سوال
میرے والد صاحب2016 کا انتقال ہوگیا ہے اور میری والدہ کابھی 2018 میں انتقال ہوگیا ہے۔میرے والد صاحب کی جائیداد میں ایک مکان ہے جو تقریبا تین کروڑ کی مالیت کا ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل والد صاحب نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے بعد اس مکان کے چار حصے کئے جائیں۔جوکہ تین بھائی اور ایک بہن میں برابرتقسیم کی جائے۔ہمارا سوال یہ ہےکہ اب والد صاحب کی وصیت کے مطابق برابر حصہ دیا جائے گا یا پھر لڑکوں کا لڑکیوں سے دگنا ملے گا۔
سائل:زبیر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہےکہ آپ کے والد کا یہ کہنا کہ برابر برابر تقسیم کیا جائے شرعی حیثیت نہیں رکھتا ۔لہذا کل مال وراثت کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ :7
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
عصبـــــــــــــــــــــــــــــــہ
2 2 2 1
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ: وراثت کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو 7 پر تقسیم کرلیا جائے ۔ جو جواب آئے وہ لڑکی کا حصہ ہوگا اور اس سے دگنا ہر لڑکے کا حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 رجب المرجب 1441 ھ/04 مارچ 0 202 ء