سوال
میرے بڑے بھائی جو جرمنی میں گذشتہ 17 سال سے رہائش پذیر تھے ان کا پچھلے ہفتے انتقال ہوگیا ہے اور وہ غیر شادی شدہ تھے۔اب ہمیں ان کی وراثت شرعی قوانین کے مطابق تقسیم کرنی ہے ، ان کے ورثاء میں ان کی والدہ ، 7 بہنیں اور 4 بھائی ہیں۔ براہ کرم رہ نمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں ۔وراثت کی رقم تدفین کے معاملات کے بعد تقریبا = 41,00,000 پاکستانی روپے بنتی ہے۔مرحوم کے والد پہلے انتقال کرچکے۔
سائل: محمد مصور دستگیر ، شاہ فیصل کالونی، کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 90 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی والدہ کو 15، ہر ایک بھائی کو 10 اور ہر ایک بہن کو علیحدہ 5 حصے تقسیم ہونگے۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 90 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
6×15=90
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
والدہ 4 بھائی 7بہنیں
سدس عصـــــــــــــــــــــــبہ
1×15 5×15=75
15 10/40 5/35
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔ (السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
اولاد کی موجودگی میں والدین کے حصے کے متعلق فرمان باری تعالی ہے: وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ. ترجمہ:اور میت کے ماں باپ (میں سے) ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ملے گا) اگر میت کے اولاد ہو۔(النساء: 11)
بہن بھائیوں کے حصے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ.ترجمہ: اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر۔(النساء: 176)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال". ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:3 رمضان المبارک 1447ھ/21 فروری 2026ء