بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا
    تاریخ: 17 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1049

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ اگر بھائی والد کی وراثت سے بہنوں کو حصہ نہ دیں تو شریعت کا کیا حکم ہے؟

    سائل: کامران عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت کے اعتبار سے وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے اور آپ کے تمام بھائیوں پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کے علاوہ جس جس وارث کو حصہ نہیں دیا انکو انکا حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،بالخصوص بہنوں کا حصہ دبا لیا جاتا ہے، جو کہ شرع شریف کے نزدیک سخت گناہ اور ایساکرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے

    وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ( سورۃ الفجر آیت ١٧تا ٢٥)ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔

    آپ تمام بھائیوں نے اگر وراثت میں اپنی بہنوں کوانکا مقررہ حصہ نہیں دیا تو یہ کسی مسلمان کا حصہ غصب کرنے کے زمرے میں آئے گا ،اور احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق غصب کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں

    بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198

    فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ:ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

    بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی