الفاظِ قسم سے منت ماننے کا کیا حکم ہوگا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 638

    سوال

    اگر کوئی شخص یوں کہیں کہ:میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ جب جب میں نے فلاں گناہ کیا تو مجھ پر 30 روزے لازم ہوں گے!

    1:۔کیا یہ نذر شمار ہوگی یا قسم؟

    2:۔اگر اس شخص نے یہ کہنے کے بعد وہ گناہ کر لیا ہو توکیا وہ واقعی وہ 30روزے لازم ہوں گے ؟یا پھر صرف قسم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا ؟

    3:۔کیا یہ حکم ساری زندگی کے لیے برقرار رہے گا یا ایک بارعمل کرنے سے ساقط ہو جائے گا ؟ سائل:مکرمی مفتی سید آصف حسین شاہ /عمر کوٹ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (1)(2):۔مذکورہ بالا جملہ نذر اور قسم دونوں پر مشتمل ہے،اور جو مسئلہ نذر اور قسم دونوں پر مشتمل ہو اور ناذر کا مقصود شرط کا حصول ہوتو ایسی صورت میں نذر ہی دینی ہو گی اوراگر مقصود شرط کو پورا کرنا نہ ہو بلکہ اس سے بچنا ہو جیسے کہ پوچھی گئی صورت میں ناذر کا مقصود گناہ کا ارادہ نہیں بلکہ گناہ سے بچنا ہے تو ایسی صورت میں نذر و قسم دونوں کا احتمال ہونے کی وجہ سے اسے اختیار ہے کہ قسم کا کفارہ دے یانذر دے یعنی تیس روزے رکھے۔دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے بری الذمہ ہو جائے گا ۔

    3:۔ہاں جی! یہ حکم ساری زندگی کے لیے کہ جب جب یہ گناہ کرے گا تب تب اس پر دونوں میں سے ایک چیز لازم ہو گی۔

    در مختار میں ہے :ثُمَّ إنَّ) الْمُعَلَّقَ فِيهِ تَفْصِيلٌ فَإِنْ (عَلَّقَهُ بِشَرْطٍ يُرِيدُهُ كَأَنْ قَدِمَ غَائِبِي) أَوْ شُفِيَ مَرِيضِي (يُوَفِّي) وُجُوبًا (إنْ وُجِدَ) الشَّرْطُ (وَ) إنْ عَلَّقَهُ (بِمَا لَمْ يُرِدْهُ كَإِنْ زَنَيْت بِفُلَانَةَ) مَثَلًا فَحَنِثَ (وَفَّى) بِنَذْرِهِ (أَوْ كَفَّرَ) لِيَمِينِهِ (عَلَى الْمَذْهَبِ) لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِظَاهِرِهِ يَمِينٌ بِمَعْنَاهُ فَيُخَيَّرُ ضَرُورَةً

    پھر معلق کی تفصیل یہ ہے:اگر کسی نے اپنی نذر کو ایسے شرط کے ساتھ معلق کیا جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے جیسے یہ کہے:جب میرا غائب (مسافر) واپس آجائے” یا “جب میرا بیمار صحت یاب ہوجائے” —تو جب وہ شرط واقع ہوجائے (پوری ہو جائے) تو اس پر نذر پوری کرنا واجب ہوگا۔اور اگر اس نے نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جس کا وہ ارادہ نہیں رکھتامثلاً یہ کہے: “اگر میں فلاں عورت سے زنا کروں تو مجھ پر یہ نذر لازم ہو” —پھر وہ (خدانخواستہ) ایسا کر بیٹھے،تو (اس صورت میں) یا تو وہ اپنی نذر پوری کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے،یہی مشہور مذہب ہےکیونکہ یہ نذر ظاہراً نذر ہے مگر معنی کے اعتبار سے قسم ہے،لہٰذا ضرورت کے تحت اسے اختیار (تخییر) حاصل ہوگا۔

