بیع استصناع میں خیار کا حکم
    تاریخ: 10 نومبر، 2025
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 75

    سوال

    میں نے ایک بلڈر سے ایک پورشن گراؤنڈ فلور اس شرط پر خریدا کہ وہ ground+2 بنائے گا،اور علاقے میں اسی کی قانونی اجازت ہے۔قیمت بھی اسی اعتبار سے طے ہوئی۔اور اس کو ٪75 رقم بھی ادا کردی، جو کہ اس نے پلاٹ ہی کی خریداری میں میرے ذریعے ادا کی۔ اور مجھے یقین دلایا کہ وہ مجھ سے بہت کم نفع لے رہا ہے۔کیونکہ میں اسکی مدد بھی کر رہا ہوں بذریعہ %75پیشگی رقم ۔ چند ماہ بعد کچھ اور رقم بھی مجھ سے لی گئی۔جب ground+2 بن گیا تو اس نے اداروں کو رشوت دیکر اور لالچ میں آکر 3rd floorبنا دیا۔ جو کہ بنانا سراسر غیر قانونی ہے۔ اور میرے ساتھ کی گئی زبان کے خلاف بھی۔

    اسکے بعد اس نے اپنے1st,2nd اور غیر قانونی 3rd floor کی قیمت بھی %20گرادی ۔ تاکہ جلد از جلد بک جائے، مجھے بیچتے اور پیمنٹ لیتے وقت میرے پورشن کی قیمت1st, 2nd کی قیمت کے مقابلہ میں مارکیٹ کے رائج اصول کی مطابق٪ 20کم رکھی ۔

    اس وقت 3rd floor کی غیر قانونی تعمیر کے بعد میرے ground floor کی قیمت اور بقایاfloor rd 1,2,3 کی قیمت برابر ہوگئ ہے۔لہذا میں نے بلڈر کو اس کے بقایا جات دینے سے انکار کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ سودا کرکے فرق نکالنا غیر اخلاقی اور شاید غیر شرعی ہے۔

    حالانکہ مجھے یقین دلایا تھا اور اپنی لاگت cost بھی بتائی تھی ground+2 کی۔اور پھر منافع زیادہ کمانے کی لالچ میں مجھ سے کی گئی زبان سے پھر کر 3rd floor بنادیا تاکہ average cost کم ہو جائے اور مجھے بیچے گئے پورشن میں بھی منافع کی شرح %20 بڑھ جائے۔میرے ساتھ کئے گئے اس زبانی معاہدے (گواہ موجود)کی خلاف ورزی اور مجھے واضح طور پر انویسٹمنٹ کے بدلے میں فائدہ بالکل نہ نظرآنے کے یقین کے بعد اور انکا اپنی غلطی اور خلاف ورزی پر نڈر ہونے پرکیا میرا ان کو سودے کی بقایا رقم جوکہ %20 ہے نہ دینا غیر شرعی ہے۔ بروکر اور چند دوسرے احباب بھی میری حمایت کررہے ہیں۔اور مارکیٹ میں بھی یہ رائج ہے،کہ بلڈرز difference دیتے ہیں؟

