walid ke karobar aur warasat ka sharai hukum
سوال
میرے والد صاحب نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جس میں والد صاحب کی محنت سے خوب ترقی ہوئی اس کاروبار میں بھائی محمد صالحین نے بہت محنت کی ، پھر والد صاحب کے اس کاروبار کو ہم بھائیوں نے مزید بڑھایا والد صاحب کی زندگی میں ہی بھائی صالحین نے اپنا کاروبار اور گھر علیحدہ کرلیا ۔ پھر والد صاحب کے اس کاروبار کو ہم بھائیوں نے سنبھالا اور پگڑی کی دوکان کو سلیم بھائی نئ اسی کاروبار کے ذریعے اونرشب کرایا۔ پھر والد صاحب نے مجھے (محمدآصف)کو طارق روڈ پر کپڑے کاکاروبار کرایا۔ والد صاحب کے کاروبار کو مزید بڑھانے کے لیے ہم بھائیوں نے اپنے سارے کاروبار بیچ کر کلفٹن پر ایک جگہ خرید کر کاروبار شروع کیا ۔ کچھ عرصہ بعد سلیم بھائی نے اس جگہ کو منافع کے ساتھ بیچ کر اس پیسے میں مزید رقم لگا کر بہادر آباد میں ایک بڑی جگہ خرید کر اس پر فلیٹ تعمیر کرواکر نیچے ہوٹل بنواکر کاروبار شروع کیا اس دوران بڑے بھائی محمد صالحین کا انتقال ہوگیا (2012) میں ۔پھر ڈیڑھ سال بعد محمد سلیم بھائی نے ہوٹل بند کروادیا اور دو سال بعد اسکو کرایہ پر دے دیا جو پانچ سال تک کرایہ پر چلتا رہا ۔پھر اب (2016) میں والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔اور انتقال کے بعد سلیم بھائی نے والد صاحب کی یہ جگہ فروخت کردی ہے جسکی قیمت 3کروڑ 60 لاکھ ہے ۔اس کے علاوہ والد صاحب کے دو عدد مکان ہیں ؟ یہ سب کی سب وراثت کیسے تقسیم ہوگی ، ہم حصہ دار 10 بہنیں اور4 بھائی ہیں ، بھائیوں میں سے 3 حیات ہیں اور ایک بھائی محمد صا لحین کا انتقال والد صاحب کی وفات سے پہلے ہی ہوگیا تھا (2012) میں جبکہ والد صاحب کا انتقال (2016) میں ہوا۔والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔انکی وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
سائل: محمد آصف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
محمد صالحین جن کا انتقال انکے والد کی وفات سے پہلے ہوگیا انکو والد کی وراثت سے کچھ نہیں ملے گا،
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424 میں ہےويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367 میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) ش: أي وقت الحكم بالموت:ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔
لیکن اگر آپ چاہیں تو اپنے بھائی کے بچوں کو وراثت سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ آپ کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ،ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین : ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
بقیہ ورثاءمیں وراثت یعنی 3کروڑ 60لاکھ کی رقم اور دونوں مکانوں کی قیمت اس طرح تقسیم ہوگی کہ کل وراثت کے 16 حصے کیے جائیں گے جس میں سے ہر بھائی کو دودو حصے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا،
قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین :ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی