سوال
میری پھوپھی(جمیلہ) کا انتقال ہو گیاان کی کوئی اولاد نہیں ہے، وفات کے وقت ان کے دو بھائی(فہیم ، شمیم)، چار بہنیں(رضیہ، رئیسہ، سعیدہ، شکیلہ) اور شوہر (جاوید)حیات تھے، میری پھوپھی کی وفات کے صرف دو دن بعد ان کے شوہر کا بھی انتقال ہوگیا۔میری پھوپھی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ میری پھوپھی سے شادی سے پہلے انکے شوہر کی دو بیویاں اور بھی تھیں۔ انہوں نےمیری پھوپھی کے ساتھ شادی سے پہلے اپنی دونوں بیویوں کے بارے میں کبھی کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔میری پھوپھی میرے شوہر کی دوسری بیوی تھیں۔وہ دونوں بیرون ملک سعودیہ میں مقیم تھے۔ لیکن 15 سال سے وہ دونوں کراچی میں آباد تھے۔میرا پھوپھا یہاں کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ کراچی میں آباد ہونے کے بعد سے بیمار تھا اور ان کے پاس کوئی بینک بیلنس نہیں تھا۔اپنی موت سے ٹھیک پہلے اس نے بتایا کہ اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، دو دوسری بیویوں سے۔ لیکن وہ ان سے کبھی نہیں ملا اور نہ ہی اس کی کوئی اطلاع ہے۔اس نے اپنی دونوں بیویوں کو بہت ابتدائی مراحل میں چھوڑ دیا جب بچے ایک یا دو سال کے تھے۔ اس کے بعد اس نے نہ کبھی پوچھا اور نہ ہی اسے بیوی بچوں کے بارے میں کوئی اطلاع ملی۔ان کے مصری بیوی سے دو بیٹے اور پہلی پاکستانی بیوی سے دو بیٹیاں تھیں۔لیکن اسے کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ اب کہاں ہیں ، کوئی اطلاع نہیں کہ وہ مر چکے ہیں یا زندہ ہیں۔یونہی انکے دیگر ورثاء کا بھی علم نہیں ہم اپنی طرف سے انکی تلاش میں مکمل اور بھرپور کوشش کرچکے ہیں۔میری پھوپھا کی موت کے بعد ہم نے ان کے بچوں اور سابقہ بیویوں کے بارے میں تلاش کیا لیکن کوئی اطلاع نہیں ملی۔ہم ان کے ساتھ ان کی موت کی معلومات شیئر کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی رابطہ نہیں ہوا۔تمام کوششوں کے باوجود ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے کیونکہ مصر میں اس کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اس نے کبھی ان کے بارے میں کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔میری پھوپھی کے انتقال کے بعد، اب دارالافتاء سے درخواست ہے کہ میرے پھپو کے بقیہ اثاثوں کی ان کے قانونی ورثاء میں تقسیم کے بارے میں فتویٰ دیں۔
میری پھوپھی کے چار بھائی اور پانچ بہنیں تھیں۔ وفات کے وقت دو بھائی اور پانچ بہنیں زندہ تھیں۔ اس کی موت سے پہلے دو بھائی فوت ہو چکے تھے۔
سائل:فہیم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساذکر کیا گیااور انکے علاوہ دیگر ورثاء نہیں ہیں تو حکمِ شرع یہ ہے کہ جمیلہ بانو کےورثاء یعنی بہن بھائی جو حیات ہیں جمیلہ کی وراثت سے شرعی حصص کے مطابق حقدار ٹھہریں گے، انکے شوہر (جاوید) کی میراث کا حکم یہ ہے کہ چونکہ دوسری دو بیویوں سے اولاد و دیگر ورثاء معلوم نہیں ، لہذا انہیں مفقود قرار دیا جائے گا اور اور ان کے تمام حصص کو موقوف کرلیا جائے گا، جمیلہ بانو کے ورثاء میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ جاوید کے مفقود ورثاء کا حصہ رکھ لیں، پھر بعد ازاں جاوید کے ورثاء کا علم ہوجائے تو انکے حصص شرعی تقسیم کے مطابق انکے حوالے کردیئے جائیں بصورتِ دیگر یعنی اگر مفقود ین کی وفات ہو جائے،یا ان کی عمرستر سال کو پہنچ جائے تو ایسی صورت میں جاوید کو جمیلہ بانو سے ملنے والے کل حصوں کا مصرف بیت المال ہوگا، یعنی انکا سارا مال بیت المال میں رکھا جائے گا البتہ فی زمانہ ریاستی محکموں میں رشوت، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ کے سبب بیت المال کے انتظام میں واضح فساد پایا جاتا ہے لہذا اب میت کا ترکہ جسکے قبضے میں ہے اسکی ذمہ داری ہے کہ اسکاترکہ بیت المال میں نہ دے بلکہ یہ خود بیت المال کے مصارف یعنی صرف ان شرعی فقراء پرخرچ کرےجو کمانے سے عاجز ہوں اور انکا کوئی کفیل بھی نہ ہو، اس شخص کے لئے اپنے تصرف میں لانا ہرگز جائز نہیں ۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ جمیلہ بانو کی وراثت کے کل 16 حصص ہونگے جس میں سے 08 حصے اسکے بہن بھائیوں میں تقسیم ہونگے جبکہ بقیہ 08 انکے شوہر کے ورثاء کے لئے موقوف رکھے جائیں گے، بعد ازاں اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق ان میں تصرف کیا جائے گا۔
