بہنوں کو وراثت سے محروم کرنے کا حکم
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1050

    سوال

    ہم تین بہنیں اور دو بھائی ہیں ، ہمارے خاندان میں شروع سے لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم نے اپنا خرچہ خود کرنا ہے اس لئے ہم سب بہنیں کنوارے سے ہی ٹیوشن پڑھاتے تھے جس سے ہم اپنے اخراجات کرتے تھے ، جبکہ ہمارے والد کا بہت بڑا کاروبار ہے اور ہمارے بھائی اسی کاروبار کی بنیاد پر عیش کی زندگی گزارتے رہے اسکے بعد ہم سب کی شادیاں ہوگئی ، اسکے بعد بھی ہم اپنے شوہروں کے ساتھ کام کرتی رہی لیکن بھائی والد کے کاروبار سے یش کرتے رہے اب والد کا انتقال ہوگیا ہے لیکن آج تک ہمیں کچھ نہیں ملا ۔ آپ بتائیں کہ کیا شرعی اعتبار سے یہ درست ہے کہ ہمیں کچھ نہ دیا جائے ؟ سب کچھ بیٹے ہی لے لیں ۔ ہماری والدہ کہتی ہیں کہ تمہارے والد نے کوئی وصیت نہیں کی اس لئے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ہم تنیوں بہنیں ہار چکی ہیں۔ہمیں کچھ نہیں ملے گا۔

    سائلہ:صدف ریاض :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شرعی اعتبار سے والد کی وراثت سے بھائیوں کی طرح ، تمام بہنوں کا پورا پورا حصہ ہوگا۔بھائیوں اور والدہ سمیت کسی کو کوئی حق نہیں کہ بہنوں کو وراثت سے محروم کرےکسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے لہذا تمام بھائیوں پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کے علاوہ جس جس وارث کو حصہ نہیں دیا انکو انکا حصہ دیں ۔

    ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،بالخصوص بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شرع شریف کے نزدیک سخت گناہ اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ۔ترجمہ کنز الایمان :اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥)

    آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں اپنی بہنوں کوانکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ، چناچہ بخاری شریف میں ہے:فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    اسی طرح بخاری شریف میں ایک اور مقام پر ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔(بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 26 ذوالحجۃ1442 ھ/05 اگست 2021 ء