سوال
ہمیں وراثت کے حوالے سے کچھ معلومات کی ضرورت ہے ۔ہم چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔اور ہمارے ماں باپ الحمد للہ زندہ ہیں، اور وہ اپنی جائیداد تقسیم کررہے ہیں۔ بھائی بول رہے ہیں کہ اس میں 75 فیصد ہمارا اور 25 فیصد چھ بہنوں اور امی کا ہے ۔ کیا یہ تقسیم درست ہے؟ اور بھائیوں کا یہ کہنا درست ہے؟ اور اس میں تقسیم کے وقت تمام ورثاء کو شریک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ کیونکہ میری دو بہنیں تو تقسیم کے وقت موجود بھی نہیں تھیں۔برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ: فائزہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کے بھائیوں کی بات سراسر غلط اور شریعت کے خلاف ہے، یہ تقسیم شریعت کے مطابق نہیں ہے۔کیونکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر جائیداد کے مالک والد ہیں تو جب تک وہ بقید حیات ہیں کسی وارث کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگروہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں،اور بیوی کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتےہیں۔اسکا طریقہ یہ ہے کہ سب اولاد لڑکے ،لڑکی کو اور والدہ کو برابر برابر دیا جائے ۔اور کسی خاص وجہ سے مثلاً کوئی اولاد زیادہ غریب یا دین دار ہے اس لیے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے لیکن بغیر کسی خاص وجہ کے کسی کو زیادہ دینا مکروہ ہے۔ اور ایک کو ہی سارا مال دینا بھی جائز ہے لیکن اس صورت میں دینے والا سخت گنہ گار ہوگا۔
البحر الرائق میں ہے"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:۷،ص:۲۸۸)
لیکن یاد رہے کہ اسکو تقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہیں گے کیونکہ شرعی اصطلاح میں وراثت یا میراث اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو کوئی شخص وفات کے وقت چھوڑتا ہے، اور اس وقت موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔ التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
البحر الرائق میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ:ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے) کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔( شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557)
یوں ہی شامی میں ہے:وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، ترجمہ: اور وراثت کی تین شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ مورث کی موت ہے ، حقیقتاََ مر جائے یا حکماََ جیسے مفقود شخص ۔( شامی کتاب الفرائض ج6 ص758)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر جائیداد کی تقسیم مالک جائیداد کی زندگی میں ہی کی جارہی ہے تواس میں حکم شرع یہ ہے کہ سب کو برابر برابر دیا جائے ، اور کسی خاص وجہ سے کسی کو دوسروں سے زیادہ دیدے یہ بھی جائز ہے۔جبکہ بغیر کسی خاص وجہ کے کسی کو دوسرں سے زیادہ دینا مکروہ ہے اور ایک کو ہی سارا مال بھی دے سکتے ہیں لیکن دینے والا سخت گنہ گار ہوگا۔
اور تقسیم کے وقت تمام شرکاء کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے لیکن انکو انکے حصے کا علم ہونا اور ملنا ضروری ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19محرم الحرام 1440 ھ/29ستمبر 2018 ء