سوال
ہم کنسٹرکشن کا کام کررہے ہیں۔اس میں ہم پانچ پارٹنرز ہیں اور ہم پانچ پارٹنرز پانچ پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔ایک پروجیکٹ مکمل ہوچکا ہے۔باقی دو پروجیکٹ کے فلیٹ جو چار سو کے قریب ہیں۔وہ بھی فروخت کردیے ہیں۔ان پروجیکٹ کے فروخت کرنے پر جو رقم ملتی ہے،وہ میرے پاس ہوتی ہےاور چار پارٹنر مجھ پر بھروسہ کرتےہوئے وہ رقم میرے پاس رکھواتے ہیں جو کہ کافی بڑی رقم ہوتی ہے ۔اور کیش کے فلو کے بڑھنے کے سبب میں نے ان پیسوں سے ڈالرز ،فلیٹ اور دیگر چیزیں خریدی جس کا میرے پارٹنرز کو علم نہیں ہےاور اس سے میں نے کافی منافع کمایا اور اس منافع سے میں نے اپنے پارٹنرز کو کچھ نہیں دیا اور اس منافع سے مسجدیں اور مدرسے بنوائےاور غریبوں کی مدد بھی کی اور کرتابھی ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ منافع پر جو منافع میں نے کمایا کیا میرے لیے یہ جائز ہے ؟اور کیا یہ منافع تمام پارٹنرز میں تقسیم کرنا ہوگا۔اور جو میں نے مساجد اور مدارس میں خرچ کیا مجھے اس کا ثواب ملے گا؟ سائل:عمران اقبال:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں چونکہ یہ رقم تمام شرکاءکی ملک تھی۔لہذا آپ نے جو بھی نفع کمایا وہ تمام شرکاء میں ان کے حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگا اور جو آپ نے اس نفع سے صدقات و خیرات کیے وہ سب آپ کی طرف سے ادا ہوگئے ۔ اس کاثواب آپ کو ملے گا لیکن جتنی مقدار دیگر شرکاء کا حصہ آپ نے صدقہ کیا وہ انہیں لوٹانا ضروری ہے۔نیز اگر وہ اسے برقرار رکھتے ہیں تو پھر جتنا صدقہ انکے حصص کا تھا اس کے ثواب کے حقدار وہی ہونگے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت العقد میں شریک جب دوسرے شرکاء کے حصے میں تصرف کرتا ہے تو اس کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے ۔ اوردیگر شرکاء مؤکل ہوتےہیں اوروکیل کا تصرف مؤکل کا تصور ہوتاہے۔پس جو کچھ اس تصرف سےشریک نفع حاصل کرےگاتمام شرکاء اس میں شریک ہونگے۔اور صدقہ خیرات کرنا عقد تبرع ہے اور مال ِشرکت سے عقد تبرع کا حکم یہ ہے کہ جو شریک یہ عقد کرے گا وہ اسی کی طرف سے ہوگادیگر شرکاء کی طرف سے نہیں ہوگا۔لیکن اگر شرکاء اس کی اجازت دے دیں تو پھر ان کی طرف سے بھی ہوگا۔ پس صورتِ مستفسرہ میں چونکہ یہ نفع تمام شرکاء کے مابین مشترک تھا ۔لہذا اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی تمام شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:أن كل صور عقود الشركة تتضمن الوكالة وذلك ليكون ما يستفاد بالتصرف مشتركا بينهما، فيتحقق حكم عقد الشركة المطلوب منه وهو الاشتراك في الربح إذ لو لم يكن كل منهما وكيلا عن صاحبه في النصف وأصيلا في الآخر لا يكون المستفاد مشتركا لاختصاص المشتري بالمشترى۔ترجمہ: شرکت عقود کی تمام صورتیں وکالت کومتضمن ہوتی ہے۔اور یہ اس لیےہے تاکہ تصرف کرنے سے جو بھی فائدہ ہو وہ شریکین کے درمیاں مشترک ہو۔ پس متحقق ہوجائے گا عقد شرکت کا حکم جو کہ اس سے مطلوب ہے اور وہ نفع میں شرکت ہے۔اس لیے جب ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کا نصف مال میں وکیل اور اور دوسرے نصف میں اصیل نہیں ہوگاتو خریدی ہوئی چیز خاص خریدار کی ہونے کی وجہ سے حاصل ہونے والا فائدہ مشترک نہ ہوگا۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:4،ص:305،دارالفکر بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے: تَصَرُّفَ الْوَكِيلِ كَتَصَرُّفِ الْمُوَكِّلِ،ترجمہ:وکیل کا تصرف موکل کے تصرف کی طرح ہے۔(بدائع الصنائع،جلد: 2،ص:231،دارالکتب العلمیۃ)
المبسوط للسرخسی میں ہے: إنما قام مقام صاحبه في التجارة في مال الشركة دون التبرع. ألا ترى أنه لا يملك الهبة ولا الصدقة في نصيب صاحبه ترجمہ:شریک مال تجارت میں اپنے ساتھی کا کاروبار کرنے میں قائم مقام ہے نہ کہ عقدِتبرع میں،کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ اپنے ساتھی کے حصے میں سے ہبہ اور صدقہ کرنے کا مالک نہیں ہوتا۔ (المبسوط للسرخسی،جلد:11،ص:180،دارالمعرفۃ بیروت)
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے: لَيْسَ لأَِحَدِ الشَّرِيكَيْنِ إِتْلاَفُ مَال الشَّرِكَةِ أَوِ التَّبَرُّعُ بِهِ، فَإِذَا فَعَل، فَلاَ جَوَازَ لِفِعْلِهِ عَلَى شَرِيكِهِ إِلاَّ بِإِذْنٍ صَرِيحٍ، وَإِنَّمَا يَنْفُذُ فِي حِصَّةِ نَفْسِهِ لاَ غَيْرُ ملخصاً:ترجمہ:شریکین میں سے کسی ایک کے لیے مالِ شرکت کو ضائع کرنایا اس سےعقدِ تبرع کرنا جائز نہیں ،پس جب وہ ایسا کرے تو اپنے شریک کی صریح اجازت کے بغیر اس کا فعل شریک کے لیےجائزنہیں ہوگا ۔اور یہ صرف اسی کے حصے میں نافذ ہوگا نہ کہ غیر کےحصہ میں ۔(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ،جلد:26،ص:67،مطابع دار الصفوۃ مصر)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 صفر المظفر1443 ھ/22ستمبر 2021 ء