walida biwi do betay do betiyan
سوال
میرےشوہر کا انتقال ہوا ، ترکہ میں ایک گاڑی،اور ایک مکان تھا اور ورثاء میں والدہ(زہرہ) ایک بیوی(فہیم خاتون)دو بیٹے(دانش،بابر)اور دو بیٹیاں (مہوش،عینی)تھیں۔پھر کچھ عرصہ بعد انکی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ، انکی والدہ کے ورثاء میں صرف پانچ پوتے(دانش،بابر ،مانی،شجاع، شہروز)اور پانچ پوتیاں (مہوش،عینی،آمنہ،ثمینہ،نوشین)ہیں انکے علاوہ دیگر ورثاء یعنی شوہر، والدین ،اور ایک بیٹا پہلے ہی انتقال کرچکے ،انکی بیٹی نہیں ہے۔وراثت کا مکان 59لاکھ 50 ہزار کا بیچا۔شوہر کے مکان کے میں انکے انتقال کے بعد بیٹے نے ساڑھے تین لاکھ روپے یہ کہہ کر لگائے کہ جب بکے گا تو میں اپنے پیسے لے لوں گا ۔ تو کل رقم میں سے ساڑھے تین لاکھ روپے لے لئے جسکے بعد 56 لاکھ گھر کے موجود ہیں اسکے علاوہ گاڑی ڈ ھائی لاکھ کی بکی اس کی رقم سب نے رضامندی سے مجھے دے دی ۔ اب یہ بتائیں کہ ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا اور کیا میں اپنا حصہ اپنے چھوٹے بیٹے کو دے سکتی ہوں یا نہیں؟
سائل:فہیم خاتون: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا اور ورثاء صرف یہی ہیں توجس بیٹے نے ساڑھےتین لاکھ روپے لگائے کل مال میں سے انہیں دینے کے بعد تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت (بشمول گھر کی اور گاڑی کی قیمت)کے 720 حصے ہونگے جس میں سے فہیم خاتون کو 90 حصے ،دانش 186 حصے ،بابر کو بھی 186 حصے۔مہوش کو 93 حصے،عینی کو بھی 93۔ مانی،شجاع،شہروز میں سے ہرایک کو 16 حصے ،آمنہ،ثمینہ ،نوین میں سے ہرایک کو 08 حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کے بعد جو ورثاء اپنے حصہ میں سے کسی کو کچھ دینا چاہیں تو شرعا اس میں قباحت نہیں ہے۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ :ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر1441 ھ/01 اکتوبر2019 ء