walida aik saga bhai chaar maan shareek aulaad
سوال
ایک شخص محمد اشفاق کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں ماں(مصطفائی بیگم)ایک سگا بھائی(آفاق) دو ماں سگےبھائی(ناصر، عمران) اور دو ماں سگی بہنیں (رخسانہ، ثنا) ہیں۔جبکہ محمد اشفاق کے والد اور ایک سگی بہن کا انتقال ان سے پہلے ہوا۔وراثت میں ساڑھے بارہ لاکھ روپے کیش اور انکی دوکان کا سامان جوکہ 60 ہزار روپےتک کا ہے اور دوکان کرائے کی ہےاسکے علاوہ سونے کے بندے ہیں جن کی ویلیو 15 ہزار روپے ہیں۔وراثت میں سے کس کس کو حصہ ملے گا اور اس کی تقسیم اور ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ بتادیں۔
سائل:غلام غوث :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے انکے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے پھر اسکے بعد دیکھا جائے گا کہ ان پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ وراثت والدہ ، سگے بھائی اور ، ماں شریک بہنوں اور بھائیوں تمام میں تقسیم ہوگی۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کےترکہ کو 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔جس میں سے والدہ(مصطفائی بیگم) کو 2حصے ، سگے بھائی ( آفاق) کو 6 حصے جبکہ تمام ماں شریک بہنوں اور بھائیوں (ناصر، عمران،رخسانہ، ثنا) کو برابر برابر الگ الگ ایک ایک حصہ ملے گا۔
رقم کی صورت میں ہر فریق کا حصہ: کل رقم:1325000
مصطفائی بیگم 220234 ناصر 110417 عمران 110417
رخسانہ 110417 ثناء 110417 آفاق 662502
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی:وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے)اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر ٍ10)
ماں شریک بہن بھائیوں کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالٰی ہے: فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں۔(النساء : آیت نمبر 12)
ماں شریک بہن بھائیوں کے بارے میں السراجی فی المیراث میں ہے:والثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم و اناثھم فی القسمۃ والاستحقاق سواء۔ ترجمہ:دو یا دو سے زائد ہوں تو انکے لئے ایک تہائی ہے۔ مردوں اور عورتوں کو برابر برابر ملے گا۔( السراجی فی المیراث ص 30)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 رجب المرجب 1442 ھ/01 مارچ 2021 ء