اگر مقررہ تاریخ پر بائع کو ثمن نہ ملے آنے جانے کا اخراجات مشتری پر ہونگے
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 640

    سوال

    میں نے اپنا مال عرفان کو 30 ہزار کا بیچا اورطے یہ پایا کہ روزانہ کی بنیاد پر عرفان 500 روپے دے گا اور جس دن عرفان پانچ سو روپے نہیں دے گا تو اس دن آنے جانے کے جو اخراجات ہوئے اس کی مد میں پچاس روپے عرفان دے گا اور یہ معاملہ آپسی باہمی رضامندی طے ہو گیا آپ سے درخواست ہے کہ یہ پچاس روپے میرے لیے لینا درست ہے ؟سائل:اسماعیل

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں عقد میں اس طرح کی شرط لگانا جائز نہیں اور اس شرط کی بنیاد پر قسط میں تاخیر ہونے کے باعث پچاس روپے لینا آپ کے لیے جائز نہیں ۔

    وضاحت:

    1:۔مذکورہ معاملے میں عقد 30000 ہزار پر وارد ہوا ہے یعنی مبیع کے مقابل جو ثمن مقرر ہوا وہ تیس ہزار روپےہے۔اس عقد میں یہ شرط لگانا کہ جس دن مشتری(عرفان) قسط نہیں دے گا اس دن پچاس روپے دے گا یہ فاسد شرط ہے ،اور بیع میں شرط ِ فاسدلگانے سے بیع فاسد ہو جاتی ہے ۔مذکورہ صورت میں شرط فاسد اس لیے کہ اس میں صرف بائع کانفع ہے مشتری کا نہیں ۔

    شرط فاسد کی تعریف:

    علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَلَا يُلَائِمُهُ وَفِيهِ نَفْعٌ لِأَحَدِهِمَا وَلَمْ يَجْرِ الْعُرْفُ بِهِ وَ) لَمْ يَرِدْ الشَّرْعُ بِجَوَازِهِ ترجمہ:(شرط فاسد سے مراد وہ شرط ہے)جس کا عقد تقاضا کرے نہ عقد کے مناسب ہو ،اور اس میں فریقین میں سے ایک کا نفع ہو اور اس پر عرف نہ جاری ہو،اور نہ ہی اس کے جواز میں شریعت( کی کوئی نص) وارد ہوئی ہو۔ (الدر المختار جلد 5 صفحہ 5دار الفكربيروت)

    2:۔شرط فاسد میں کہیں نا کہیں ربا یا شبہِ ربا موجود ہوتا ہے اور یہاں پر بھی ایسا ہی ہے کہ یہ جو پچاس روپے ہیں یہ کسی عوض کے مقابل نہیں بلکہ بلا عوض ہیں کیوں کہ مبیع کے مقابل صرف 30 ہزار روپےہیں اورباقی اوپر کے پچاس روپے، بلا عوض ہیں اورسود نام ہی زیادتی بلا عوض کا ہے۔ شرط فاسد اس لیے بھی جائز نہیں کہ یہ عاقدین کے مابین نزاع و فساد اور کسی ایک فریق کےضرر کا باعث بنتی ہے ۔

    علامہ کاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:

    وزیادۃ منفعۃ مشروطۃ فی عقد البیع تکون ربا والربا حرام والبیع الذی فیہ ربا فاسد۔ترجمہ:وہ اضافی نفع جو بیع میں مشروط ہو وہ سود ہے اور سود حرام ہے ۔ اور جس بیع میں سود ہو وہ فاسد ہے۔(بدائع الصنائع ، کتاب البیوع ، فصل فی شرائظ الصحۃ، جلد5،صفحہ175، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

    درر الحکام میں ہے:

    الْأَوَّلُ: مَا لَمْ يَكُنْ مِنْ مُقْتَضَيَاتِ عَقْدِ الْبَيْعِ، أَوْ الْمُتَعَارَفُ أَوْ الْمَشْرُوعُ، أَوْ الْمُؤَيِّدُ لِمُقْتَضَى الْعَقْدِ، أَوْ مَا فِيهِ نَفْعٌ أَوْ فَائِدَةٌ لِأَحَدِ الْعَاقِدَيْنِ فَالْبَيْعُ عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الشُّرُوطِ فَاسِدٌ قُهُسْتَانِيٌّ، رَدُّ الْمِحْتَارُ "؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ الْبَيْعِ إنَّمَا هُوَ التَّمْلِيكُ وَالتَّمَلُّكُ خَاصَّةً أَيْ أَنْ يَكُونَ الْمُشْتَرِي مَالِكًا لِلْمَبِيعِ وَالْبَائِعُ مَالِكًا لِلثَّمَنِ بِلَا مَانِعٍ وَلَا مُزَاحِمٍ. فَإِذَا وَقَعَ فِي الْبَيْعِ شَرْطٌ نَافِعٌ لِأَحَدِ الْعَاقِدَيْنِ كَانَ أَحَدُ الْعَاقِدَيْنِ طَالِبًا لِهَذَا الشَّرْطِ وَالْآخَرُ هَارِبًا مِنْهُ وَأَدَّى ذَلِكَ إلَى النِّزَاعِ بَيْنَهُمَا فَلَا يَكُونُ الْعَقْدُ تَامًّا۔ترجمہ: پہلی قسم(شرط فاسد) یہ ہے کہ وہ شرط نہ تو عقدِ بیع کے تقاضوں میں سے ہو، اور نہ عرف میں معروف ہو، نہ شریعت میں مشروع ہو، نہ عقد کے مقتضا کی تائید کرنے والی ہو، بلکہ ایسی ہو جس میں فریقین میں سے کسی ایک کے لیے نفع یا فائدہ پایا جائے۔ تو ایسی شرطوں پر مبنی بیع فاسد ہے (قہستانی، رد المحتار)؛کیونکہ بیع کا مقصود دراصل صرف ملکیت دینا اور لینا ہے، یعنی یہ کہ خریدار مبیع کا مالک بن جائے اور بیچنے والا ثمن (قیمت) کا مالک بن جائے، بغیر کسی رکاوٹ یا مزاحمت کے۔پس جب بیع میں ایسی شرط شامل ہو جو فریقین میں سے کسی ایک کے لیے نفع مند ہو، تو ان میں سے ایک فریق اس شرط کو حاصل کرنے کا خواہش مند ہوگا اور دوسرا اس سے بچنے والا، اور اس سے دونوں کے درمیان نزاع پیدا ہوگی، لہٰذا ایسا عقد تام نہیں ہوتا۔(درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام ،مادہ 179،جلد 01،صفحہ 161)

