سوال
دارالافتاء میں ایک لیٹر موصول ہوا جس میں درج ذیل تحریر موجود تھی ،اور اس میں لڑکی اور لڑکے کے دستخط موجود تھے۔ تحریر یہ تھی
''تحریر کیا جاتا ہے کہ میں صہبا دختر ممتاز احمد خانزادہ عمران خان عرف سنی سے دوگواہوں کی موجودگی میں اپنی مرضی،ہوش و حواس سے خلع(طلاق)لے رہی ہوں ، اور عمران خان عرف سنی مجھے طلاق دے گا۔اسکے بعد سنی کے گھر والے مجھ سے یا میرے گھر والوں میں سے کسی سے کوئی رابطہ نہ رکھیں ،اور نہ ہی جہیز کا مطالبہ کریں گے۔'' مذکورہ صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر لڑکے نے زبان سے کسی طرح کے الفاظ ابھی یا اس سے پہلے کبھی ادا نہیں کئے تو مذکورہ صورت میں لڑکی کو طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ طلاق کے لیے وقوع طلاق (طلاق واقع کرنا) لازم اوروقوع بغیر ایقاع کے نہیں ہوسکتا یعنی طلاق کے لیے ضروری ہے کہ لفظا یا معنا طلاق کی نسبت عورت کی طرف کی جائے بغیر نسبت کے طلاق واقع نہ ہوگی ۔لڑکے کا مذکورہ دستاویزات پر دستخط کرنا محض وعدہ طلاق کی صورت ہے اور وعدہ طلاق ،طلاق نہیں ہے۔
سیدی اعلیٰ حضرت نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ و جد الممتار میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہے چناچہ آپ رقمطراز ہیں :وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد۔ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :اگر تو نماز نہ پڑھے تو تجھے دو طلاق دوں گا'' تو یہ طلاق دینے کا وعدہ ہوا نہ کہ تعلیق طلاق ہوا، جبکہ طلاق کے وعدہ سے طلاق نہیں ہوتی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ،جلد 13 ص 159)
خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ دستاویزات کی روشنی میں خلع یا طلاق کچھ واقع نہ ہوئی ۔
ہاں اگر واقعی لڑکا طلاق دینا چاہتا ہے اورلڑکی طلاق لینا چاہتی ہے تو دستاویز پر ایسی تحریر لکھے یا لکھوائے جس سے طلاق واقع ہوجائے مثلا میں فلانہ بنت فلانہ کو طلاق دیتا ہوں ۔یالڑکا زبانی طلاق دے دے جس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی وہ نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔ اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاقوں کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ۔ عدت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء:ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ: 228)
[دوسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق : 04)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم 1440 ھ/20 جون2019 ء