والد سے پہلے بیٹے کے انتقال پر اس کی اولاد کا حصہ
    تاریخ: 18 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1062

    سوال

    میرے بھائی کا انتقال میرے والد سے 10 سال قبل ہوا ۔ اسکی بیوہ اور اولاد کا شرعا حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:علی اکبر:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ورثاء میں سے جومورث کی وفات کے وقت حیات تھے وہ اپنے اپنے حصوں کے مطابق وراثت کے شرعی حقدار ٹھہرے گے ، اور جس بیٹے کا انتقال پہلے ہوا ،اسکے ورثاء (بیوی، بچوں )کو والدین کی وراثت سے کچھ حصہ نہ ملے گا۔کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه: ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔

    ( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لیکن اگر دیگر ورثاء اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کومالِ وراثت میں سے کچھ دیں تو یہ ان کی طرف سے احسان و صلہ رحمی کے طور پر ہوگا ، اور ایسے لوگ اللہ کریم کے پسندیدہ ہیں،قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل جاننے کے لئے تمام ورثاء کی تفصیل لکھ کر بھیجیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19جمادی الثانی 1442 ھ/01 فروری 2021 ء