    سائل :محمد طاہر :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مسئولہ میں خریدار کے پاس دو ہی اختیار ہیں یا تو اسی حالت میں سودا قبول کرلے یا پھر سودا کینسل کرکے اپنی پوری رقم بلڈر سے واپس لے لےاوریہ عمارت بلڈر کو واپس کردے ۔قیمت کا فرق لینا خریدار کے لیے جائز نہیں ۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اس طرح کے سودے کو فقہی اصطلاح میں بیع استصناع کہا جاتا ہے اور بیع استصناع میں مستصنع(خریدار)کو خیار رؤیت حاصل ہوتا ہے ۔کیونکہ مستصنع بغیر دیکھے صانع (فروخت کنندہ) سے مصنوع (جس چیز کوتیار کروانا مطلوب ہو)خریدتا ہے۔تواسےمصنوع دیکھنے پر خیار حاصل ہوتا ہے ۔اگر مصنوع مستصنع کے بتائے ہوئے اوصاف کے مطابق نہ ہوئی تواسے اختیار ہوتا ہے یا تو مصنوع جیسی ہے ویسی ہی قبول کرلے یا پھر اسے لوٹا کر اپنی رقم واپس لے لے ۔ اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ قیمت کا فرق کرکے مصنوع قبول کرے۔پس صورت ِمسئولہ میں جب بلڈر نے خریدار کے بتائے ہوئے اوصاف کے مطابق تعمیرات نہیں کی تو اب خریدار کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو اسے ایسے ہی قبول کرلے یا پھر اپنی رقم واپس لے کر عمارت بلڈر کو واپس کردے۔خریدار کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عمارت بھی رکھ لے اور قیمت کا فرق بلڈر سے لے لے ۔ البتہ اگر خریدار اور بلڈر یہ سودا کینسل کردیں اوربلڈراپنی عمارت اور خریدار اپنی رقم واپس لے لے تو پھر جس قیمت پر چاہیں دونوں باہم رضا مندی سے جدید عقد کرلیں ۔

    بدائع الصنائع میں ہے : صُورَةُ الِاسْتِصْنَاعِ فَهِيَ أَنْ يَقُولَ إنْسَانٌ لِصَانِعٍ - مِنْ خَفَّافٍ أَوْ صَفَّارٍ أَوْ غَيْرِهِمَا -: اعْمَلْ لِي خُفًّا، أَوْ آنِيَةً مِنْ أَدِيمٍ أَوْ نُحَاسٍ، مِنْ عِنْدِك بِثَمَنِ كَذَا، وَيُبَيِّنُ نَوْعَ مَا يَعْمَلُ وَقَدْرَهُ وَصِفَتَهُ، فَيَقُولُ الصَّانِعُ: نَعَمْ ترجمہ:بیع استصناع کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص (ایجاب کرتےہوئے)موچی یا بڑھی وغیرہ جیسے کاریگر سے کہے کہ تواپنی طرف سےاتنے ثمن کے عوض میرے لیے یہ چمڑے کا موزہ بنا یا میرے لیےچمڑے یا پیتل کا برتن بنااور مبیع کی نوع ،مقداراوروصف وغیرہ بھی واضح کردی جائے(کہ چیز اس نوع کی اتنی مقدار کی اور اس اس وصف کی ہوگی)پس صانع اس کے جواب میں(قبول کرتے ہوئے) ہاں کہہ دے ۔(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،جلد:5،ص:2،دارالکتب العلمیہ بیروت)

    اسی میں ہے :أَمَّا الْمُسْتَصْنِعُ فَمُشْتَرِي مَا لَمْ يَرَهُ؛ فَكَانَ لَهُ الْخِيَارُ، وَإِنَّمَا كَانَ كَذَلِكَ ترجمہ:بہرحال مستصنع تو جیسےمشتری جب تک مبیع نہ دیکھےاسے خیار ہوتا ہے اسی طرح اسے (مستصنع کو) بھی خیار ہوگا۔(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،جلد:5،ص:4،دارالکتب العلمیہ بیروت)

    خیار رؤیت کے حوالے سے ھدایہ میں ہے: ومن اشترى شيئا لم يره فالبيع جائز، وله الخيار إذا رآه، إن شاء أخذه بجميع الثمن "وإن شاء رده"ترجمہ:اور کوئی شخص بن دیکھے کچھ خریدے تو یہ عقد درست ہے اور جب وہ مبیع کو دیکھے گا تو اسے اختیار ہوگا یا تو پورے ثمن کے ساتھ مبیع قبول کرلے یا چاہے تو رد کردے(الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی،جلد:3،ص:34، دار احیاء التراث العربی بیروت )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19شوال المکرم1442 ہ/31مئی 2021 ء