    محقق سیدی ابن عابدین شامی علیہ الرحمہاس کے تحت فرماتے ہیں :اعْلَمْ أَنَّ الْمَذْكُورَ فِي كُتُبِ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ أَنَّ الْمُعَلَّقَ يَجِبُ الْوَفَاءُ بِهِ مُطْلَقًا: أَيْ سَوَاءٌ كَانَ الشَّرْطُ مِمَّا يُرَادُ كَوْنُهُ أَيْ يُطْلَبُ حُصُولُهُ كَإِنْ شَفَى اللَّهُ مَرِيضِي أَوْ لَا كَإِنْ كَلَّمْت زَيْدًا أَوْ دَخَلْت الدَّارَ فَكَذَا، وَهُوَ الْمُسَمَّى عِنْدَ الشَّافِعِيَّةِ نَذْرَ اللَّجَاجِ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ التَّفْصِيلُ الْمَذْكُورُ هُنَا وَأَنَّهُ رَجَعَ إلَيْهِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَبْعَةِ أَيَّامٍ وَفِي الْهِدَايَةِ أَنَّهُ قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ. اهـ. وَمَشَى عَلَيْهِ أَصْحَابُ الْمُتُونِ كَالْمُخْتَارِ وَالْمَجْمَعِ وَمُخْتَصَرِ النُّقَايَةِ وَالْمُلْتَقَى وَغَيْرِهَا، وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ، وَذَكَرَ فِي الْفَتْحِ أَنَّهُ الْمَرْوِيُّ فِي النَّوَادِرِ وَأَنَّهُ مُخْتَارُ الْمُحَقِّقِينَ وَقَدْ انْعَكَسَ الْأَمْرُ عَلَى صَاحِبِ الْبَحْرِ، فَظَنَّ أَنَّ هَذَا لَا أَصْلَ لَهُ فِي الرِّوَايَةِ، وَأَنَّ رِوَايَةَ النَّوَادِرِ أَنَّهُ مُخَيَّرٌ فِيهِمَا مُطْلَقًا وَأَنَّ فِي الْخُلَاصَةِ قَالَ: وَبِهِ يُفْتَى وَقَدْ عَلِمْت أَنَّ الْمَرْوِيَّ فِي النَّوَادِرِ هُوَ التَّفْصِيلُ الْمَذْكُورُ، وَذَكَرَ فِي النَّهْرِ أَنَّ الَّذِي فِي الْخُلَاصَةِ هُوَ التَّعْلِيقُ بِمَا لَا يُرَادُ كَوْنُهُ فَالْإِطْلَاقُ مَمْنُوعٌ. اهـ. وَالْحَاصِلُ: أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْمَسْأَلَةِ سِوَى قَوْلَيْنِ الْأَوَّلُ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَدَمُ التَّخْيِيرِ أَصْلًا وَالثَّانِي التَّفْصِيلُ الْمَذْكُورُ وَأَمَّا مَا تَوَهَّمَهُ فِي الْبَحْرِ مِنْ الْقَوْلِ الثَّالِثِ وَهُوَ التَّخْيِيرُ مُطْلَقًا وَأَنَّهُ الْمُفْتَى بِهِ فَلَا أَصْلَ لَهُ كَمَا أَوْضَحَهُ الْعَلَّامَةُ الشُّرُنْبُلَالِيُّ فِي رِسَالَتِهِ الْمُسَمَّاةِ تُحْفَةُ التَّحْرِيرِ فَافْهَمْ (قَوْلُهُ بِشَرْطٍ يُرِيدُهُ إلَخْ) اُنْظُرْ لَوْ كَانَ فَاسِقًا يُرِيدُ شَرْطًا هُوَ مَعْصِيَةٌ فَعَلَّقْ عَلَيْهِ كَمَا فِي قَوْلِ الشَّاعِرِ:

    عَلَيَّ إذَا مَا زُرْت لَيْلَى بِخُفْيَةٍ ... زِيَارَةُ بَيْتِ اللَّهِ رَجْلَانَ حَافِيًا فَهَلْ يُقَالُ إذَا بَاشَرَ الشَّرْطَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْمُعَلَّقُ أَمْ لَا؟ وَيَظْهَرُ لِي الْوُجُوبُ لِأَنَّ الْمَنْذُورَ طَاعَةٌ وَقَدْ عَلَّقَ وُجُوبَهَا عَلَى شَرْطٍ فَإِذَا حَصَلَ الشَّرْطُ لَزِمَتْهُ، وَإِنْ كَانَ الشَّرْطُ مَعْصِيَةً يَحْرُمُ فِعْلُهَا لِأَنَّ هَذِهِ الطَّاعَةَ غَيْرُ حَامِلَةٍ عَلَى مُبَاشَرَةِ الْمَعْصِيَةِ بَلْ بِالْعَكْسِ، وَتَعْرِيفُ النَّذْرِ صَادِقٌ عَلَيْهِ وَلِذَا صَحَّ النَّذْرُ فِي قَوْلِهِ: إنْ زَنَيْت بِفُلَانَةَ لَكِنَّهُ يَتَخَيَّرُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ لِأَنَّهُ إذَا كَانَ لَا يُرِيدُهُ يَصِيرُ فِيهِ مَعْنَى الْيَمِينِ فَيَتَخَيَّرُ كَمَا يَأْتِي تَقْرِيرُهُ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ يُرِيدُهُ لِفَوَاتِ مَعْنَى الْيَمِينِ فَيَنْبَغِي الْجَزْمُ بِلُزُومِ الْمَنْذُورِ فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَرَهُ صَرِيحًا فَافْهَمْ (قَوْلُهُ لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِظَاهِرِهِ إلَخْ) لِأَنَّهُ قَصَدَ بِهِ الْمَنْعَ عَنْ إيجَادِ الشَّرْطِ فَيَمِيلُ إلَى أَيِّ الْجِهَتَيْنِ شَاءَ بِخِلَافِ مَا إذَا عَلَّقَ بِشَرْطٍ يُرِيدُ ثُبُوتَهُ لِأَنَّ مَعْنَى الْيَمِينِ وَهُوَ قَصْدُ الْمَنْعِ غَيْرُ مَوْجُودٍ فِيهِ لِأَنَّ قَصْدَهُ إظْهَارُ الرَّغْبَةِ فِيمَا جُعِلَ شَرْطًا دُرَرٌ (قَوْلُهُ فَيُخَيَّرُ ضَرُورَةً) جَوَابٌ عَنْ قَوْلِ صَدْرِ الشَّرِيعَةِ. أَقُولُ: إنْ كَانَ الشَّرْطُ حَرَامًا كَإِنْ زَنَيْت يَنْبَغِي أَنْ لَا يَتَخَيَّرَ لِأَنَّ التَّخْيِيرَ تَخْفِيفٌ وَالْحَرَامُ لَا يُوجِبُ التَّخْفِيفَ قَالَ فِي الدُّرَرِ: أَقُولُ لَيْسَ الْمُوجِبُ لِلتَّخْفِيفِ هُوَ الْحَرَامُ بَلْ وُجُودُ دَلِيلِ التَّخْفِيفِ لِأَنَّ اللَّفْظَ لَمَّا كَانَ نَذْرًا مِنْ وَجْهٍ وَيَمِينًا مِنْ وَجْهٍ لَزِمَ أَنْ يُعْمَلَ بِمُقْتَضَى الْوَجْهَيْنِ وَلَمْ يَجُزْ إهْدَارُ أَحَدِهِمَا فَلَزِمَ التَّخْيِيرُ الْمُوجِبُ لِلتَّخْفِيفِ بِالضَّرُورَةِ فَتَدَبَّرْ. اهـ.ترجمہ:جان لو کہ ظاہر الروایہ کی کتب (یعنی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول معتبر روایات) میں یہ مذکور ہے کہ نذرِ معلَّق کو ہر حال میں پورا کرنا واجب ہے یعنی خواہ وہ شرط ایسی ہو جس کا وقوع مقصود اور مطلوب ہو،جیسے یہ کہے: “اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دی”،یا وہ شرط ایسی ہو جس کا وقوع مقصود نہ ہو،جیسے یہ کہے: “اگر میں زید سے بات کروں” یا “اگر میں گھر میں داخل ہوں”۔ان سب صورتوں میں (نذر واجب الادا ہے)،اور یہ وہی چیز ہے جسے شافعیہ کے نزدیک نذر اللجاج کہا جاتا ہے۔البتہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے تفصیلی قول (یہاں مذکور تفریق) بھی مروی ہے،اور کہا گیا کہ امام صاحبؒ نے وفات سے سات دن قبل اسی تفصیل والے قول کی طرف رجوع فرمایا۔جبکہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ یہ قول امام محمدؒ کا ہے،اور یہی صحیح ہے۔اسی قول کو متون کے مصنفین مثلاً المختار، المجمع، مختصر النقایہ، ملتقی وغیرہ نے اختیار کیا ہے،اور یہی شافعی مذہب بھی ہے۔کتاب الفتح میں ذکر ہے کہ یہی تفصیل النوادر میں مروی ہے،اور یہی محققین کا منتخب قول ہے۔لیکن صاحب البحر (ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ ) پر معاملہ الٹ گیا،انہوں نے سمجھا کہ اس تفصیل کی کوئی اصل روایت میں نہیں،اور یہ کہ نوادر کی روایت یہ ہے کہ “ہر دو صورت میں مطلق تخییر (اختیار) ہے”،اور خلاصہ میں آیا ہے کہ “اسی پر فتویٰ ہے۔

