سوال
السلام علیکم : جناب یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ باپ کی جائیداد میں سے عورت یعنی بیٹی کا کتنا حصہ ہوگا۔ بیٹی کو باپ کی جائیداد میں سے کتنا فی صد ملے گا۔
سائل: عبد الرحمان: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وعلیکم السلام :
جائیداد میں حصہ ملنے کے اعتبار سے بیٹی کی تین حالتیں ہیں :
1:اگر ورثاء میں بیٹی ایک ہی ہو تو اسکو والد کے ترکہ سے آدھا ملے گا ، یعنی کل جائیداد کے دو حصے کریں گے جس میں سے ایک حصہ بیٹی کو ملے گا۔
2: اگر دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکو ودثلث یعنی 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔
3: اگر بیٹیوں کے ساتھ بیٹے بھی ہوں تو اب تقسیم للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت ہوگی۔ یعنی ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔
قال اللہ تعالیٰ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ:ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
نوٹ : یہ حصے صرف بیٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دیگر ورثاء مثلا میت کی اولاد لڑکے اسکی بیوی اسکی ماں وغیرہم سے قطع نظر کرکے بیان کیے گئے ہیں ، جسکا انتقال ہوا اگر اسکےدیگر ورثاء ہوں تو ان تمام کے حصے معلوم کرنے کے لیے دار الافتاء تشریف لائیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب