walda paanch bete aur chaar betiyan
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوگیا ورثاء میں والدہ،5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں۔ وراثت میں زمین ہےجسکی مقدار 14 ایکڑ 7 کنال 12 مرلہ ہے۔ ایک ایکڑ میں 8 کنال ہوتے ہیں اور ایک کنال میں 20 مرلے۔ کس کے حصے میں کتنی زمین آئے گی شرعی تقسیم فرمادیں۔
سائل: فیض : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو امور متقدمہ ثلاثہ علی الارث (مرحوم کےکفن دفن کےاخراجات ، قرض ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر کسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنے)کےبعد مالِ وراثت کے کل 16 حصےکئےجائیں گے،جس میں سے بیوی کو 2 حصے،ہر ایک بیٹے کو 14 اور ہر بیٹی کو 1 حصے ملے گا۔
ٹوٹل مرلے: 2392
بیوی : 299مرلے
ہر بیٹا: 299مرلے
ہر بیٹی: 149.5مرلے
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
میت کے سب بیٹے بیٹیاں عصبات ہونے کے سبب مابقی مال لے لیں گےبایں طور کہ ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے گا۔جیساکہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
السراجی فی المیراث میں ہے: والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54 مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06 ذوالقعدہ 1444 ھ/27 مئی 2023 ء