مردوں کا لباس کیسا ہونا چاہیے
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 639

    سوال

    مردوں کوکیسا لباس پہننا چاہیے خصوصا آج کل جو باریک کپڑوں کا رواج ہے کہ جس سے جسم نظر آتا ہے ،ان کا کیا حکم ہے ؟

    سائل:عبد الرحمان

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مکلف پر فرض ہے کہ وہ اپنے ستر کوکسی ایسے لباس سے ڈھانپ کر رکھے جو لباس درج ذیل امور پر مشتمل ہو :

    1:۔ اس کے استعمال سے شرع نے روکا نہ ہو جیسے مردوں کے لیے ریشمی لباس۔

    2:۔ساتر ہو یعنی جس سے مردوں کا ستر ممنوع (ناف سے گھٹنے تک )چھپ جائے یوں کہ : ممنوع حصہ کہیں سےکھلا نہ رہے ،ممنوعہ اعضا کی ہیئت و بناوٹ نہ نظر آئےنیز فرض ستر کی رنگت نہ دیکھائی دے ۔

    لہذا ایسا لباس جس سے ناف کے نیچے سے گھٹنوں تک کا کوئی حصہ نظر آئے کا جیسے اس انداز میں پینٹ پہننا کہ جس سے پیچھے کا حصہ نقل و حرکت میں کھل جائے جائز نہیں اسی طرح گھٹنوں سے اوپر کچھہ پہننا ۔

    انتہائی چست قسم کےملبوس پہننا جس سے اعضائے ممنوعہ کی ہیئت نمایاں ہو جیسے tight pants, leggings یا skin-fit trousers وغیرہ،یا واضح طور پر جسم کی رنگت نظر آئے اور دور سے ممنوعہ اعضا دیکھائی دیں ۔

    3:۔کفار کا مذہبی لباس نہ ہو جیسےیہودیوں ،عیسائیوں ہندوؤں کا خاص مذہبی لباس یا پھر لباس تو مذہبی شعار پر مبنی نہ ہو لیکن وہ انہی کے ساتھ خاص ہو کہ وہ لباس یہی لوگ لباس استعمال کرتے ہیں ۔

    قاعدہ کلیہ لباس پہننے میں یہ ہے کہ اس میں تین امور کی رعایت کرنی چاہئے ایک یہ کہ اصل میں اس کا استعمال کرنا جائز ہو مثلا جیسے ریشمی یا سنہری لباس۔ یا سرخ یا زرد، زعفرانی رنگ کا لباس کہ علی الاطلاق مرد کے لئے ا س کا استعمال جائز نہیں۔ (دوسری بات) ستر کی رعایت ہو اس لباس میں کہ جس کا ستر سے تعلق ہے۔ جیسے مرد کئے لئے زیر جامہ۔ اور آزاد عورتیں سرے سے لے کر پاؤں تک غیر محرم (اجنبی) مردوں کے سامنے مکمل لباس پہنے ہوں۔ البتہ محرم مردوں کے روبرو، پشت اور ناف سے لے کر گھٹنوں کے نیچے تک پردہ پوش ہوں۔ ہاں اگر تنہا شوہر کے پاس ہو تو پھر اہتمام ستر کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر شرم وحیاء مانع ہو تو الگ بات ہے۔ اور اس کے ذیلی پہلوؤں میں سے یہ بھی ہے کہ لباس محل ستر پر کچھ اس طرح چسپاں ہو کہ اس عضو کی ہئیت نہ دکھائی دے۔ جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ذکر فرمایا اور میں نے اس کے حواشی میں اس کی تحقیق کردی۔ (تیسری بات) لباس کی وضع کالحاظ رکھا جائے کہ کافروں کی شکل وصورت اورفاسقوں کے طرزو طریقے پر نہ ہو اور اس کی دو قسمیں ہیں: ایک یہ کہ ان کا مذہبی شعار ہو جیسے ہندوؤں کا زنار اور عیسائیوں کی خصوصی ٹوپی کہ ''ہیٹ'' کہتے ہیں۔ پس ان کا استعمال کفر ہے۔ اور اگر ان کے مذہب کا شعار تو نہیں لیکن ان کی قوم کا خصوصی لباس ہے تو اس صورت میں بھی اس کا استعمال ممنوع (ناجائز ہے) چنانچہ حدیث صحیح میں فرمایا: جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ اسی میں شمار ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 22،صفحہ 190،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یونہی تنگ پائچے بھی نہ چوڑی دار ہوں نہ ٹخنوں سے نیچے، نہ خوب چست بدن سے سلے۔ کہ یہ سب وضع فساق ہے۔ اور ساتر عورت کا ایسا چست ہونا کہ عضو کا پورا انداز بتائے۔ یہ بھی ایک طرح کی بے ستری ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جو پیشگوئی فرمائی کہ نساء کا سیات عاریات ہوں گی کپڑے پہننے ننگیاں، اس کی وجوہ تفسیر سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کپڑے ایسے تنگ چست ہوں گے کہ بدن کی گولائی فربہی انداز اوپر سے بتائیں گے جیسے بعض لکھنؤ والیوں کی تنگ شلواریں چست کرتیاں۔

