غیر مدخولہ کےمہرکا حکم
    تاریخ: 30 جنوری، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 705

    سوال

    ایک لڑکا جس کا تعلق سنی مسلک سے ہے اور لڑکی اہل تشیع سے ہے۔ دونوں کا نکاح سنی طریقہ سے ہوا مگر رخصتی نہیں ہوئی ۔ نہ آپس میں کسی طرح کے کوئی تعلقات قائم کیے ۔ پھر ایک ساتھ بیک وقت تین طلاق دے دی۔ میرا سوال یہ ہے کہ طلاق تو واقع ہوگئی ہے اب مہر کے کیا معاملات ہونگے۔ دینا ہوگا یا نہیں ؟

    سائل: اب ج د


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں اگر صرف نکاح ہوا ، نہ وطی ہوئی نہ خلوت صحیحہ یعنی بغیر کسی مانع کے تنہائی یکجائی نہ کی ۔ اور طلاق دے دی تو اگر نکاح کے وقت کوئی حق مہر مقرر کیا گیا تھا تو جو مقرر کیا تھا اسکا نصف دینا لازم ہےاور مقرر نہیں کیا گیا تو اس صورت میں متعہ یعنی ایک جوڑا دینا ہوگا،جس میں قمیص ،دوپٹہ اور بڑی چادر شامل ہیں ۔ تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:(وَ) يَجِبُ (نِصْفُهُ بِطَلَاقٍ قَبْلَ وَطْءٍ أَوْ خَلْوَةٍ)ترجمہ: وطی اور خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں نصف حق مہر واجب ہوگا۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب النکاح جلد3 ص 103الشاملہ )

    اسی میں ہے:(وَ) تَجِبُ (مُتْعَةٌ لِمُفَوِّضَةٍ) وَهِيَ مَنْ زُوِّجَتْ بِلَا مَهْرٍ (طَلُقَتْ قَبْلَ الْوَطْءِ، وَهِيَ دِرْعٌ وَخِمَارٌ وَمِلْحَفَةٌ)ترجمہ: اور مفوضہ یعنی جس کا بغیر مہر کے نکاح ہواکے لیے متعہ واجب ہے ۔جبکہ وطی سے قبل طلاق دی جائے اور وہ (متعہ) قمیص، دوپٹہ، اور چادر شامل ہے۔(تنویرالابصار مع الدر المختار،کتاب النکاح جلد3 ص110 الشاملہ )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:14 ربیع الثانی 1440 ھ/22 دسمبر 2018 ء