سوال
والد اورچھ بیٹوں نے مل ایک مکان خریدا جسکا طریقہ یہ تھا کہ سب بیٹے کما کر والد کو دیتے تھے جس سے گھر کے اخراجات بھی چلتے تھے اور پیسے بھی جمع کیے پھر مکان خریدا ۔مکان خرید کر سب نے رضامندی سے والدہ کے نام کردیا ۔ پھر والد اور والدہ نے وہ مکان ایک بیٹے (ندیم)کے نام کردیا ۔جب بڑے بھائی نے والد سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ندیم نے میرے 5 لاکھ کا قرضہ اتارا ہے اس لئے اسکے نام کردیا ۔یعنی سب اسی میں رہتے رہے الگ سے قبضہ نہیں دیا۔پھر والد ،والدہ تادمِ آخر اسی مکان میں رہتے رہے اور یہ بھائی بھی اپنی فیملی کے ساتھ رہتا رہا۔ اسکے بعد والد اور والدہ کا انتقال ہوگیا ۔ پہلے والدہ کا پھر والد کا۔ جس وقت مکان ایک بیٹے کے نام کیا گیا تھ اس وقت اسکی قیمت 30 لاکھ تھی اور آج 14 سال بعد اسکی قیمت 70 لاکھ ہے ۔ اتنا عرصہ تک وہ بیٹا اس مکان کا کرایہ فی مہینہ 12 سے 16 ہزار روپےبھی لیتا رہا جو کہ 20 لاکھ روپے بنتے ہیں۔پھر ان بیٹوں میں سے ایک بیٹے (علیم)کاابھی ایک ماہ پہلے انتقال ہوگیا ہے ۔اس صورت حال میں میرے چند سوالات ہیں:
1:یہ گھر کس کا ہوگا ؟ والد کا یا سب کا مشترکہ؟
2:کیاشریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ والد باقی بیٹوں کو چھوڑ کر صرف ایک بیٹے کے نام کردے۔؟
3:جس بیٹے کے نام کیا اس نے 14 سال جو کرایہ لیا جوکہ 20 لاکھ بنتا ہے اسکا شرعی حکم کیا ہوگا؟
4: اس وقت ورثاء کی تفصیل یہ ہے ،چھ بھائی(جاوید، پرویز،ندیم،نوید،علیم، جمشید)اور ہماری دو بہنیں(فرزانہ، مہوش)تھیں جس میں سے ایک بھائی علیم کا انتقال 2020 میں ہوا والد اور والدہ کے انتقال کے بعد۔ اسکے ورثاء میں ایک بیوی(رومانہ)تین بیٹے(مزمل، عبادالرحمان،احتشام )اور ایک بیٹی(رمشاء)ہے۔سب کا شرعی حصہ کتنا ہوگا تفصیلا تحریر فرمادیں۔
سائل:جاوید: کراچی
نوٹ: فریقِ ثانی ندیم کو دارالافتاء طلب کیا گیا اور وہ دارالافتاء آئے اور انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ مکان والد نے انکے نام نہیں کیا بلکہ انہوں نے والد سے خریدا ہے اور اسکے ڈاکومنٹس اسکے پاس موجود ہیں ، دارالافتاء کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ وہ کاغذات لے کر آئیں اور ان سے فون نمبر بھی لے لیا لیکن تقریبا ایک ماہ گزرنے کے باوجود وہ کاغذات نہ لاسکے پھر کئی بار دارالافتاء کی جانب سے انہیں کال کی گئی تاکہ کاغذات لے کر حاضر ہوں تاہم انہوں نے ایک بار بھی فون اٹھا کر اسکا جواب نہیں دیا اس لئے دارالافتاء نے فریقِ اول محمد جاوید کے بیان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ فتوٰی جاری کیا ہے اگر بعد میں دلائل سے کوئی اوربات ثابت ہوجاتی ہے تو جواب مختلف ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
:یہ گھر خاص والد کا ہوا کیونکہ جب تمام بیٹے اپنی اپنی رقم والد کی ملک کرتے رہے اور والدنے ان پر قبضہ بھی کرلیاتو وہ خاص والد کی ملک ہوئی لہذا اس رقم سے خریدا گیا مکان خاص انہی کی ملکیت ہیں۔ پھر انکی وفات کے بعد یہ تمام مال انکی وراثت میں تقسیم ہوگا۔کیونکہ تملیک ِعین بلا عوض ھبہ ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ،اگر قبضہ کرلیا تو ھبہ تام ہوجاتا ہے اور جو چیز ھبہ کی گئی ہے اسکی قابض کی ملک ہوجائے گی۔اور اسکی وفات کے بعد اسکی وراثت میں تقسیم ہوگی۔
قبضہ سے ھبہ تام ہوجاتا ہے جیسا کہ تنویرالابصارمیں ہے:اسی میں ہے: تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
2:والدین جو کچھ زندگی میں اولاد کو دیں،وہ والدین کی طرف سے اولاد کے لئے ہبہ (یعنی بطور تحفہ)ہے، اور اولاد کے مابین ہبہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام بیٹوں اوربیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل زیادہ دیں تو اس میں بھی حرج نہیں جبکہ دوسرےکو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابل زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسےزیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔
صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا)مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)
پھر یہاں صورت مسئولہ میں والد کا یہ عمل بلاشبہ جائز ہے کیونکہ والد نے بیٹے کے احسان کا بدلہ احسان سے چکایا ہے۔ البتہ یہ بات قابلِ وضاحت ہے کہ اس ھبہ کے بعد قبضہ کاملہ ہو یا نہیں؟تو سائل کے سوال سے واضح ہے کہ مکان پر الگ سے قبضہ کاملہ نہ ہوابلکہ محض نام کرنے کے بعد بھی والد اور والدہ اور یہ بھائی اپنی فیملی کے ساتھ تادمِ آخر اسی مکان میں رہتے رہے لہذا یہ مکان بدستور باپ کی ملکیت ہے جو اسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
3:اس کا مدار صورتِ مذکورہ پر ہے یعنی یہ سارا کرایہ وراثت میں شامل کرکے تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
4: تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 56حصے کئے جائیں گے جس میں سے جاوید، پرویز، ندیم، جمشید، نوید میں سے ہر ایک کو الگ الگ 8،8 حصے ملیں گے۔ اور فرزانہ اور مہوش میں سے ہر ایک کو الگ الگ 4،4حصے ملیں گے۔اسے طرح علیم کے ورثاء میں سے رومانہ کو 1 حصہ، مزمل، عباد اور احتشام میں سے ہر ایک کو 2،2 حصے اور رمشاء کو 1 حصہ ملے گا۔
نوٹ: اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 24 ذوالحج 1441 ھ/15 اگست 2020 ء