    ردالمحتارمیں ہے : فی الذخیرۃ وغیرھا ان کان علی المرا،ۃ ثیاب فلا باس ان یتامل جسدھا اذا لم تکن ثیابھا ملتزقۃ بھا بحیث نصف ماتحتہا وفی التتبیین قالوا ولا باس بالتأمل فی جسدھا وعلیہا ثیاب مالم یکن ثوب یبین حجمھا فلا ینظر الیہ حنیئذ لقولہ علیہ الصلٰوۃ واسلام من تامل خلف امرأۃ ورأی ثیابھا حتی تبین لہ حجم عظامھا لم یرح رائحۃ الجنۃ ولانہ متی کان یصف یکون ناظرا الی اعضائھا ۱؎ اھ ملخصا.ترجمہ :ذخیرہ وغیرہ میں ہے کہ اگر عورت نے لباس پہن رکھا ہو تو اس کے جسم کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لباس اس قدر تنگ اور چست نہ ہو کہ سب کچھ عیاں ہونے لگے۔ التبیین میں ہے کہ ائمہ کرام نے فرمایا جب عورت لباس پہنے ہو تو اس کی طرف دیکھنے میں کچھ حرج نہیں بشرطیکہ لباس ایسا تنگ اور چست نہ ہوجواس کے حجم کو ظاہر کرنے لگے (اگرایسی صورت حال ہو توپھر اس طرف نہ دیکھا جائے۔ مترجم) حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشادگرامی کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے عورت کو پیچھے سے دیکھا اوراس کے لباس پر نظر پڑی یہاں تک کہ اس کی ہڈیوں کا حجم واضح اور ظاہر ہوگیا تو ایسا شخص (جو غیر محرم کو بغور دیکھ کر لطف اندوز ہونے والا ہے) جنت کی خوشبو تک نہ پائیگا اور اس لئے کہ لباس سے انداز قدوقامت ظاہر ہو تو اس لباس کو دیکھنا مخفی اعضاء کو دیکھنے کے مترادف ہے۔ اھ ملخصا ( ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۳۴)

    نہ بہت اونچے گھنٹوں کے قریب ہوں کہ تنگ پائچوں میں اگر چہ احتمال کشف نہیں مگر پاؤں کے لباس میں جو حد مسنون ہے اس سے تجاوز یہ افراط ہوا۔

    شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رسالہ آداب اللباس میں فرماتے ہیں : ہمبرین قیاس سراویل کہ درعجم متعارفست وآں راشلواری گویند بمقدار ازاں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باشد واگرزیر شتالنگ باشد یا دوسہ چین واقع شود بدعت وگناہ است ۱؎۔ اس پر ''سراویل'' کو قیاس کرنا چاہئے کہ جو دیار عجم میں مشہور ہے جس کو شلوار کہتے ہیں پس یہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ازار مبارک کی مقدار کے مطابق ہو لیکن اگر ٹخنوں سے نیچے ہو یا دو تین شکن نیچے واقع ہو جائے تو بدعت اور گناہ ہے۔

    ہر کاٹن کا کپڑا اتنا باریک نہیں ہوتا کہ اس سے جسم کی رنگت ظاہر ہو۔ہاں بعض کاٹن کے کپڑے واقعی اتنے باریک ہوتے ہیں کہ اُن سے جسم کی رنگت نظر آتی ہے،یونہی بعض اِن میں ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پانی لگنے سے جب گیلے ہوجاتے ہیں تو جسم کی رنگت دکھائی دیتی ہے۔بہرحال کاٹن یا کوئی بھی کپڑا اگر اس قدر باریک ہو کہ اس سے عورت کے جسم کا کوئی حصہ چھلکتا ہوا نظر آتا ہویا دوپٹہ سے بالوں کی سیاہی نظر آتی ہو،یونہی مرد کے ناف سے لیکر گھٹنوں کے نیچے تک کے حصے کی رنگت جھلکتی ہو تو مرد و عورت دونوں کیلئے اس قدر باریک لباس پہننا اور اس میں نماز ادا کرنا ہر دو اُمور شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایسے کپڑے میں نماز ادا کرنے سے نماز شروع ہی نہیں ہوگی، کیونکہ نماز میں ستر عورت شرط ہے اورمرد کا ستر عورت ناف سے کر گھٹنے کے نیچے تک ہے۔جبکہ عورت کا تو تمام جسم ہی ستر عورت ہے یہاں تک کہ سر سے لٹکتے ہوئے بال بھی ، سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے، کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں۔

