ہے۔)
اور میں انکا بھائی مرشد علی خان ۔۔۔عمر 70 سال حیات ہوں ۔انکے علاوہ دیگر ورثاء چچا وغیرہ کوئی بھی نہیں ہے۔
مرحوم کے پاس تقریبا 3 لاکھ روپے نقد ،اور 8 لاکھ روپے نیشنل سیونگ سینٹر میں موجود ہیں ۔
مرحوم نے ایک لاکھ نوے ہزار روپے ایک لفافے میں رکھے اور لکھا کہ میرے مرنے کے بعد یہ رقم وسیم الدین( بڑی بہن کا بیٹا ) بھانجے کو دے دینا ۔ مندرجہ بالا رقم کی شرعی اعتبار سے تقسیم کرنی ہے جس میں آپکی رہنمائی درکار ہے۔
سائل: مرشد علی خان : گلستان جوہر کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہے جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو فبہا،اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جومال بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔( السراجی فی المیراث ص 5)
مذکورہ صورت حال میں ایک لاکھ نوے ہزار روپے وصیت کی مد میں وسیم الدین(بھانجے)کو دیئے جائیں گے اور باقی ماندہ رقم مرشد علی خان (چھوٹے بھائی ) کو دی جائیگی۔کیونکہ مرشد علی خان میت کے عصبات میں سے ہیں اور عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔اسی میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔(السراجی فی المیراث ص 9)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 ربیع الاول 1440 ھ/26 نومبر 2018 ء