بہو کا حصہ کا تقاضا کرنا
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1051

    سوال

    میرا ایک بیٹا اختر ہے ، اسکی شادی کے بعد میں نے اسکو حصہ میں سے مکان دے دیا ، وہ مکان اس نے اور اسکی بیوی نے بیچ کر کھالیا ۔ اسکے بعد میرا بیٹا اغواء ہوگیا معلوم نہیں کہ کہاں گیا زندہ ہے یا مرگیا۔ اغواء ہوئے ہوئے دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ اب میری بہو مجھ سے بیٹے کا حصہ مانگ رہی ہے۔جبکہ بیٹے کے لاپتہ ہونے سے اب تک میں نے بہو کو دیوار نکلواکر آدھی جگہ دے رکھی ہے۔میں نے کبھی اس سے کرایہ کا مطالبہ نہیں کیا۔ لیکن وہ مجھے مسلسل پریشان کر رہی ہے کہ مجھے 10، 15 لاکھ دے دو میں چلی جاؤں گی۔اسکا یہ تقاضا جائز ہے جبکہ ابھی میں اور میرے شوہر زندہ ہیں اور مکان کے مالک میرے شوہر یعنی اختر کے والد ہیں نیز بیٹے کو پہلے حصے دے بھی چکی ہوں۔

    سائل:بمعرفت اکمل : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بہو کا یہ تقاضا شرعا جائز نہیں ہے نہ اس بناء پر جائز کہ شوہر کی وراثت اسے ملے گی اور نہ ہی اس طور پر کہ یہ بہو ہیں۔

    پہلی صورت کی وجہ یہ ہے کہ بیٹے کو شادی کے بعد مکان میں سے حصہ دینا اس طور پر تھا کہ یہ بیٹےکا حصہ وراثت ہے، یعنی جب تقسیم وراثت ہوگی بیٹے کو وراثت سے کچھ نہ ملے گا۔لہذا یہ ہبہ محض نہیں ہے بلکہ مورث کی زندگی میں حصہ میراث پر صلح ہے،اور ایسی صلح شرعا باطل و بے اثر ہے۔ کیونکہ یہ تخارج کی صورت ہے اور تخارج بعد موتِ مورث ہوتا ہے نہ کہ قبل موتِ مورث۔اس صورت میں جو کچھ لیا وہ مورث کا ہی قرار دیا جائے گا۔ اور اسکی موت کے بعد تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ مورث کی موت کے بعد تمام ورثاء اس پر راضی ہوجائیں تو یہ شرعا تخارج کہلائے گا جو کہ جائز ہے اس صورت میں انکو جو کچھ ملا وہ انکا ہوگیا بقیہ مالِ وراثت میں انکا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

    اب چونکہ صورت مستفسرہ میں جو مال بیٹے کو دیا وہ اب موجود نہیں تو اب اسکا حل یہ ہے کہ دیگر ورثاء وقت تقسیم اسی پر رضامندی کا اظہار کریں جو اسے دیا جاچکا اور بقیہ مال اپنے مابین شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم کرلیں۔

    دوسری صورت کی وجہ بھی واضح ہے کہ بہو ہونا ، وراث بننے کا سبب نہیں ہے، حتٰی کہ بیٹا جب تک مفقود ہے اس وقت تک نہ وہ کسی کے وارث بن سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی انکا وارث بن سکتا ہے۔ الا یہ کہ اگر انکی موت کا علم ہوجائے یا اتنی مدت گزر کہ جس مدت کی بناء پر مفقود کو میت مان لیا جاتا ہے تواس وقت اس کے حق میں حکم ِ شرع ثابت ہوگا۔تو جب یہاں خود بیٹا وارث نہیں بن سکتا تو اسکی بیوی کو کیا حق کہ وہ شوہر کے والدین کے مال سے شوہر کے حصہ وراثت کا تقاضہ کرے۔

    اما م اہل سنت، عظیم المرتبت ،سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں : وارث سے اس کے حصہ میراث کے بابت جوصلح حیات مورث میں کی جائے تحقیق یہ ہے کہ باطل وبے اثرہے اس سے وارث کاحق ارث اصلاً زائل نہیں ہوتا۔ ہاں اگربعد موت مورث اس صلح پررضامندی رہے تو اب صحیح ہوجائے گی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض، جلد 26 ص231، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    مزید ارشاد فرماتے ہیں:الواجب عندی رضی الورثۃ جمیعا بعد موت المورث لا رضی المصالح وحدہ فان التخارج مبادلۃ بینھم فلابد من رضاھم جمیعا لاسیما اذا کان الذی عُیِّن لہ ازید من حقہ وکانہ لحظ الٰی ان التعیین لواحد علٰی ان لایکون لہ فی سائر الترکۃ شیئ۔ ترجمہ: میرے نزدیک مورث کے مرنے کے بعد تمام وارثوں کی رضامندی ضروری ہے نہ کہ تنہا صلح کرنے والے کی رضامندی۔ کیونکہ تخارج وارثوں کے درمیان باہمی تبادلہ ہے لہٰذا ان سب کی رضامندی ضروری ہے خصوصاً اس صورت میں جب مذکورہ بالا وارث کے لئے اس کے حق سے زائد کی تعیین کردی گئی ہو۔ گویا اس بات کوملحوظ رکھاگیاہے کہ کسی ایک وارث کے لئے تعیین اس شرط پرہوگی کہ ترکہ میں سے اس کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض، جلد 26 ص236، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    وراثت کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت (یعنی رشتہ داری)ہے جیساکہ الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:أما أسباب الإرث المتفق عليها فهي ثلاثة: وهي القرابة، والزوجية، والوَلاء۔ترجمہ:وراثت کے تین متفق علیہ اسباب ہیں۔1:قرابت،2:زوجیت،3:ولاء۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ ،جلد 10 ص 377)

    اسی طرح الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: أَسْبَابُ الإْرْثِ أَرْبَعَةٌ، ثَلاَثَةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ الأْئِمَّةِ الأْرْبَعَةِ، وَالرَّابِعُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.فَالثَّلاَثَةُ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا: النِّكَاحُ، وَالْوَلاَءُ، وَالْقَرَابَةُ،ترجمہ:ائمہ اربعہ کے درمیان وراثت کے متفق علیہ اسباب تین ہیں ۔ایک مختلف فیہ ہے ۔ متفق علیہ یہ تین ہیں۔1:نکاح ،2: ولاء،3:قرابت۔(الموسوعۃ الفقہیہ جلد 3 ص 22)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17 ذیقعدہ 1441 ھ/08 جولائی 2020 ء