    3:۔یہ صورت تعزیر بالمال کو بھی مستلزم ہے کیوں کہ قسط وقت پر نہ دینے کی صورت میں پچاس روپے لازمی دینے ہوں گے جو کہ ایک طرح سے مالی جرمانہ کی صورت ہے ۔

    البحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام، ثم نسخ ‘‘ترجمہ:مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔(بحرالرائق ،جلد5،صفحہ44،مطبوعہ دارالکتاب الاسلامی ، بیروت)

    رد المحتارمیں ہے:’’التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ و الحاصل ان المذھب عدم التعزیر باخذ المال‘‘ترجمہ: مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا اور حاصل یہ ہے کہ مذہب کی رو سے مالی جرمانہ نہیں لیا جا سکتا۔(ردالمحتار،جلد4، صفحہ 61،مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’تعزیر بالمال منسوخ ہےاور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔(فتاوی رضویہ،جلد5،صفحہ111،مطبوعہ رضافاونڈیشن ، لاھور)

    اشکال :

    یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جو پچاس روپے لیے جا رہے ہیں یہ تو آنے جانے کے اخراجات کے مقابل ہیں تو یہ جائز ہونے چاہییں!!

    جواب :

    ثمن کی وصول یابی کے لیے جو بھی اخراجات آنے جانے میں آتے ہیں وہ بائع کے ذمہ ہوتے ہیں جیسا کہ مانحن فیہ مسئلہ میں بھی ایسا ہی ہے کہ بائع ہی ثمن کی وصو یابی کے لیے مشتری کے پاس جا رہا ہے اور عرف بھی یہی ہے لہذا اگر آنے جانے کے پیسے مقصود ہوتے ہوتے تو پھر بائع ہر چکر پر پچاس لینے کا مجاز ہوتا جب کہ ایسا نہیں!! سو معلوم ہوا کہ یہ جو اضافی پچاس روپے ہیں یہ جرمانہ کے طور پر ہیں یہ بات ہر ذی شعور مذکورہ عقد سے سمجھ سکتا ہے اور عقود میں معانی کا اعتبار ہوتا ہے مبانی (الفاظ ) کا نہیں،مزید یہ کہ اپنے حق کی وصولیابی کیلئےجو اخراجات ہوں وہ صاحب حق ہی کے ذمہ ہوتے ہیں۔

    مبسوط سرخسی میں ہے:”مقابلة الأ جل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ليؤجله لم يجز“یعنی : مدت کے مقابلے میں دراہم لینا سود ہے ،کیا تو نہیں دیکھتا کہ جس قرض کی ادائیگی کی مدت پوری ہو چکی ہو ، اس میں اگر مدیون نے مال میں زیادتی کردی تاکہ دائن اسے ادائیگی کی مزید مہلت دے دے تویہ جائز نہیں ہے۔(المبسوط،جلد13،صفحہ126 ،مطبوعہ بیروت)

    النتف فی الفتاوی میں ہے:

    ان يبيع رجلا متاعا بالنسيئة فلما حل الاجل طالبه رب الدين فقال المديون زدني في الاجل ازدك في الدراهم ففعل فان ذلك ربا۔ترجمہ : کسی شخص کو ادھار سامان بیچا ، جب ادھار کی مدت پوری ہوگئی اور دائن نے مدیون سے دَین کا مطالبہ کیا تو مدیون نے کہا کہ مجھے مزید مہلت دے دو میں دراہم کی تعداد بڑھا دوں گا اور دائن نے اس کو قبول کر لیا تو یہ زیادتی سود ہے۔(النتف فی الفتاوی ،صفحہ 485،مؤسسۃ الرسالہ ، بیروت)

    حل :

    1:۔اگر ان پچاس روپوں والی شرط کو نہ عقد میں ذکر کیا جائے ، نہ باہمی طور پر مشروط سمجھائے بلکہ عرفان آپ کے مطالبہ کے بغیر اپنی خوشی سے دے یوں کہ اگر وہ نہ دے تو آپ کوئی چارہ جوئی نہ کریں مثلاً نہ بحث و مباحثہ کریں نہ مطالبہ کریں تو پھر آپ کے لیے لینا جائز ہے ۔

    2:۔اگر عقد کے اندر یہ شرط لگا دی جائے کہ اگر عرفان قسط دینے میں ٹال مٹول سے کام لے تو تمام دین یکمشت ہو جائے گا پھر اقساط کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ سارا دین فی الفور دینا ہو گا ۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:29ربیع الثانی 1447ھ/24اکتوبر2025ھ