جمیلہ بانو کے ورثاء کے حصص:
جاوید فہیم شمیم رضیہ رئیسہ سعید ہشکیلہ
8 2 2 1 1 1 1
المسئلہ بھذہ الصورۃ
مسئلہ :16=8x2
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
شوہر بھائی بھائی بہن بہن بہن بہن
جاوید فہیم شمیم رضیہ رئیسہ سعیدہ شکیلہ
2/1 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 1
8 2 2 1 1 1 1
سراجی میں ہے:ا لمفقود حی فی مالہ حتی لایر ث منہ احد ،ومیت فی مال غیرہ حتی لا یرث من احد ،ویوقف مالہ حتی یصح موتہ او تمضی علیہ مدۃ ۔ ترجمہ:گمشدہ شخص اپنے مال میں زندہ ہوتا ہے یہاں تک کہ کوئی شخص اس کا وارث نہیں بن سکتا،اور دوسرے کے مال میں مردہ تصور کیا جاتا ہے یہاں تک وہ کسی کا وارث نہیں بن سکتا ،اس کے مال کو روک لیا جائے یہاں تک کہ اس کی موت ہو جائے۔یا اس پر ایک مدت گزر جائے ۔(السراجی فی المیراث،فصل فی المفقود ،85 صفحہ163)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وہ لڑکا کہ حیات مادر میں مفقودالخبرہوگیا ترکہ مادرمیں مثلِ میت ہے۔ فی التنویر: میت فی حق غیرہ فلایرث من غیرہ ترجمہ :تنویرمیں ہے مفقودالخبرغیر کے حق میں مردہ ہوتاہے لہٰذا وہ غیرکاوارث نہیں بنے گا۔تو جب تک بعد وفات مادر اس کازندہ رہناشرعاً ثابت نہ ہوجائے اس کی زوجہ وغیرہ مدعیانِ ارثِ مفقود کوترکہ مادری سے اس کے حصہ کامطالبہ ہرگزنہیں پہنچتا کہ بے اس ثبوت کے شرعاً خود اسے ترکہ مذکورہ سے کچھ نہ ملے گا اس کے ورثہ کو بذریعہ توریث بالواسطہ پہنچنا کیا معنٰی، بلکہ وہ ترکہ برتقدیر عدمِ موانعِ ارث و وارثِ آخر وتقدمِ مقدم کالدین والوصیۃ، چوبیس سہام پرمنقسم کریں ہرپسر موجود کو چھ ہردختر کوتین دے کرچھ موقوف رکھیں یہاں تک کہ عمرمففقود سے سترسال کامل گزرجائیں یعنی وہ مدت منقضی ہوکہ اگرزندہ ہوتا توستر۷۰ برس کاہوجاتا مثلاً وقت فقدان بست ۲۰سالہ تھا اور مفقود ہوئے تیس ۳۰ برس ہوئے تو بیس برس اورانتظار کریں یاپینتیس ۳۵ سال کی عمرمیں گما،اب پچیس گزرے تودس برس۔( فتاوی رضویہ جلد 26صفحہ98،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بیت المال کے مصارف کے بارے میں تنویر الابصار مع الدر میں ہے: ورابعها الضوائع مثل ما لا ... يكون له أناس وارثونا، ورابعها فمصرفه جهات ... تساوى النفع فيها المسلمونا۔ ترجمہ:بیت المال کا چوتھا مصرف ضوائع ہے، یعنی وہ لوگ جن کا کوئی وارث نہ ہو، تو اسکا مصرف کئی جہات ہیں، جس میں مسلمانوں کا نفع ہو۔
اسکے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں: (قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك، ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء۔ ترجمہ:یہ اس کے موافق ہے جسے ابن ضیاء نے شرح غزنویہ میں بزدوی سے نقل کیا کہ اسے مریضوں ، بیماروں، لقیط اور پل ، اصطبل، سرحدوں،مساجد اور جو ان جیسی چیزیں ہیں انکی تعمیر پر صرف کیا جائے گا، لیکن یہ اس کے مخالف ہے جوکچھ ہدایہ اورزیلعی میں ہے، کیونکہ ہدایہ وعام کتابوں میں ہے کہ جوکچھ مسلمانوں کی مصلحتوں پرخرچ کیاجاتا ہے وہ تیسری قسم ہے۔ بہر حال چوتھا تواسکا مصرف مشہور لقیط فقیر اور وہ فقراء ہیں جن کے اولیاء موجود نہیں تو انہیں اس مال سے انکا نفقہ، دوائیاں کفن،اور انکی جنایت کی چٹی دی جائے گی جیساکہ زیلعی میں ہے۔(ردالمحتار، مع الدر المختار شرح تنویر الابصارجلد 2 ص 338)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: جبکہ میت کاکوئی وارث شرعی موصی لہ بجمیع المال تک نہ ہو توجوکچھ اس کی تجہیزوتکفین وادائے دیون سے بچے فقرائے بیکس وبے قدرت عاجزین مسلمین کودیاجائے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 172)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: صورت مستفسرہ میں متوفیہ کاکل متروکہ خواہ اس کاذاتی مال ہو خواہ شوہرکادیاہوابعد ادائے دیون وانفاذ وصایا تمام وکمال فقرائے مسلمین کاحق ہے جوکسب سے عاجز ہوں اور ان کاکوئی کفالت کرنے والانہ ہو۔شوہرکا بیٹا اگرفقیر عاجزہے تووہ بھی اورفقرائے عاجزین کے مثل مستحق ہے ورنہ اس کا اصلاً استحقاق نہیں، نہ متوفیہ کے ذاتی مال میں نہ شوہر کے دئیے ہوئے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 208)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ذوالحج 1445ھ/ 22 جون 2024 ء