    صدر الشریعہ مو لانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ’’ ایسا دبیز کپڑاجس سے بدن کارنگ نہ چمکتا ہو مگر بدن سے بالکل چپکاہوا ہے کہ دیکھنے سے عضوکی ہیت معلوم ہوتی ہے ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی مگر اس عضو کی طرف دوسرے کو نگاہ کرنا ، جائز نہیں اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے ۔‘‘ (بھار شریعت ، حصہ 3 ، جلد 1 ، صفحہ 480 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

    فتاوی عالمگیری میں ہے:’’والثوب الرقیق الذی یصف ما تحتہ لا تجوز الصلاۃ فیہ کذا فی التبیین‘‘ ترجمہ: اتنا باریک کپڑا جس کے نیچے جسم ظاہر ہو اس میں نماز جائز نہیں ہے، اسی طرح تبیین میں ہے۔(فتاوی عالمگیری ، کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ ، جلد 1 ،صفحہ 65، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

    بہار شریعت میں ہے: ’’اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے لیے کافی نہیں ، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔ یوہیں اگر چادر میں سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔ بعض لوگ باریک ساڑیاں اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں نہیں ہوتیں اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے‘‘۔ (بہار شریعت،حصہ3،صفحہ480،مکتبۃ المدینہ)

    نماز کی شرائط میں سے ستر عورت بھی ہے،اور مرد کا ستر ناف سے گھٹنے کے نیچے تک ہے جبکہ عورت کا تمام جسم ہی ستر عورت ہے سوائے چند اعضا کے ۔چنانچہ تنوير الابصار مع در مختار میں ہے: ’’الرابع (ستر عورتہ وھی للرجل ماتحت سرتہ الی ماتحت رکبتہ... وللحرۃجمیع بدنھاحتی شعرھا النازل فی الاصح خلا الوجہ والکفین والقدمین ‘‘ ملتقطاً۔ ترجمہ : چوتھی شرط اس کے ستر کا چھپا ہوناہے۔اور مرد کا ستر عورت ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک ہے اور آزاد عورت کا تمام جسم ہی ستر عورت ہے حتی کہ سر سے لٹکتےہوئےبال بھی ، سِوائے چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے ۔( تنویر الابصار مع درمختار ، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی ستر العورۃ، جلد 2، صفحہ 96-93، دار المعرفۃ، بیروت)

    موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:” لكنه يصف حجمها حتى يري شكل العضو فإنه مكروه “ترجمہ:(ایساکپڑاجوسترعورت کاکام دے)لیکن عضوکے حجم کوبیان کرے یعنی عضوکی ہیئت معلوم ہوتی ہوتووہ کپڑاپہننامکروہ ہے۔ (الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ،لبس مایشف أویصف،ج6،ص136،دارالسلاسل،کویت)

    عورتوں کو جسم سے چپکے ہوئے لباس کی ممانعت کے متعلق امام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس کے کپڑوں کی طرف دیکھنےکاحکم نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :’’وهذا إذا لم تكن ثيابها بحيث تلصق في جسدها وتصفها حتى يستبين جسدها فإن كان كذلك فينبغي له أن يغض بصره عنها لما روي عن عمر رضي الله تعالى عنه أنه قال لا تلبسوا نساءكم الكتان ولا القباطي فإنها تصف ولا تشف‘‘ترجمہ: یہ جواز کا حکم اس صورت میں ہے جبکہ عورت کے کپڑے اس کے جسم سے چمٹے ہوئے اس کے جسم کی ہیئت کو واضح نہ کرتےہوں ، اگر ایسے کپڑے ہوں تو اس عورت کو دیکھنے سے بچنا ہو گا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا ، اپنی عورتوں کو کتان اور قبطی کپڑے نہ پہناؤ کیونکہ وہ تو جسم کی صفت بیان کرتے ہیں نہ کہ چھپاتے ہیں ۔(المبسوط للسرخسی ، کتاب الاستحسان ، ج10، ص162، مطبوعہ کوئٹہ )۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:06جمادی الاولی 1447ھ/29اکتوبر2025ھ