walid walida teen betay teen betiyan
سوال
ایک شخص کا2008 میں انتقال ہوا اسکے ورثاء میں بیوی ،تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، پھر 2018 میں بیوی کا بھی وصال ہوگیا ۔اسکے ورثاء میں بھی صرف یہی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ اسلام کی رو سے بتائیں کہ پراپرٹی میں بیٹیوں کا کتنا حصہ ہوگا اور بیٹوں کا کتنا ؟پراپرٹی کی قیمت تیس لاکھ ہے۔ نوازش ہوگی۔
سائل: ندیم احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو کل وراثت کے 9 حصے کیئے جائیں گے ۔ جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی ایک حصہ دیا جائے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ: ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ:جائیداد کی کل قیمت اس طرح تقسیم ہوگی کہ 30 لاکھ میں سے ہر بیٹے کو 66667روپے ملیں گے اور ہر بیٹی کو 333333 روپے ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13 جمادی الاول 1440 ھ/19 جنوری 2019 ء