    لیکن تم جان چکے کہ نوادر میں مروی دراصل یہی تفصیل ہے،اور النہر الفائق میں ذکر کیا کہ خلاصہ میں جو مطلق کہا گیا ہےاس سے مراد وہ ہے جو ایسی شرط سے معلق ہو جس کا ارادہ نہیں،لہٰذا مطلق (بلا تفصیل) بات درست نہیں۔خلاصہ یہ ہے:اس مسئلے میں صرف دو ہی اقوال ہیں:

    قولِ ظاہر الروایہ: تخییر بالکل نہیں نذر ہر حال میں لازم۔

    قولِ تفصیل: اگر شرط مراد ہو تو نذر واجب، اگر مراد نہ ہو تو تخییر (اختیار)۔

    جہاں تک صاحب بحر نے جو تیسرا قول (یعنی مطلق تخییر اور اسی پر فتویٰ) سمجھا،تو اس کی کوئی اصل نہیں،جیسا کہ علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی رسالہ تحفۃ التحریر میں وضاحت فرمائی۔

    اب عبارت “بشرط یریدہ” کے متعلق:فرض کرو کوئی فاسق شخص ایسی شرط چاہتا ہے جو گناہ ہو،اور اسی پر نذر کو معلق کرتا ہے،

    جیسے شاعر نے کہا:(عَلَيَّ إِذَا مَا زُرْتُ لَيْلَى بِخُفْيَةٍ ... زِيَارَةُ بَيْتِ اللَّهِ رَجْلَانِ حَافِيًا )میرے اوپر لازم ہے کہ اگر میں چھپ کر لیلیٰ کی زیارت کروں تو بیت اللہ کا ننگے پاؤں پیدل حج کروں۔

    اب سوال یہ ہے:جب وہ (گناہ) شرط واقع ہو جائے،تو کیا اس پر نذر لازم ہوگی یا نہیں؟میرے نزدیک وجوب ظاہر ہے،کیونکہ نذر طاعت (عبادت) پر مشتمل ہے،اور اس نے اس کی وجوب کو ایک شرط کے ساتھ معلق کیا ہے،تو جب وہ شرط واقع ہو جائے تو نذر لازم ہو جاتی ہے،اگرچہ وہ شرط گناہ ہے،کیونکہ اس نذر کا مقصد گناہ پر ابھارنا نہیں بلکہ اس سے روکنا ہے۔اور نذر کی تعریف بھی اس پر صادق آتی ہے،اسی لیے فقہاء نے کہا کہ اگر کوئی کہے:’’اگر میں فلاں عورت سے زنا کروں تو مجھ پر نذر ہے‘‘تو نذر صحیح ہے،مگر اس میں اسے اختیار دیا جائے گا کہ یا تو نذر پوری کرےیا قسم کا کفارہ ادا کرے،کیونکہ جب وہ اس شرط کا ارادہ نہیں رکھتا تو معنی کے لحاظ سے وہ قسم بن جاتی ہے،لہٰذا اختیار دیا جائے گا،برخلاف اس کے جب وہ شرط کا ارادہ رکھتا ہو،تو وہاں قسم کا معنی نہیں پایا جاتا،لہٰذا وہاں نذر یقیناً لازم ہے،اگرچہ میں نے اس کو صریح الفاظ میں نہیں دیکھا،لیکن مطلب یہی ہے۔

    قولہ “لِأَنَّهُ نَذْرٌ بِظَاهِرِهِ :کیونکہ ایسی نذر کا مقصد خود کو کسی فعل (شرط) سے روکنا ہوتا ہے،اس لیے وہ دو پہلو رکھتی ہے چاہے تو وہ نذر کے پہلو سے لے یا قسم کے پہلو سے جبکہ اگر وہ ایسی شرط سے معلق ہو جس کا وقوع وہ چاہتا ہے،تو وہاں “منع” (روکنے) کا معنی موجود نہیں،بلکہ رغبت و خواہش کا معنی ہے،لہٰذا وہاں قسم کا معنی نہیں پایا جاتا۔

    قولہ “فَيُخَيَّرُ ضَرُورَةً:یہ صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ:“اگر شرط حرام ہو، جیسے زنا،تو تخییر نہیں ہونی چاہیے،کیونکہ تخییر تو تخفیف (رخصت) ہے،اور حرام کام تخفیف کا سبب نہیں بن سکتا۔اس پر الدرر میں جواب دیا گیا کہ : تخفیف کا سبب خود حرام فعل نہیں،بلکہ تخفیف کی دلیل کا موجود ہونا ہے،کیونکہ جب لفظ کے اندر ایک پہلو سے نذر اور دوسرے پہلو سے قسم دونوں پائے گئے،تو دونوں پہلوؤں کے مقتضے پر عمل لازم ہے،اور کسی ایک کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،لہٰذا تخییر ضرورتاً لازم ہے۔سو غور کرو!(رد المحتار ر علی الدر المختار ،کتاب الایمان ،جلد 05،صفحہ 521تا522،امدادیہ ملتان)

    مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمھارے گھرآؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمھارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یاکفارہ دے۔ منّت میں ایسی شرط ذکر کی جس کا کرنا گناہ ہے اور وہ شخص بدکار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوس کا قصد اوس گناہ کے کرنے کا ہے اور پھر اوس گناہ کو کرلیا تومنّت کو پورا کرنا ضرور ہے اور وہ شخص نیک بخت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منّت اوس گناہ سے بچنے کے لیے ہے مگر وہ گناہ اوس سے ہوگیا تو اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے۔(بہار شریعت حصہ 09، صفحہ 314،مکتبۃ المدینہ کراچی)

    فتاوی ہندیہ میں ہے:" ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال ترجمہ:شرط کے الفاظ یہ ہیں: إن، وإذا، وإذما، وكل، وكلما، ومتى، ومتى ما۔ان الفاظ میں جب شرط (یعنی مشروط فعل) پائی جائے تو قسم ختم ہوجاتی ہے اور اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ الفاظ عموم اور تکرار کا تقاضا رکھتے ہیں۔ پس جب وہ فعل ایک بار واقع ہوجائے تو شرط پوری ہوگئی اور قسم ٹوٹ گئی، لہٰذا اس کے بعد دوبارہ حنث (یعنی قسم ٹوٹنا) واقع نہیں ہوتا، سوائے لفظ كلما کے۔کیونکہ كلما عمومِ افعال کو لازم کرتی ہے (یعنی جتنی بار فعل دہرایا جائے اتنی بار شرط بھی دہرائی جائے گی)۔(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الأول في ألفاظ الشرط،جلد01،صفحہ 415: دار الفكر)۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 21 جمادی الثانی 1447ھ/13نومبر2025ھ