سوال
ہمارے والد کا انتقال ہو چکا ہے ،ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں، ان میں سے ایک بھائی کابھی انتقال ہوگیا جوکہ غیر شادی شدہ تھا اس وقت والدہ حیات تھیں انہوں نے بھائی کے نام پر ایک دوکان خریدی تھی اور کہا تھا کہ تم لوگ سب بہن بھائی آپس میں برابر برابر تقسیم کرلینا۔ اب جبکہ والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے ۔ اس دوکان کے پیسوں کی تقسیم کیسے ہوگی ۔ اس وقت ہم چار بھائی اور دو بہنیں حیات ہیں ۔
سائل:عاقل: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ دوکان کی قیمت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ سب بہن بھائیوں کو برابر برابر نہیں مل سکتا کیونکہ یہ وراثت ہے اور وراثت کے حصے اللہ تعالٰی نے مقرر فرمائے ہیں ۔ لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27جمادی الثانی1441 ھ/22فروری0 202 ء