سوال
ہم چھ بھائی ہیں ، ہمارے والد کو دادا سے حصہ ملا ، جس وقت حصہ ملا تو اس وقت ہم تین بھائیوں کی شادی ہوچکی تھی جبکہ تین رہتے تھے کسی نے والد صاحب سے کہا کہ جن کی شادی ہوچکی ہے انکا حصہ ہوگیا ، اب چھوٹوں کا سوچیں ۔ یعنی جن کی شادی ہوگئی ان کو حصہ نہ دیں، والد صاحب نے ان پیسوں سے ایک مکان لیااور انہوں نے ایسی کوئی صراحت نہیں کی کہ اس میں تین کا حصہ ہے اور تین کا نہیں ہے ؟ پھر انکا انتقال ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ اس مکان میں ہم تین بھائیوں کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ ہم صرف چھ بھائی ہیں ، بہن نہیں ہے اور والدہ پہلے فوت ہوچکی ہیں۔
سائل:نوید صدیق: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں یہ مکان تمام بیٹوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا۔ کیونکہ یہاں وراثت کا سبب قرابت پائی جارہی ہے۔وراثت کےسبب سے متعلق المبسوط للسرخسی میں ہے:الْأَسْبَابُ الَّتِي بِهَا يُتَوَارَثُ ثَلَاثَةٌ الرَّحِمُ وَالنِّكَاحُ وَالْوَلَاءُ۔ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت حاصل ہوتی ہے تین ہیں ۔1:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،وغیرہ )2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض جلد 29 ص 138،الشاملہ)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَيُسْتَحَقُّ الْإِرْثُ بثلاثۃ بِرَحِمٍ وَنِكَاحٍ وَوَلَاءٍ۔ترجمہ: وہ اسباب جن کی وجہ سے وراثت کا مستحق ہوتا ہے تین ہیں ۔:رشتہ داری(ماں باپ،بہن بھائی، بیٹا،بیٹی،وغیرہ )2: نکاح (شوہر ، بیوی) اور ولاء (یعنی مرنے والے کے معتق)۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الفرائض جلد 6ص 757،الشاملہ)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اولاد کسی طرح اولاد ہونے سے خارج نہیں ہوسکتی سواکفرکے۔ والعیاذباﷲ تعالٰی۔ اور کسی طرح ترکہ سے محروم نہیں ہوسکتی سوا موانع خمسہ معلومہ کے کہ دین مختلف ہو یادارمختلف یامملوک ہو یامعاذاﷲ مورث کو قتل کرے یادونوں کااس طرح انتقال ہو کہ معلوم نہ ہو ان میں پہلے کون مراان کے سوا وہی عام حکم ہے کہ: یوصیکم اﷲ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ اﷲ تعالٰی تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ بیٹے کا حصہ دوبیٹیوں کے حصے کے برابرہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض ، جلد 26 ص 349)
سراجی میں ہے:یرجحون بقرب الدرجۃ،اعنی اولاھم بالمیراث جُزْء ُ المیت۔۔۔ثم جُزْء ابیہ ،ای الاخوۃ،ثم بنوھم۔ ترجمہ: وراثت کا زیادہ حق قریبی رشتہ دار رکھتے ہیں یعنی میت کا جز بیٹا۔۔۔پھر اس کے باپ کا جز یعنی اس کا بھائی پھر اس کےا ٓگے جو ہوں۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
تمام بیٹے عصبات میں سے ہیں اور عصبہ دیگر ورثاء کی عدم موجودگی میں میت کے تمام مال کا مستحق بن جاتا ہے۔ایک درجے کے ایک سے زائد عصبہ ہوں تو سب کوبرابر برابر ملے گا۔ السراجی فی المیراث میں ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 محرم الحرام ا1444 ھ/17 اگست 2022 ء